26

ترقی یونہی ہوتی رہے گی

46 / 100

بے ربط کر کے رکھ دئیے اس نے حواس بھی جتنا وہ دور لگتا ہے اتنا ہے پاس بھی کانٹوں بھری یہ زندگی بے کیف تو نہیں وابستہ اس کے ساتھ ہے پھولوں کی باس بھی قدم قدم پے سراب تو ہے مگر یہ بھی ان کے لئے جو پیاسے ہوں ۔ زندگی تو مزاحمت کرنے یا مزاحمت کو سر کرنے کا نام ہے۔ نمو کا زور ہی بیج سے پھوٹنے والے ننھے منے کومل پودے کو زمین سے سر نکالنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان آبلوں سے پائوں کے گھبرا گیا تھا میں جو خوش ہوا راہ کو پرخار دیکھ کر ۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ پائوں پکڑنے لگتے ہیں۔ کچھ رستے ہموار سے بھی کامیاب وہ ہیں کہ جن کے مقدر میں چلنا چلنا اور بس چلنا لکھ دیا گیا شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک۔ اختتام سفر کھلا ہم پر وسعت دشت تھی سراب کے ساتھ۔ ترقی کا ایک ہی راز ہے اور وہ ہے مثبت سوچ۔ رجائیت پسندی اور ضبط و تحمل اپنے اپنے عادات و اطوار پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے ایک شخص کی بات کبھی نہیں بھولی کہ اس نے جنید جمشید کے بارے میں کہا تھا ۔ کہنے والے نے مجھے کہا سعد !یہ شخص آتا ہے تو ایسے لگتا جیسے خوشبو چھوڑ گیا ہے۔ یہ واقعتاً اجلے پن کی نشانی ہے۔ میں یہاں اسمبلی کے حالیہ جھگڑے کا تذکرہ کر کے آپ کی طبیعت مکدر نہیں کرنا چاہتا تاہم یہ اسمبلی کی سیاہ ترین گھڑیاں تھیں۔ اعتزاز احسن نے اچھی بات کی کہ کون کہتا ہے کہ ایوان کا تقدس پامال کیا گیا۔ وہ تقدس تو کب کا ختم ہو چکا اب تو اپنے باطن کا اظہار تھا کہا جا رہا ہے کہ ممبران کو احساس ہو گیا ہے ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا: خطائوں کی چھبن فوراً کہاں محسوس ہوتی ہے ندامت کی طرف آتا ہے دل آہستہ آہستہ المیہ یہ ہے کہ اس نظام نے لائق فائق اور ذہین لوگوں کو اجڈ اور نالائق لوگوں کے ہاتھوں میں دے کر بے بس کر رکھا ہے ۔ کسی تفصیل میں نہیں جائوں گا مگر سب کچھ جان کر رونا تو آتا ہے۔ہلکی پھلکی ایک بات منیر نیازی نے کی تھی مگر بہت بامعنی ہے ہم بیٹھے تھے تو کسی نے کہا نیازی صاحب آپ ہمارا سرمایہ ہیں نیازی صاحب مسکرائے اس بات سے تو ڈرتا ہوں کہ اس قوم کو سرمایہ خورد برد کرنے کی عادت ہے۔ صد شکر کہ اپوزیشن لیڈر کی تقریر چوتھے دن مکمل ہو گئی سات ارکان پر پابندی بھی ختم یہ بھی اچھا ہی کیا۔ ان سات لوگوں کے اندر رہنے یا باہر رہنے سے کیا فرق پڑتا تھا۔ اچھا ہوا کہ سمجھوتہ ہو گیا۔ سب ایک جیسے ہیں تو پھر لڑائی کسی، یہ سات کو ممتاز کر کے باقی 70کو بچانے کی ایک کوشش ضرور تھی ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد بھی واپس مگر اس بات کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا کہ اسمبلی نے عوام کا اعتماد تقریباً کھو دیا ہے۔ چلیے ایک دو اچھی خبریں بھی تھیں جو لطف دے گئیں ایک تو شہباز گل کا ارشاد گرامی ہے کہ پاکستان یونہی ترقی کرتا رہے گا اس یونہی کا جواب نہیں: تونے یونہی محسوس کیا ہے ورنہ دل میں کچھ بھی نہ تھا بس اک تیری چاہت تھی اور وہ بھی غیر شعوری تھی ایسی ہی بات جناب فیض احمد فیض نے کہی تھی کہ پاکستان کے حالات میں یہی خوبی ہے کہ یہ اسی طرح چلتے رہیں گے ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس ملک میں دھوپ چھائوں کا کھیل اسی طرح چلتا رہا آمریت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ رہا بلکہ کس قدر دلچسپ امر ہے کہ یہاں آمریت میں جموریت اور جمہوریت میں آمریت دیکھی گئی۔ جس عوام کی لوگ بات کرتے ہیں ان کو یہ لوگ اقتدار کی خوشبو تک سونگھنے نہیں دیتے اس حوالے سے آمریت پھر بھی قدرے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ بلدیاتی الیکشن اور پھر اس کے نتائج سے ان کو ان کے اختیارات منتقل کرنے تک کیا کیا رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں پچھلے دور میں اٹھارہ اٹھارہ وزارتیں حکمران اپنے خاندان تک محدود کئے ہوئے تھے موجودہ حکومت نے تو بیک جنبش قلم بلدیاتی اداروں ہی کو خیر باد کہہ دیا۔ تھوڑا سا غور کریں تو سسٹم کو دیکھ خوف آنے لگتاہے بعض افراد اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ بڑے بڑے پھنے خاں ریٹائرڈ وہاں پانی بھرتے نظر آتے ہیں یہ لینڈ ٹائی کون ہو یا شوگر باس اور تو اور سندھ حکومت کا سنتے ہیں کہ کوئی کینیڈا میں بیٹھ کر ان کا نظام چلا رہا ہے دوسرے لفظوں میں حکومتیں بھی ان بااثر افراد کو استعمال کرتی ہیں اور استعمال ہوتی ہیں یہ جو مافیاز ہیں یہ سٹیٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر سٹیٹ کو چلانے والے ان کے ساتھ مل جاتے ہیں حکومت چاہے تو ایسے لوگوں کے لئے ایک جنرل موسیٰ خاں یا ایک امیر محمد خاں بہت ہے مگر اس پیارے وطن کی حیثیت ان کے لئے ایک دکان کی ہے سیزن لگایا اور پیسے باہر لے گئے اب ان کا بھی دائو لگ گیا جن کو شریفوں نے چلنے نہیں دیا تھا۔ کالم کچھ ادھر ادھر ہو گیا ہے ایک دلچسپ خبر خوابوں کے بادشاہ منظور وسان کی بھی ہے۔ فرماتے ہیں عید سے پہلے قربانی دیکھ رہا ہوں ان کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کو برا دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر یہ بات درست ہے تو پھر یہ ہنگامہ آرائی کرنے والے کسی کی طرف سے پے رول پر ہیں۔ بہرحال شہباز شریف قافیہ پیمائی کرتے رہے کہ عوام کی جیب خالی تو بجٹ جعلی دوسری طرف اسد عمر فرماتے ہیں کہ معیشت کے لئے مشکل فیصلے کرنے پڑے سوچنے کی بات کہ کس کی معیشت اشرافیہ کی معیشت تو واقعتاً درست ہو جائے گی یہ مشکل فیصلے صرف غریبوں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے چلیے اصغر یزدانی نے ایک خوبصورت شعر بھیجا ہے: اک رات وہ گیا تھا جہاں بات روک کر اب تک رکا ہوا ہوں وہیں رات روک کر چلتے چلتے ہمارے دوست استاد شاعر باقی احمد پوری نے بھی ہمیں موجودہ صورتحال پر شعر بھیج دیا ہے آپ بھی لطف اٹھائیں: مفلوج ہے دماغ سبق یاد کیا کریں اب ظالموں کو غم ہے کہ برباد کیا کریں بہرحال ہماری ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا ترقی یونہی ہوتی رہے گی ابراہیم ذوق نے کہا تھا: دنیا نے کس کا راہ فنا میں دیا ہے ساتھ تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں