60

تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کا تاثر، چیف جسٹس کا ازخود نوٹس آج سماعت کے لئے مقرر

اسلام آباد(نمائندہ نیوز) تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کا تاثر، چیف جسٹس کا از خود نوٹس، آج سماعت کیلئے مقرر، مداخلت سے شواہد ضائع ہونے ، پراسیکیوشن پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ، احتساب قوانین میں تبدیلی نظام انصاف کو نیچادکھانے کے مترادف،چیف جسٹس نے آئین کی بالادستی یقینی بنانے کیلئےاز خود نوٹس لیا،ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق اندیشہ ہے یہ مداخلت مقدمات کی کارروائی، استغاثہ کے اداروں کے قبضے میں شواہد کیساتھ چھیڑ چھاڑیا غائب کرنے،اہم عہدوں پر افسران کے تبادلے یا تعیناتیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں بعض اعلی ٰ حکومتی شخصیات کی مبینہ مداخلت کے خدشہ کے پیش نظرملک میں قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے از خود نوٹس لیتے ہوئے شکایات کا جائزہ لینے کے لئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل لارجر بنچ آج بروز جمعرات دوپہر ایک بجے کیس کی سماعت کرے گا،سپریم کورٹ کے ترجمان شاہد حسین کمبوئیو کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے میڈیا پر آنے والی خبروں اور سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج کی نشاندھی پر استغاثہ کے اختیارات، فرائض کی انجام دہی اورآزادی میں موجودہ حکومتی بعض افرادکی مبینہ مداخلت، مختلف عدالتوں میں زیر التواء فوجداری معاملات کی تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے عمل پر اثر انداز ہونے کے خدشہ کے پیش نظر از خود نوٹس لے لیاہے ، پریس ریلیز کے مطابق اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس طرح کی مداخلت مقدمات کی کارروائی، استغاثہ کے اداروں کے قبضے میں موجود شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑیا شواہد کوغائب کردینے اوراہم عہدوں پر افسران کے تبادلے یا تعیناتیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے جس طرح کی میڈیا رپورٹیں آرہی ہیں ان کے مطابق احتساب کے قوانین میں ترمیم جیسے مبینہ اقدامات سے ملک میں فوجداری نظام انصاف کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور ایسا کوئی بھی اقدام بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا،ایسے اقدامات مجموعی طور پر معاشرے کو متاثر کرتے اور حکومت پر عوام کے اعتماد کو ختم کرتے ہیں،حکومتی مداخلت سے شواہد ضائع ہونے اور پراسیکیوشن پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے، احتساب قوانین میں تبدیلی نظام انصاف کو نیچادکھانے کے مترادف ہے،اس لئے فاضل چیف جسٹس ،عمر عطا بندیال نے میں قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے از خود نوٹس لیتے ہوئے شکایات کا جائزہ لینے کے لئے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں