42

تحریک عدم اعتماد پر 14 روز میں اجلاس نہ بلانا آئین شکنی ہے، عدالت جائینگے، متحدہ حزب اختلاف

اسلام آباد، لاہور( نمائندہ ، ایجنسیاں) اپوزیشن رہنمائوں نے تحریک عدم اعتماد کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر کے اقدام کو معاملہ لٹکانے کی کوشش قرار دیا ہے، ان کہنا ہے کہ آئین کے تحت ریکوزیشن پر 14 دن میں اجلاس بلانا لازم، اسپیکر جانبدار ہوچکے مرضی کی تشریح کررہے ہیں، وہ وزیر اعظم کو بچانے کیلئے ٹائیگر فورس بن گئے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے 14روز میں اجلاس نہ بلانا آئین شکنی ہے، عدالت جائینگے، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا عدم اعتماد کو لٹکایا نہیں جا سکتا، آپ کوسامناکرناہوگا،جو آئین توڑے گا وہ اسپیکر ہو، وزیراعظم ہو یا کوئی اور آرٹیکل6کا سامنا کرنا پڑےگا، سعد رفیق نے کہا سلیکٹیڈ کے حکم پر اسپیکر آئین کو موم کی ناک نہیں بنا سکتا،مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئینی و قانونی شقوں سے روگردانی آئین شکنی ہے جو ملک سے غداری اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہے ، شیری رحمٰن نے کہا اسپیکر آئین پامال کرنے کے جرم ہونگے، سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا کہ اسپیکر نے آرٹیکل54کی خلاف ورزی کی ہے، پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمداللہ نے کہا کہ اسد قیصر اسپیکر نہیں بلکہ بنی گالہ کا ٹائیگر ثابت ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تحریک عدم اعتماد اسپیکر کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے بلائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن رہنمائوں نے اسے آئین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بزدل کپتان عدم اعتماد کے ووٹ سے بھاگ رہا ہے، جو کپتان جیتنے والا ہو وہ نہیں بھاگتا، آئین میں ہےکہ عدم اعتماد پیش ہونےکہ 14دن میں اسپیکرکو اجلاس بلانا ہے، عدم اعتماد سے متعلق آئین شکنی پر ہم سپریم کورٹ جارہے ہیں، اسپیکر کے خلاف متحدہ اپوزیشن کے متفقہ فیصلےکے تحت چلیں گے، ہم کپتان کو ملک کی قسمت کے ساتھ نہیں کھیلنے دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان نے آئین توڑا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین پاکستان پر عمل نہیں کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عدم اعتماد ایک جمہوری اور آئینی حق ہے، اسپیکر پہلے دن سےجانبدار تھا، آج بھی جانبداری کامظاہرہ کررہاہے، اسپیکر نے اجلاس بلانے سے متعلق آئین کو فالو نہ کیا تو ہم دھرنا دینگے، اجلاس بلانے سے متعلق آئین شکنی پراسپیکر کو جواب دینا ہوگا، اسپیکر صاحب کی جس طرح کی شخصیت ہے پورا یقین ہے وہ آئین شکنی کرینگے، لوگ اقتدار کو چھوڑ کر اپوزیشن میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواہ سعد رفیق نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس کا 21مارچ کے بعد انعقاد غیر آئینی اورغیر قانونی ہے۔ آئین کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ جانا ہوگا۔ سلیکٹڈ کےحُکم پر اسپیکر آئین اور قانون کو موم کی ناک بناسکتا ہے نہ من مرضی کی تشریح کرسکتا ہے۔ سیاسی وفاداریوں کی جبری تبدیلی کروانے والوں نے اقتدار کیلئے آئین و ریاست کو داؤ پر لگا دیا ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ 21مارچ کو اجلاس نہ بلایا تو اسپیکر آئین شکنی کے مرتکب ہونگے۔شیری رحمٰن نے ایک بیان میں کہا کہ اپوزیشن کی ریکیوزیشن کی مدت21مارچ کو پوری ہو رہی ہے،اجلاس بلانے میں تاخیر آئین کی خلاف ورزی ہے، اسپیکر کے پاس اجلاس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں،اسپیکر اپنی جماعت کی عددی پوزیشن پوری ہونے کے انتظار میں آئین کیخلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اسپیکر وزیر اعظم کو بچانے کیلئے تحریک انصاف کے ٹائیگر فورس کا کردار ادا نہ کریں، وہ آئین کو پامال کرنے کے مجرم ہونگے اور ان پر آرٹیکل 6 لاگو ہوگا، سپریم کورٹ نے بھی حکم دیا ہے کہ عدم اعتماد کا معاملہ آئین کے مطابق ہونا چاہئے۔عدم اعتماد کسی وزیراعظم کو ہٹانے کا آئینی راستہ ہے، اسپیکر اسکو روکنے کیلئے غیر آئینی اقدامات نہ اٹھائیں، اسپیکر عمران خان کو بچانے کیلئے آئین شکنی نہ کریں۔ سیکرٹری جنرل نیئر بخاری نے کہا کہ ’ آرٹیکل 54(3) کے تحت 14روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جانا چاہیے تھا۔ فیصل جاوید جو کابینہ کا حصہ ہی نہیں کیسے کہہ سکتا ہے کہ اجلاس 27کو ہوگا۔ یہ اختیار تو اسپیکر قومی اسمبلی کا ہے۔ اسپیکر نے آرٹیکل 54 کی خلاف ورزی کی ہے۔ ڈی سی اور چیئرمین سی ڈی اے سے پوچھا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں اجلاس کیلئے کوئی جگہ موجود نہیں؟ پی ڈی ایم کے ترجمان حافظ حمداللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسپیکر25مارچ کو اسمبلی اجلاس طلب کرکے آئین سے بغاوت کے مرتکب ہوئے۔ اسد قیصر اسپیکر نہیں بلکہ بنی گالہ کا ٹائیگر ثابت ہوئے ہیں۔ اسپیکر او آئی سی کانفرنس کی آڑ میں آئین شکن ثابت ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم غیرآئینی فیصلے کومسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر اسد قیصر آپ جتنے تاخیری حربے استعمال کریں عمران نیازی کو نہیں بچا سکیں گے۔ مسلم لیگ ( ن ) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 54کی کلاز 3کے تحت ایک چوتھائی ارکان ریکوزیشن درخواست جمع کرائیں تو اسپیکر اجلاس بلانے کا پابند ہیں۔ایک بیان میں ترجمان ن لیگ کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 54میں لکھا ہے کہ سپیکر14روز سے زائد تاخیر نہیں کرسکتا اپوزیشن نے 8مارچ کو ریکوزیشن جمع کرائی تھی، اس طرح سے آخری دن 22مارچ بنتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب نے 22مارچ سے پہلے اجلاس نہ بلایا تو ائین شکنی ہو گی آئین شکنی کے بارے میں آرٹیکل 5واضح ہے اور آرٹیکل 6میں سزا لکھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں