Kashmir dispute and United Nations 30

تنازع کشمیر اور اقوام متحدہ کا ایجنڈا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دوچار نہیں سولہ قراردادوں کی شکل میں پوری عالمی برادری کی اس پختہ ضمانت کے علی الرغم کہ وادی کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع خطہ ہے، بھارت کی مودی حکومت ایک سال پہلے کشمیر کی متنازع حیثیت کو ختم کرنے کے بعد اب اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے ہٹوانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔ تاہم مقبوضہ وادی میں اسے جس بدترین ناکامی کا سامنا ہے اس نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو مرکز توجہ بنادیا ہے اور خود بھارت میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب دینا مودی سرکار کیلئے محال ہے۔ اس صورت حال سے چھٹکارے کی خاطر وہ جس طرح ہاتھ پاؤں مار رہی ہے اس کا ایک مظہر اس کی جانب سے ادارہ اقوام متحدہ میں اس مضحکہ خیز مطالبے کا پیش کیا جانا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے سے کشمیر کو ہٹا دے تاکہ پاکستان کو جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں اس معاملے کو اٹھانے سے روکا جاسکے جس کا آغاز رواں ماہ کے آخر میں نیو یارک میں ہوگا۔ معاملے کی حقیقی پوزیشن واضح کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے گزشتہ روز کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے سے کشمیر کو ختم کرنے کا مطالبہ کرکے بھارتی نمائندے یا تو خود کو یا اپنے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ منیر اکرم نے حقائق کی روشنی میں صراحت کی ہے کہ سلامتی کونسل کا ایجنڈا مستقل قواعد و ضوابط کا پابند ہے اور محض ایک رکن ریاست کی خواہش پر تبدیل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے اس موقف کی سچائی کہ سلامتی کونسل بحیثیت ادارہ بھارتی دعوے کو درست نہیں سمجھتا اس امر سے عیاں ہے کہ وہ ہر سال مقبوضہ کشمیر کو اپنے ایجنڈے پر ’’بھارت اور پاکستان کے سوالات‘‘ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی مستقل تعیناتی بھی اسی امر کا ایک ٹھوس مظہر ہے۔ بھارتی موقف کا بودا پن اقوام متحدہ کے ایک سفارت کار کی جانب سے بھارتی دعوے کو ’’احمقانہ‘‘ قرار دیے جانے سے پوری طرح عیاں ہے جس نے اپنے اس تبصرے کی وجہ یہ بتائی کہ کوئی ایجنڈا آئٹم تب ہی ختم ہوسکتا ہے جب تنازع حل ہوجاتا ہے اور سلامتی کونسل کے اتفاق رائے سے فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اسے ایجنڈے سے ہٹادیا جائے۔ ایک اور سفارت کار نے بھارت کی بوکھلاہٹ کو یوں واضح کیا کہ افسوس کی بات ہے کہ جو ملک کونسل میں شامل ہونے کے لیے اتنا بے چین ہے وہ اس کے کام کرنے کے بنیادی قواعد سے بھی واقف نہیں۔ سات دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی کشمیر کے متنازع علاقہ ہونے کے موقف کی یہ اصولی برتری اس کے سو فی صد درست ہونے کا یقینی ثبوت ہے تاہم عملی صورت حال بہرکیف اطمینان بخش نہیں۔جبر و تشدد کے ہتھکنڈوں سے بھارت نے کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے کسی قابل لحاظ دباؤ کا سامنا اسے نہیں کرنا پڑرہا ہے۔ کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں پر بھارت سے اسی طرح عمل کرائے جیسے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے معاملات حل کرائے گئے تھے۔ اس کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنا اور عالمی فورموں پر روایتی طریقوں کے بجائے غیر معمولی حکمت عملی اور تدابیر کا بروئے کار لانا ضروری ہے۔ آزاد کشمیر کے قائدین کی یہ تجویز کہ بین الاقوامی برادری تک اپنا موقف پہنچانے اور اپنا مقدمہ خود پیش کرنے کا اختیار انہیں دیا جائے صورت حال میں یقینا نمایاں اور مثبت تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔ وسیع تر مشاورت سے کشمیر پر نئی لیکن متفقہ قومی حکمت عملی کے لیے کل جماعتی کانفرنس کا بلایا جانا وقت کی ضرورت ہے لہٰذا اس سمت میں جلد پیش رفت کی جانی چاہیے اور رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس حکمت عملی کے مؤثر اظہار کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں