43

تحریک لبیک اور سرکاری پراسس

57 / 100

اب حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ وہ تحریک لبیک کو کچھ عرصہ تک ’سرکاری پراسس‘ میں الجھائے رکھے اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں ٹی ایل پی کے مطالبات پر مِن و عَن عمل کسی بھی حکومت کے لیے آسان نہیں ہے ۔

حکومت نے گزشتہ ہفتے جو کارروائی کی یا یوں کہیے جو واردات ڈالی ، اس نے ٹی ایل پی کو ایک ایسی حقیقت بنا دیا ہے جسے نظر انداز کرنا اب مشکل ہو گا۔ حکومت عمران خان کی ہو یا کوئی اور ، اب یہ گروہ اس کے ناک میں دم کیے رکھے گا۔

ٹی ایل پی کے بزرگ رہنما کی موت کے بعد اس تنظیم کے کمزور ہونے کا تأثر موجودہ حکومت یا پھر درپردہ اصل سرکار نے حالیہ تماشا لگا کر زائل کر دیا ہے اور سعد رضوی کو باقاعدہ ’آئی کون‘ کی صورت متعارف کروا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ نئے رہنما کی گرفتاری کے دن کو اس کا ’ آفیشل لانچنگ ڈے‘ قرار دے رہے تھے۔

حالیہ ’ریفریشنگ سیشن‘ کے بعد اب نئے رہنما کو اندازہ ہو چکا ہے کہ ریاست اسے چھوئے گی تو ملک جام ہو جائے گا، پولیس اپاہج ہو جائے گی اور ریاست کی رٹ کی موت واقع ہو جائے گی۔ حکومت اور وزراء بڑھکوں کے بعد ترلوں پر اتر آیا کریں گے ۔ وزیر اعظم اپنی تقریر میں کہے گا ”ہمارا اور کالعدم لوگوں کا مقصد ایک ہے ، طریق مختلف ہے۔“

اس تماشے سے حاصل ہونے والے ’کانفیڈنس‘ کو اب قوم نہ جانے کب تک بھگتے گی۔ و ما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں