Seerat-ul-Nabi 64

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ جب بت منہ کے بل گرنے لگے

سیرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ جب بت منہ کے بل گرنے لگے
آخر نبی رحمت صلّی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
“عباس!ابوسفیان کو اپنے خیمے میں لے جاؤ اور صبح انھیں میرے پاس لےآنا-”
صبح کو اذان ہوئی تو لوگ تیزی سے نماز کے لیے لپکنے لگے-ابوسفیان لشکر میں یہ ہل چل دیکھ کر گھبرا گئے-انھوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا-
“ابوالفضل!یہ کیا ہورہا ہے؟”
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا:
“لوگ نماز کے لیے جارہے ہیں -”
حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ دراصل اس خیال سے گھبرائے تھے کہ کہیں اُن کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا گیا ہو-پھر انہوں نے دیکھا،لوگ رسول اللہ ﷺ کے وضو کا پانی جمع کررہے ہیں پھر انہوں نے دیکھا،اللہ کے رسول رکوع کرتے ہیں تو سب لوگ بھی آپ کے ساتھ رکوع کرتے ہیں اور آپ سجدہ کرتے ہیں تو لوگ بھی سجدہ کرتے ہیں –
نماز کے بعد انھوں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا:
“اے عباس!محمد(ﷺ)جو بھی حکم دیتے ہیں ،لوگ فوراً اس کی تعمیل کرتے ہیں -”
جواب میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بولے:
“ہاں !اگر آنحضرت ﷺ لوگوں کو کھانے پینے سے روک دیں تو یہ اس پر بھی عمل کریں گے-”
اس پر ابوسفیان بولے:
“میں نے زندگی میں ان جیسا بادشاہ نہیں دیکھا-نہ کسری ایسا ہے،نہ قیصر…اور نہ بنی اظفر کا بادشاہ-”
یہ سن کر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“یہ بادشاہت نہیں ،نبوت ہے-”
پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ انھیں لےکر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئے-آپ ﷺ نے ابوسفیان کو دیکھ کر فرمایا:
“ابوسفیان!افسوس ہے!کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم”لَا اِلهَ اِلّا اللهُ” کی گواہی دو-”
ابوسفیان فوراً بولے:
“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں -”
ان کے ساتھ بدیل بن ورقاء اور حکیم بن حزام بھی ایمان لے آئے…یہ لوگ واپس نہیں گئے تھے…کہیں رک کر حالات کا انتظار کرنے لگے تھے-
اس کے بعد ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول!لوگوں میں امان اور جاں بخشی کا اعلان کرادیجیے-”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“ہاں !جس نے ہاتھ روک لیا(یعنی ہتھیار نہ اٹھایا) اسے امان ہے اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا اسے امان ہے اور جو شخص تمہارے گھر میں آجائے گا اسے بھی امان ہے…اور جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہوجائے گا اسے بھی امان ہے-”
ساتھ ہی آپ نے ابورُدیحہ رضی اللہ عنہ کو ایک پرچم دے کر فرمایا:
“جو شخص ابورُدیحہ کے پرچم کے نیچے آجائے گا، اسے بھی امان ہے-”
پھر آپ نے ابوسفیان،حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء کے بارے میں ہدایت فرمائی:
“ان تینوں کو وادی کے تنگ حصے کے پاس روک لو تاکہ جب اللہ کا لشکر وہاں سے گزرے تو وہ اس کو اچھی طرح دیکھ سکیں -”
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا…اس طرح تمام قبائل حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے سامنے سے گزرے-جو قبیلہ بھی ان کے سامنے سے گزرتا، تین مرتبہ نعرۂ تکبیر بلند کرتا-اس عظیم لشکر کو دیکھ کر ابوسفیان رضی اللہ عنہ بول اٹھے:
“اللہ کی قسم ابوالفضل!آج تمہارے بھتیجے کی مملکت بہت زبردست ہوچکی ہے-”
جواب میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“یہ سلطنت اور حکومت نہیں بلکہ نبوت اور رسالت ہے-”
پھر جب نبی کریم ﷺ لوگوں کے قریب پہنچے تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا:
“اے گروہِ قریش!یہ محمد ﷺ اپنا عظیم الشان لشکر لےکر تمہارے سروں پر پہنچ گئے ہیں …اس لیے اب جو میرے گھر میں داخل ہوجائے گا، اسے امان ہوگی…”
یہ سن کر قریش کہنے لگے:
” کیا تمہارا گھر ہم سب کے لیے کافی ہوجائے گا؟”
ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے گا اسے بھی امان ہے،جو مسجد حرام میں داخل ہوجائے گا اسے بھی امان ہے اور جو حکیم بن حزام کے گھر میں پناہ لےگا اسے بھی امان ہے اور جو ہتھیار ڈال دےگا اسے بھی امان ہے-”
یہ سنتے ہی لوگ دوڑ پڑے…اور جسے پناہ کی جو جگہ بھی مل سکی…وہاں جاگھسے-اس طرح مکہ معظمہ جنگ کے بغیر فتح ہوا-یہ تاریخ انسانیت کا منفرد واقعہ ہے کہ ایک مغلوب قوم بغیر کشت و خون کے اپنے جانی دشمنوں پر غالب آگئی اور اس نے کوئی انتقام نہ لیا ہو-
اس عام معافی کے اعلان کے باوجود گیارہ آدمی ایسے تھے جن کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے حکم فرمایا تھا کہ انہیں قتل کردیا جائے، یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی خانہ کعبہ کا پردہ بھی پکڑ کر کھڑا ہوجائے،اسے بھی قتل کیا جائے-ان میں عبداللہ بن ابی سرح بھی تھے-یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رضاعی بھائی تھے یہ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے،اس لیے قتل نہیں کئے گئے-دوسرے عکرمہ بن ابوجہل تھے، یہ بھی بعد میں مسلمان ہوگئے تھے- غرض ان گیارہ میں سے زیادہ تر مسلمان ہوگئے تھے،اس لیے قتل ہونے سے بچ گئے-
اس روز کچھ مشرکوں نے مقابلہ کرنے کی بھی ٹھانی- ان میں صفوان بن امیہ،عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن عمرو شامل تھے-یہ لوگ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خندمہ کے مقام پر جمع ہوئے-خندمہ مکہ معظمہ کا ایک پہاڑ ہے-ان لوگوں کے مقابلے کے لیے نبی کریم ﷺ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا-اس مقابلے میں اٹھائیس کے قریب مشرک مارے گئے-باقی بھاگ نکلے-
آخر نبی کریم ﷺ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے…آپ ﷺ اس وقت اپنی اونٹنی قصوی پر سوار تھے-آپ ﷺ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے-آپ ﷺ نے یمنی چادر کا ایک پلہ سر پر لپیٹ رکھا تھا…اور عاجزی اور انکساری سے سر کو کجاوے پر رکھا ہوا تھا…اس وقت آپ ﷺ فرمارہے تھے:
“اے اللہ!زندگی اور عیش صرف آخرت کا ہے-”
حضور اکرم ﷺ کداء کے مقام سے مکہ میں داخل ہوئے-یہ مقام مکہ کی بالائی سمت میں ہے…مکہ میں داخل ہونے سے پہلے آپ ﷺ نے غسل بھی فرمایا تھا-آپ ﷺ نے شعب ابی طالب کے مقام پر قیام فرمایا-یہ وہی گھاٹی تھی جس میں قریش نے آپ ﷺ کو تین سال تک رہنے پر مجبور کردیا تھا…اور وہ تین سال مسلمانوں کے لیے انتہائی دکھ اور درد کے سال تھے-جب حضور اکرم ﷺ شہر میں داخل ہوئے اور مکہ کے مکانات پر نظر پڑی تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی-
مکہ میں حضور اکرم ﷺ پیر کے دن داخل ہوئے…جب آپ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کی تھی،وہ بھی پیر ہی کا دن تھا-آخر حضور ﷺ حرم میں داخل ہوئے… ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے برابر چل رہے تھے…اور آپ ﷺ ان سے باتیں کررہے تھے-پھر آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اپنی اونٹنی پر بیٹھے بیٹھے ہی کعبہ کے سات طواف کیے-حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے-ان چکروں کے دوران آپ ﷺ نے ہاتھ مبارک سے حجرِ اسود کا استیلام کیا یعنی بوسہ دینے کا اشارہ کیا-
اس وقت کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے-عرب کے ہر قبیلے کا بت الگ الگ تھا-حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں اس وقت ایک لکڑی تھی،جس سے ہر بت کو ہلاتے چلے گئے…بت منہ کے بل گرتے چلے گئے… اس وقت آپ ﷺ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 81 تلاوت فرمارہے تھے…اس کا ترجمہ یہ ہے:
“حق آیا اور باطل گزر گیا اور واقعی باطل چیز تو یونہی آنی جانی ہے-”
طواف کے دوران حضور اکرم ﷺ ہُبل بت کے پاس پہنچے،قریش کو اس بت پر بہت فخر تھا،وہ اس کی عبادت بہت فخر سے کیا کرتے تھے-یہ قریش کے سب سے بڑے بتوں میں سے ایک تھا-آپ ﷺ نے وہ لکڑی اس بت کی آنکھوں پر ماری…پھر آپ ﷺ کے حکم سے بت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا-
اس وقت حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے کہا:
“اے ابوسفیان!ہبل توڑ دیا گیا…تم اس پر فخر کیا کرتے تھے-”
یہ سن کر حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ بولے:
“اے ابن عوام!اب ان باتوں کا کیا فائدہ-”
پھر حضور ﷺ مقام ابراہیم پر پہنچے-اس وقت یہ مقام خانہ کعبہ سے ملا ہوا تھا… اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
“میرے کندھوں پر کھڑے ہوکر کعبہ کی چھت پر چڑھ جاؤ اور چھت پر بنی خزاعہ کا جو بت ہے…اس پر چوٹ مارو-”
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور چھت پر چڑھ کر بت کو ضرب لگائی…یہ آہنی سلاخوں سے نصب کیا گیا تھا…آخر اکھڑ گیا-حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو اٹھا کر نیچے پھینک دیا- اب حضور اکرم ﷺ نے حکم فرمایا:
“بلال!عثمان بن ابی طلحہ سے کعبہ کی چابیاں لے آؤ-“

اپنا تبصرہ بھیجیں