41

بیورو کریسی : فیصلہ سازی میں تاخیر کی وجہ

نیشنل مینجمنٹ کورس کرنے والے افسران کے وفد نے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد سے ملاقات کی جس میں انہیں کچھ ہدایات بھی دی گئیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بیوروکریسی کی فیصلہ سازی میں تاخیر سے عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے۔ بیورو کریسی عدالتوں سے ملنے والی رہنمائی حاصل کرے تاکہ فراہمی انصاف ممکن ہو۔ بیورو کریسی کا کام پالیسیز پر عمل کرتے ہوئے عوامی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ اچھے ایگزیکٹو افسران کے بغیر گڈ گورننس کا قیام ناممکن ہے۔ بیورو کریسی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، شفافیت اور قانون کے مطابق ادا کرے۔ بلاشبہ یہ وہ سنہری ہدایات ہیں جن پر عمل انتہائی ضروری ہے۔ دیکھا جائے تو فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں تاخیر کی وجہ شاید اکیلی ایگزیکٹو اختیارات رکھنے والی بیورو کریسی نہیںبلکہ سیاسی عناصر بھی ہیں جن میں حکومت اور کابینہ بھی شامل ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں پالیسی واضح ہو اور کوئی قانونی ابہام نہ ہو اس میں تو شاید بیوروکریسی کام وقت پر کرہی دیتی ہے کیونکہ روٹین کی بات ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی اصل میں دو طرح کی ہے۔ ایک تو وہ کام ہیں جن پر روزانہ کی بنیادوں پر عملدرآمد ضروری ہے اور دوسرے وہ فیصلے ہوتے ہیں جن پر خاص قوانین کی وجہ سے کچھ قانونی پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ بیورو کریسی کی فیصلہ سازی میں تعطل کی دو وجوہات ہیں جن میں ایک کرپشن اور دوسرا احتساب کی فضا ہے۔ بعض بیورو کریٹ تو اب (GOOD FAITH) میں بھی فیصلے نہیں کرتے کہ نیب یا اینٹی کرپشن سونگھتی ہوئی آ جائے گی کیونکہ بہرحال بیورو کریسی جو بھی فیصلے کرتی ہے اس کی (FINANCIAL IMPLICATIONS) تو بہرحال ہوتی ہیں۔ اس طرح کی فضا میں فیصلہ سازی میں تاخیر نہیں ہوگی تو اور کیا ہوگا؟ بیورو کریسی کی فیصلہ سازی میں تاخیر سے عدالتوں پر پڑنے والے بوجھ کی شاید ایک وجہ رٹ کلچر بھی ہے۔ رٹ کی تعریف اگر (JURISPRUDENCE) میں دیکھی جائے تو یہ غیر معمولی حالات میں دائر کی جاتی ہے لیکن یہاں کسی کی پروموشن نہیں ہوتی تو وہ رٹ کردیتا ہے، ٹرانسفر ہوگیا ہے یا سرکاری گھر الاٹ نہیں ہوتا تو وہ لوگ رٹ میں چلے جاتے ہیں جس وجہ سے عدالت اکثر مرتبہ محکموں کو ہی حکم دیتی ہے کہ کیس دیکھ کر قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ رٹ کلچر عام ہونے سے بھی عدالتوں پر بہت بوجھ آتا ہے۔ رٹ پٹیشنوں کی 5اقسام ہیں، جن میں جو تین اہم ترین ہیں، ان میں (HABEAS CORPUS) یعنی حبس بے جا، رٹ آف مینڈے مس(کام کیوں نہیں کیا جا رہا) اور کووارنٹو یعنی اختیار کیوں استعمال کیا شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب کسی کے بنیادی حقوق سلب کئے جاتے ہیں تو اس کا حق ہے کہ وہ رٹ میں جائے لیکن میرے سامنے ایک مثال ایم ایس نشتر میڈیکل کالج ملتان کی ہے جن کا وزیراعلیٰ نے تبادلہ کیا لیکن وہ 2سال سے رٹ پٹیشن دائر کرکے حکم امتناعی پر کام کر رہا ہے۔ بیورو کریسی فیصلہ سازی میں تاخیراس وقت کرتی ہے جب کرپشن کرنی ہو یا نیب کا ڈر ہو۔ بیورو کریسی تو ویسے ہی ہر کسی کی تنقید کا باآسانی نشانہ بن جاتی ہے لیکن دیکھا جائے تو بہت سے ایشوز میں نیب وہ کام کرتی ہے جو اس کا مینڈیٹ ہی نہیں۔ اب بورڈ آف ریونیو کو ہی دیکھ لیں، وہاں کے افسران کے جوڈیشل فیصلوں کو پوری قانونی (INDEMNITY) حاصل ہے لیکن نیب اس میں کیس بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے اب لوگ جوڈیشل فیصلے کرنے سے بھی کترا رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ بیورو کریسی بڑی نیک ہے لیکن حکومت ، نیب، حساس ادارے، وکیل اور میڈیا سمیت ہر کسی کا جہاں بس چلتا ہے، بیورو کریسی پر چڑھے ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں فیصلہ سازی کرنا آسان کام نہیں۔ کوئی شک نہیں کہ بہت ساری (LITIGATION) فیصلے نہ ہونے اور دوسرا غلط فیصلوں سے ہوتی ہے جس کی وجہ سے بیورو کریٹ فیصلے نہیں کررہے۔ اب ذرا پنجاب کے حالات پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ یہاں حال ہی میں کمشنر اور سیکرٹریوں کی تعیناتیاں کی گئیں لیکن بیچارے دیانتدار افسر پھر پیچھے رہ گئے ہیں۔ گریڈ 21 کے افسر کمشنر لگائے جا رہے ہیں۔ میرے علم کے مطابق محکمہ سروسز ونگ کی (ENCADREMENT) لسٹ میں پنجاب کے 9 ڈویژن میں سے 3 ڈویژنوں کے کمشنر گریڈ 20 اور 21 دونوں کے تعینات ہو سکتے ہیں۔ ان ڈویژنوں میں لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد شامل ہیں لیکن سرگودھا میں 21 ویں گریڈ کا کمشنر تعینات کرنے کی کچھ سمجھ نہیں آسکی۔ کرپشن فری پاکستان کے نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن پھر ایسے افسر ہی لگا دیئے جاتے ہیں جن کا ’’کردار‘‘ سب کے سامنے ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب جس ماحول میں کام کر رہے ہیں ان کے لئے بڑی مشکلات ہیں۔ سوشل سائنس کا ایک مضمون (ORGANIZATIONAL BEHAVIOUR) ہے، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر ادائیگی ایک اہم حصہ ہے۔ اگر افسران کی اچھی کارکردگی دکھانے پر وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی طرف سے ستائش کی جائے گی اور انہیں ایوارڈز دیئے جائیں گے تو سول سرونٹس کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس میں حکومت کا کچھ نہیں جاتا۔ اگر حکومت اداروں میں اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کو (INCENTIVE) دے گی تو پھر دیکھیں کارکردگی کہاں جاتی ہے۔ جونیئر افسران کو بڑے اضلاع، جو ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہیں، کے علاوہ ضلعوں میں ڈپٹی کمشنر لگانے سے کارکردگی بہتر ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ان کی تنخواہ بڑھتی ہے تو ان کا ٹارگٹ بن جاتا ہے کہ وہ اچھا پرفارم کرینگے تو انہیں دوبارہ ڈپٹی کمشنر لگایا جائیگا۔ بڑے اضلاع کے ڈپٹی کمشنر بہرحال سینئر افسران کو ہی تعینات کیا جانا چاہئے۔ جونیئر افسران کی ستائش کے بعد بہتر کارکردگی کی مثال احد چیمہ کی ہے کہ انہو ںنے جونیئر افسر ہونے کے باوجود سینئر سیٹوں پر زبردست کام کیا کیونکہ ان کی ستائش کی جاتی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں