72

جانور نیوٹرل ہوتا ہے، اس میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی، جنرل باجوہ نے کہا فضل الرحمٰن کو ڈیزل نہ کہنا، عمران خان

تیمرگرہ(ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جانور نیوٹرل ہوتا ہے کیونکہ اس میں اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی‘انسان اچھائی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے‘آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجھ سے کہاہے کہ فضل الرحمن کو ڈیزل نہ کہنا ‘ اپوزیشن رہنما نوٹوں کے تھیلے لے کر ارکان اسمبلی کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں‘ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے‘ تحریک عدم اعتماد کا میچ کپتان جیتے گا، پھر دیکھنا ان سے میں کیا سلوک کرتا ہوں‘ خطرناک ڈیزل‘ شکل سے نظر آنے والا ڈاکو اور شوباز تین چوہے میرا شکار کرنے کیلئے نکلے ہیںمگر ان کا شکار ہوجائے گا‘ فضل الرحمن، زرداری اور شہباز شریف کی ایک ہی یارکرسے وکٹیں گرائوں گا، تینوں میرے نشانے پر آ گئے ہیں‘ حکومت تو چھوٹی چیز ہے جان بھی دینی پڑے توان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا‘نواز شریف سب سے بڑا بزدل، بھگوڑا اور جھوٹا ہے‘یہ بھگوڑاجھوٹ بول کر بھاگ گیاکہ برطانیہ نہ گیاتومرجاؤں گا‘اس نے لفافہ صحافت اور چھانگامانگاکی سیاست شروع کی ‘ فون کرکے ججوں سے فیصلے لئے ‘فضل الرحمن کہتا ہے کہ اقتدار میں آ کر ادارے کو ٹھیک کریں گے‘ کیا امریکا اور یورپی یونین کو خدمت کی یقین دہانی کرانے والا ڈاکوؤں کا گلدستہ فوج کو ٹھیک کرےگا؟ بلاول تو بچہ ہے ‘اس کی کانپیں ٹانگتی ہیں ‘ ملکی سالمیت کیلئے مضبوط فوج ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو تیمر گرہ، لوئر دیر میں عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جب وزیراعظم عمران خان خطاب کرنے آئے تو پی ٹی آئی کے جلسے کے شرکاء نے ’ڈیزل ڈیزل‘ کے نعرے لگائے۔جلسے کے شرکا کے نعروں پرعمران خان نے کہا کہ ابھی میری جنرل باجوہ سے بات ہورہی تھی، انہوں نے کہاکہ عمران دیکھیں فضل الرحمان کو ڈیزل نہ کہنا‘ وزیراعظم کا کہناتھاکہ میں تو جنرل باجوہ نہیں کہہ رہا لیکن عوام نے اس کا نام ڈیزل رکھ دیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک پر 35 سال سے حکومت کرنے والے آج اکٹھے ہو گئے ہیں ، دنیا میں ہمارے سبز پاسپورٹ کی عزت انہی کی وجہ سے نہیں ہے‘نوازشریف کے دور میں مودی ہماری افواج کو دہشت گرد کہہ رہا تھا لیکن نواز شریف نے ایک بار بھی مودی کی مذمت نہیں کی اور دفتر خارجہ کے ترجمان کو بھی بھارت کے خلاف بیان دینے سے روک دیا،وزیراعظم نے کہا کہ فضل الرحمن کہتا ہے کہ اقتدار میں آ کر ادارے کو ٹھیک کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر آج پاکستان محفوظ ہے تو وہ پاک فوج کی وجہ سے ہے‘ ماضی کے حکمرانوں نے تمام ملکی ادارے تباہ کر دیئے، عدالتوں پر حملے کئے گئے، ججوں کو خریدا گیا، چیف جسٹس کو ڈنڈوں سے بھگایا گیا اور فون کال کرکے ججوں سے فیصلے لئے گئے، میڈیا کو لفافے اور رشوت دی جاتی تھی۔نواز شریف سب سے بڑا بزدل، بھگوڑا اور جھوٹا ہے، پہلے جھوٹ بولا کہ مشرف کے ساتھ 10 سال کا کوئی معاہدہ نہیں کیا اور اس بار بیماری کا بہانہ بناکر باہر چلا گیا، نواز شریف نے چھانگا مانگا کی سیاست کو فروغ دیا، ارکان کی قیمتیں لگائیں اور جنرل آصف نواز کو رشوت دینے کی کوشش کی، کھٹمنڈو میں مودی سے چھپ کر ملاقات کی اور نواز شریف نے ہی کشمیریوں پر مظالم ڈھانے والے مودی کو شادی پر بلایا۔فضل الرحمن تو وہ شخص ہے جس نے امریکی سفیر سے کہا کہ مجھے بھی موقع دے دیں، آصف علی زرداری ملک کی سب سے بڑی بیماری ہے، میمو گیٹ میں امریکا کو خط لکھا کہ مجھے بچا لے، چھوٹا شوباز شریف کہہ رہا ہے کہ یورپی یونین کی مذمت کرکے میں نے غلط کیا ہے، یہ ٹائی، قمیض اور سوٹ پہن کر کہتا ہے کہ مجھے بھی خدمت کا موقع ملنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکوئوں کے گلدستے کو میرا پیغام ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے والا ہے، اپنے خواب بھول جائو، اب ایک ہی یارکر سے تینوں کی وکٹیں گرائوں گا،ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو سوشل میڈیا پر امریکی صدر کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھا ہو گا اس نے ہاتھ میں پرچی پکڑی ہوئی تھی اور اس کی’’کانپیں ٹانگ‘‘ رہی تھیں اور گھبرایا ہوا بیٹھا تھا کہ کہیں آقا ناراض نہ ہو جائے اور اس کی چوری کا پیسہ نہ پکڑا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلاول تو بچہ ہے اس کی کیا بات کروں، سندھ سے لوگوں کو پیسے دے کر اسلام آباد لایا اور پھر آخر میں اس کا پیغام کیا تھا کہ ’’کانپیں ٹانگ‘‘ رہی ہیں، آگے آگے دیکھئے تو نئے نئے الفاظ نکل کر سامنے آئیں گے، کبھی ’’کانپیں ٹانگ رہی ہوتی ہیں، کبھی چینی اگتا ہے اور کبھی بارش آتا ہے‘‘، بلاول کو تو زبردستی لیڈر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں