Raheeq ahmed abbasi articles 387

تحریک لبیک کے معاملے پر حکومتی و ریاستی ذمہ داران سے التماس ۔ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی

تحریک لبیک کے معاملے پر حکومتی و ریاستی ذمہ داران سے التماس ۔ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی
تحریک لبیک کے لوگ جو کچھ کر رہے ہیں وہ کسی طور قابل قبول نہیں ۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ کسی کو ملک و قوم یرغمال بنانے کی چھوٹ نہیں دینا چاہئے ۔ امن عامہ کو ہر حال میں قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست پر فرض ہے ۔ لیکن ایسے معاملات میں ملوث کسی جماعت کو بین کردینا اور کالعدم قرار دینا مسئلے کا اولیں حل نہیں ۔ اس سے آپ اس جماعت کو زیر زمین دھکیل دیتے ہیں ۔ ایسے میں وہ زیر زمین جماعت بسا اوقات بیرونی طاقتوں کے ہاتھ آلہ کار بن جاتی ہے۔۔پاکستان میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ حکومت کے مذاکراتی وزراء اس مسئلے کو یہاں تک لانے میں بری الذمہ نہیں کی تحریک لبیک سے دو دفعہ مذاکرات میں وہ باتیں طے کی گئی جن پر عمل درآمد حکومت کے لئے ممکن ہی نہیں تھا ان معاہدوں کی وجہ سے ان کی عوام میں پذیرائی ہوئی اور ان کو مزید حوصلہ ملا ۔ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں کہ مشرف نے لال مسجد آپریش کیا وہ اس کی حکومت کے دھڑن تختہ کا باعث بنا لیکن لال مسجد آج بھی آپریش میں مارے جانے والے غازی صاحب کے بھائی کے قبضے میں ہے جن کے نظریات آج بھی وہ ہی ہیں ۔ طالبان کے ساتھ دہائیوں کی جنگ کے بعد امریکہ جیسی سپر پاور کو انہی سے مذاکرات کرنے پڑے۔ ۔ سپاہ صحابہ نے کیا کچھ نہیں کیا اور ان کے خلاف کتنے آپریشن ہوئے لیکن آج بھی ان کی جماعت نئے نام سے نہ صرف قائم ہے بلکہ ان کا ایک نمائندہ صوبائی اسمبلی میں بیٹھا ہے ۔ آپ سے بہتر کون جانتا ہے کہ مذہبی نظریات پر قائم تحریکوں کو صرف طاقت سے نہین کچلا جا سکتا
لہذا حکومت و ریاست سے گزارش ہے کہ طاقت کے انہتائی استعمال کے بجائے متبادل راستے ڈھونڈیں ۔ مثلا اکابر علماء اور اہل سنت مدارس کے سربراہان پر مشتمل ایک مذاکراتی بورڈ تشکیل دیں جو تحریک کی شوری سے مذاکرات کر کے ان کو اس بات پر قائل کرے کہ وہ تصادم کا راہ ترک کر کے آئین و قانون کے مطابق اپنی فکر و نظریات کا پرچار کریں ۔ ان کو سمجھایا جائے کہ حکومت سے مطالبہ کرنا جائز ہے لیکن ریاست سے گن پوائنٹ پر اپنی مرضی کا فیصلہ کروانا نہ اسلام کے مطابق ہے نہ آئین و قانون کے مطابق ۔۔ احتجاج کریں لیکن ملک جام کرنے ، راستے بند کرنے لوگوں کے جان و مال کو۔نقصان پہچانے وغیرہ اور توڑ پھوڑ وغیرہ کے غیر قانونی طریقے اختیار نہ کریں ۔ ان کو اس طرف لایا جائے کہ یہ ملک ایک آئین کے تحت قائم ہے ، اس میں ایک پارلیمنٹ ہے لہذا وہ اپنا ایجنڈا لیکر کے اگلے انتخابات میں حصہ لے اور پارلیمنٹ میں آکر اپنا موثر کردار ادا کریں ۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔ اس طرح کوئی درمیانی راستہ نکال کر مسئلے کو حل کیا جائے۔
یہاں میری ان تنظیمات، جماعتوں اور اکابر علماء و زعماء سے بھی گزارش ہے جو عشق رسول اور محبت رسول کے علمبردار ہیں پوری عمر اسی کا درس دیتے رہیں ہیں۔۔۔۔ آن کی تنظیمیں ادارے جماعتیں خانقاہین اسی نام کی کمائی سے قائم ہیں ، کہ آپ بھی ہوش میں آئیں ۔۔ ایل سنت نوجوانوں کی ایک غالب اکثریت آپ کی بے عملی اور اس مسئلے پر خامشی کی وجہ سے آپ کے حلقہ اثر سے نکل کر تحریک لبیک کی حامی بن چکی ہے ۔ آپ اپنی تنظیم و جماعت کو بچا رہیں ہیں لیکن اہل سنت کا پورا خرمن ہی آگ کے دہانے پر ہے ۔۔ خدارا تماش بینی سے نکلیں اور اپنا کردار ادا کریں ۔ اگر یہ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیکر اس کے خلاف بڑا ریاستی آپریشن ہوتا تو اس سے طالبان کا ایک بریلوی ورزن لانچ ہوگا جس کے نتائج سے آپ کے مسلک کو آئندہ دہائیوں تک سامنا کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں