45

توہین صحابہ واہل بیت ترمیمی بل 2023

توہین صحابہ واہل بیت ترمیمی بل 2023
تحریر:مفتی گلزار احمد نعیمی
گزشتہ دنوں پارلیمنٹ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ298 A میں ترمیم کرتے ہوئے توہین صحابہ و اہل بیت اور امہات المؤمنین کے مرتکب شخص کی سزا 10سال یا عمر قید کر دی، اس سے قبل یہ سزا تین سال تھی.اس ترمیم کے محرکات کیا ہیں اور اس کے پیچھے مقاصد کیا ہیں یہ تو ترمیم لانے والے ہی جانتے ہیں۔لیکن میرے خیال میں اس ترمیم نے ایک دفعہ پھرماحول کو قدرے کشیدہ کر دیا ہے۔
ہم اہل سنت ہیں اور ہمارے اکابر نے صحابہ کرام ،امہات المؤمنین اور اہل بیت اطہار کی توہین کو کفر قرار دیا ہے۔حتی کہ ہمارے فقہ حنفی کے ایک جلیل القدر امام و محدت حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے ان پاک ہستیوں پر غضبناک ہونے والے کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔اسی طرح صحابہ کرام کو ایذا ہہنچانا سرکار دوعالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا پہنچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے اور سرکار کو ایذا پہنچانا اللہ تعالی کو ایذا پہنچانا ہے۔نتیجہ واضح ہے جو اللہ اور رسول کو ایذا پہنچائے وہ مسلمان نہیں ہے.امام طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ نے فرمایا من سب اصحابی فعلیہ لعنت اللہ والملائکۃ و الناس اجمعین(المعجم الکبیر: حدیث نمبر 12709)
حضرت عبد اللہ بن مغفل روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم تاجدار کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو انہیں بدگوئی کا نشانہ نہ بنانا
اس طرح اہل سنت کا نقطہ نظر بالکل واضح ہے۔مگر اس ترمیم نے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے۔مثلا کہ اس قانون میں ترمیم کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟کیاملک میں توہین صحابہ کا وسیع سطح پر ارتکاب ہو رہا ہے ؟ لوگ تین سال کی سزا کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے۔توہین صحابہ کے ارتکاب کی وجہ سے ملک میں مسالک باہم دست وگریباں ہیں۔؟ اس طرح کے دیگر سوالات۔میرے نزدیک فی الحال ملک میں ایسی کوئی ایمرجنسی نہیں ہے.اس لیے میرے خیال میں اس ترمیم کی ضرورت نہیں تھی۔موجودہ صورت حال کو اگر دیکھا جائے تو ملک میں دہشت گردی اور انتہاء پسندی دوبارہ زور پکڑ رہی ہے، ملک شدید معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ہے،سیاسی بحران نے ملک کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ہمیں دھشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانی چاہیے تھی نہ کہ بین المسالک لڑائی کو فروغ دینے کی۔
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس ترمیم کو اتنی عجلت میں کیوں منظور کیا گیا؟اسکو اتنا مخفی کیوں رکھا گیا بلکہ میں آج ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں تھا،اینکر پرسن کہہ رہے تھے کہ اس ترمیمی بل کے محرک جماعت اسلامی کے ممبر پارلیمنٹ مولانا اکبر چترالی نے بتایا کہ ہم تو اس ترمیم کو خفیہ رکھنا چاہتے تھے تاکہ کسی کو پتہ ہی نہ چلے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بل نیک نیتی پر نہیں بلکہ بدنیتی پر مبنی ہے۔بل لانے والوں کے مقاصد توہین صحابہ کو روکنا نہیں ہے بلکہ اس بل کے پیچھے کچھ دیگر خفیہ مقاصد ہیں.ایسے نازک مسائل کو رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ دن کے اجالے میں زیر بحث لانا چاہیے۔آپ خود اندازہ کر لیں کہ اس بل کو پاس کرتےوقت اسمبلی میں ارکان کی حاضر تعداد 25 سے زیادہ نہیں تھی۔مطلب 342 کےایوان میں سے صرف پچیس ارکان نے اس بل کو منظور کیا اور ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ ایوان نے متفقہ طور پر اس بل کو منظور کیاگیا ہے۔اسمبلی ویسے بھی مکمل نہیں ہے۔ایک بڑی جماعت جس کے اسمبلی اراکین کی تعداد ایک سو سے تجاوز کرتی امسبلی میں نہیں ہے۔اسی جماعت کے چند باغی اراکین کو خرید کر اپوزیشن بنا دی گئی ہے۔میرا نقطہ نظر ہے کہ اس پر بہت سیر حاصل بحث ہونی چاہیے۔توہین کیا ہے اسکی بھی جامع تعریف کی ضرورت ہے۔توہین اور اختلاف کا فرق واضح کیا جانا بہت ضروری ہے۔
اس بل کو اسلامی نظریاتی کے پاس بھیجنا چاہیے،اسی طرح اسکو ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر بھی زیر بحث لانا چاہیے۔حیرانگی کی بات ہے کہ جماعت اسلامی کے ایک اہم رہنماء ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل ہیں انہوں نے بھی کسی اجلاس میں ذکر نہیں کیا کہ ہم یہ ترمیمی بل لارہے ہیں۔میں ملی یکجہتی کونسل کے صدر جناب ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر سے بھی گزارش کروں گا کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے اس پر ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے اور اس پر بحث کی جائے۔اسلامی نظریاتی کونسل اور ملی یکجہتی کونسل کی تجاویز کی روشنی میں ترامیم کی جائیں۔ایسا اتفاق رائے پیدا کیا جائے جو تمام مسالک کے لیے قابل قبول ہو۔کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے اور گستاخی کا راستہ بند کرنے کے ساتھ ساتھ دھشت گردی اور انتہاء پسندی کا راستہ بھی روکا جائے۔ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اسکو سماجی بحران میں ہمیں مزید نہیں جھونکنا چاہیے۔آگ لگانا تو بہت آسان ہے مگر اسے بجھانےمیں بہت وقت لگتا یے لیکن پھر بھی مکمل نہیں بجھتی۔ہمیں آگ لگانے والوں کے ہاتھوں کو روکنا ہوگا۔ہمیں معروف کا نمائندہ بننا چاہیے منکر کا نہیں۔کوئی مسلک من حیث القوم گستاخی کو روا نہیں سمجھتا اہل سنت کے ہاں تو توہین حرام ہے ہی لیکن اہل تشیع کے جلیل القدر مراجع نے بھی مقدسات اہل سنت کی توہین کو حرام قرار دیا ہے اس لیے میری تمام مکاتب فکرکے علماء اور دانشوروں سے گزارش ہے کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔کسی قسم کی عجلت پسندی کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔متشدد گروہوں کی بالادستی بندر کے ہاتھ میں استرا دینے کے مترادف ہے۔اس سے اجتناب بہر صورت ضروری ہے۔امن و امان کی بگڑتی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں دانشمندانہ فیصلے کرنے ہونگے۔ہم اس سے قبل دھشت گردی کے ایک مہیب دریا کو عبور کر چکے ہیں۔ہماری قیمتی جانیں دھشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ہماری فوج اور سیکورٹی کے دیگر داروں کے جوان ہم کھو چکے ہیں۔ہم پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکے ہیں مزید اٹھانے کی قوم میں ہمت نہیں رہی۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
طالب دعاء
گلزار احمد نعیمی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں