25

جامعہ کراچی دھماکا، خودکش حملہ آور خاتون کے خاندان نے تصدیق کردی

جامعہ کراچی میں خودکش دھماکے کی ذمہ داری دہشتگرد علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ نے قبول کرلی ہے، تشویشناک بات ہے کہ پہلی دفعہ اس دہشتگرد جماعت کی طرف سے ایک خاتون کو خود کش حملہ آور کے طور پر استعمال کیا گیا، جامعہ کراچی میں خودکش حملہ آور خاتون کے خاندان کو خاتون کی سرگرمیوں کے بارے میں پتا نہیں تھا، خودکش حملہ آور خاتون کے خاندان نے مجید بریگیڈ کی طرف سے جاری تصویر کو کنفرم کردیا ہے کہ یہ خاتون ہمارے خاندان سے ہیں، کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے کہا کہ جامعہ کراچی میں دہشتگردی کا واقعہ افسوسناک ہے، بی ایل اے مجید بریگیڈ نے جامعہ کراچی میں حملے کیلئے وہاں کی ایک طالبہ کو استعمال کیا، جامعہ کراچی میں پڑھانے والے چینی باشندوں کی سکیورٹی کیلئے انتظام کیا گیا تھا، ہمارے پاس خودکش حملے خصوصاً کسی خاتون کے ذریعہ خودکش حملے کی کوئی اطلاع نہیں تھی،
جامعہ کراچی میں خودکش حملہ آور خاتون کے خاندان کے مطابق حملہ آور خاتون ڈیڑھ ماہ پہلے اپنی بہن کی شادی کیلئے کیچ آئی تھی، خاتون خودکش حملہ آور مزید تعلیم کیلئے چھ ماہ پہلے اپنے شوہر کے ساتھ کراچی شفٹ ہوئی تھی، خاتون ایم فل کررہی تھی جبکہ ان کے ڈاکٹر شوہر کوئی ڈپلومہ کررہے تھے، خاندان کے دیگر افراد سرکاری عہدوں پر فائز ہیں، خاتون کے والد کچھ عرصہ پہلے تک بلوچستان یونیورسٹی تربت کے رجسٹرار رہے ہیں، ان کے ایک بھائی تحصیلدار جبکہ ایک بھائی ڈپٹی منیجر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں