mufti gulzar ahmed aneemi 176

تربیت اولاد. از:مفتی گلزار احمد نعیمی

7 / 100

تربیت اولاد
از:مفتی گلزار احمد نعیمی

( چیئر مین جماعت اہل حرم پاکستان)
( پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد)

انسان کے ابتدائی مراحل سے لے کر بڑھاپے تک انسان تربیت کے مختلف مراحل سے گذرتا ہے ایک بچہ جب ایک گھرانے میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ سب کچھ سیکھ کرنہیں آتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے گھر کے ماحول اور معاشرے سے سیکھتا ہے۔اور یہی ابتدائی مراحل اسکی کی زندگی کی بنیاد ہوتے ہیں

پہلا مرحلہ

ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہے جہاں سے بچہ سیکھنا شروع کرتا ہے۔ مذہب ہو یا ادب ثقافت ہو یا رسم و رواج ماں کو ہمیشہ سے خاندان اور خاندانی نظام میں اہمیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔بچہ اصل میں اپنی ماں سے ہی سیکھتا ہے وہ تمام عمر کے لیے اس کے دماغ میں اور تربیت میں نقش ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال اس کی اسی سالہ زندگی کی بنیا د بناتے ہیں ۔اس لیے سب سے اولین فرض ماں کا بنتا ہے کہ وہ بچے کی اچھی تربیت کرے تاکہ مستقبل میں بچہ تربیت یافتہ ہو ماں بچے کے سامنے آئیڈیل ہو۔ اسکی روحانی تربیت کرے نیک اعمال کی رغبت دلائے خاوند کے سامنے ادب کے ساتھ بات کرے لڑائی جھگڑا نہ کرے کیونکہ بچے کے سامنے اگر لڑائی جھگڑا ہو گا تو اس پر بر ا اثرپڑے گا۔ اسلیے بچے کو ماں کے مدرسہ سے ایسی تربیت مل جائے کہ زندگی کے باقی مراحل سکول یونیورسٹی کے لیول میں جب وہ بچہ داخل ہو تو سب کی نظروں میں مثالی اور تربیت یافتہ ہواور ماں باپ کی پہچان بنے ۔

دوسر ا مرحلہ

دوسرا مرحلہ سکول کا آجاتا ہے آج کل کے دور میں جو سکول زیادہ متعارف ہیں یا جن کا سٹینڈرز بہت ہائی ہے سچ بات کہوں تو وہ بچے کی تربیت نہیں وہ اسکو مغربی زندگی کے رنگ میں ڈالتے ہیں۔یہاں سے ہی بچے کی تربیت خراب ہوتی ہے پھر وہ ماں باپ کا نافرمان ہو جاتا ہے کیونکہ اس کی تربیت نہیںہوئی بلکہ اسکو ماڈرن بنایا گیااور اسکے ذمہ دار وہ ادارہ اساتذہ اور والدین ہیں کیونکہ انہوں نے ہی اسکی تربیت کے لیے ایسے سکول یا ادارے کا انتخاب کیا ۔

تیسرامرحلہ

: یونیورسٹی لیول کا ہو تا ہے اب دو مراحل ’’ ماں کا مدرسہ اور سکول سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اب اس کو مزید تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یونیورسٹی لیول میں وہ خود ہی تربیت کے قابل ہوتاہے۔جو کمی یا نقص اس لیول میں رہ جاتا ہے وہ مخلص اساتذہ دور کر دیتے ہیںاور یونیورسٹی کا ماحول اس کو بہت کچھ سیکھنے پر ابھارتا ہے ۔

چوتھا مرحلہ

: عملی زندگی کا ہے جب انسان عملی زندگی میں داخل ہوتاہے تو صحیح تربیت ہی اس کی اصلاح کرتی ہے پھر وہ حلال اور حرام میں فرق کرتا ہے دوسروں کے ساتھ ہمدردی کے جذبات اس کے دل میںراسخ ہوتے ہیںوہ عدل سے کام لیتا ہے اور عملی زندگی بھی اسکی تربیت کر رہی ہوتی ہے۔وہ اپنا کام ایمانداری سے کرتا ہے ناجائز کام اور رشوت سے نفرت کرتا ہے یہی اصل تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات کا تا ج پہناتی ہے۔انسان جس معاشرے میں رہتا ہے اس کے ماحول کا اور اس میں رہنے والے لوگوں کے تخیلات کا اسکی زندگی پر اثر ہوتا ہے۔ وہ صبح سے لیکر شام تک لوگوں سے سیکھتا رہتا ہے جیسے دوست و احباب ہونگے ویسے ہی اسکے خیالات و جذبات ہونگے انسانی زندگی کی ضروریا ت میں سے ایک آدمی کا اپنے لیے دوست کا اختیار اور انتخاب بھی ہے تا کہ بھولنے پر وہ اسے یا د دلائے یا غافل ہونے پر اسے متنبہ کرے اور نہ جاننے پر اس کو سکھلائے چنانچہ دوست اپنے ہم نشین و ساتھی کا عنوان و نشان ہوتا ہے جیسا کہ عربی شاعر طرفہ ابن عبد نے اس کا نقشہ یوں کھینچا۔
عن المرء لا تسأل وأ بصر خلیلہ
وکل قرین با المقارن یقتدی
’’آدمی کے بارے میں مت پوچھو کہ وہ کیسا ہے اس کے دوست کو دیکھ لو تو اس آدمی کے بارے میں بھی پتہ چل جائے گا۔ ہر دوست اپنے ساتھی کی ہی اقتداء کرتاہے ‘‘
صحبت کی اسی اہمیت کے پش نظر نیک و صالح صحبت کو اختیار کیا جائے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے ’’اے اہل ایمان اللہ سے ڈرتے رہو اورراست بازوں کے ساتھ رہو‘‘ ( التوبہ ، ۹۔۱۱۹)
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وا ٰلہٖ وسلم نے فرمایا :
یعنی ’’ اچھے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی خوشبو بیچنے والا ہو اور بر ے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے کو ئی آگ کی بھٹی دھونکنے والا ہو خوشبو بیچنے والے کے پاس بیٹھو گے تو وہ تمہیں اس میں سے کچھ (تحفہ کے طور پر ) دے دے گایا تم اس سے خرید سکو گے ( یا کم ازکم ) اس کی عمدہ خوشبو سے تو ضرور لطف اندوز ہونگے اور آگ کی بھٹی دھونکنے والے کے پاس بیٹھو گے تو وہ یا تو ( چنگاریاںاڑا کر) تمہارے کپڑے جلا دے گا یا (کم از کم ) ایک ناگوار قسم کی بو تو بہر حال تمہیں برداشت کرنی پڑے گی‘‘(متفق علیہ )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں