68

بیروزگاری مہنگائی قرضے بڑھے تجارتی خسارہ 45 ارب ڈالر رہا اقتصادی سروے

بیروزگاری مہنگائی قرضے بڑھے تجارتی خسارہ 45 ارب ڈالر رہا اقتصادی سروے
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو مفتاح اسماعیل نے رواںمالی سال 22۔2021ء کا پاکستان اقتصادی سروے جاری کر دیا ہے جس کے مطابق بیروزگاری، مہنگائی، قرضے بڑھ گئے، جی ڈی پی ، زراعت، خدمات اور صنعتی شعبوں کے اہداف حاصل کرلئے گئے ، تجارتی خسارہ 45 ؍ ارب ڈالررہا، سرکاری قرضے 44366؍ ارب، گردشی قرضے 2470 ارب روپے ہوگئے، زرمبادلہ ذخائر 10 ارب ڈالر سے کم ہوگئے ہیں ، زرمبادلہ کےذخائر میں پیر یا منگل کو اضافہ ہوجائے گااور چین سے 2؍ ارب 40؍ کروڑ ڈالر آجائیں گے ، گندم، کپاس کی پیداوار میں کمی ہوئی تاہم چاول، گنے میں اضافہ ہوا، فی کس آمدنی 1798؍ ڈالر رہی، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 13.8؍ ارب ڈالر، مالیاتی خسارہ 2565؍ ارب روپے، معاشی ترقی کی شرح 5.97 فیصد رہی، ترسیلات زر میں 7.6؍ فیصد اضافہ ہوا ، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کم ہوئی ۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ امید ہے آئی ایم ایف کو بجٹ اصلاحات پسند آئیں گی، فیصلے مشکل لیکن ملک ڈیفالٹ سے بچا لیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے وزارت منصوبہ بندی میں پریس کانفرنس میں اقتصادی رپورٹ کا اجراء کیا ، اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیر توانائی خرم دستگیر خان ، وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا ، سیکرٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ اور اکنامک ایڈوائرزر ڈاکٹر امتیاز بھی موجود تھے۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق مہنگائی، کرنٹ اکائونٹ خسارہ، درآمدات اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، بچت، سرمایہ کاری سمیت گندم اور کپاس کے پیداواری اہداف حاصل نہیں ہوسکے ، رواں مالی سال اقتصادی شرح نمو 5.97؍ فیصد رہی، فی کس آمدن 1798؍ ڈالر سالانہ رہی ، زراعت کے شعبہ کی شرح نمو 4.4 فیصد، صنعتی شعبہ کی نمو 7.2 فیصد، تعمیراتی شعبہ کی نمو 3.1 فیصد، خدمات کے شعبہ کی نمو 6.2 فیصد رہی ، ایف بی آر کے ٹیکس ریونیو کی وصولی 28.4؍ فیصد اضافہ کے ساتھ 5348؍ ارب روپے، مالیاتی خسارہ 2565؍ ارب روپے، مہنگائی کی شرح 11.3؍ فیصد، برآمدات 27.8؍ فیصد اضافہ کے ساتھ 26 ؍ ارب 80 ؍ کروڑ ڈالر، درآمدات 59.8 ارب ڈالر، تجارتی خسارہ 49.6؍ فیصد اضافہ کے ساتھ 32.9 ارب ڈالر، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 13.8؍ ارب ڈالر، آئی ٹی کی برآمدات 29.26؍ فیصد کی شرح نمو کے ساتھ ایک ارب 94؍ کروڑ 80؍ لاکھ ڈالر، ترسیلات زر 7.6؍ فیصد اضافہ کے ساتھ 26؍ ارب 10؍ کروڑ، زرمبادلہ کے ذخائر 16.4؍ ارب ڈالر رہے ہیں، براہ راست سرمایہ کاری 1.6؍ فیصد کمی کے ساتھ 1455.6 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال کے دوران مارچ کے آخر تک کل سرکاری قرضہ 44 ہزار 366 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جولائی سے اپریل 2022ء کے دوران تیل کا درآمدی بل 95.9؍ ارب ڈالر کے ساتھ 17 ارب 3 کروڑ ڈالر رہا، احساس کفالت پروگرام کے تحت مستفید ہونے والوں کی تعداد 80 لاکھ تک بڑھا دی گئی۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو گروتھ کے جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں یہ ری بیسنگ کے بعد کےہیں جبکہ اہداف پہلے والی بیس کے مطابق ہیں اگر اسی بیس کے مطابق ان اعداد شمار کو لیا جائے تو یہ کم ہوتے ، وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کےساتھ معاہدے کےلیے بجٹ کے بعد دوبارہ بات چیت ہوگئی امید ہےآئی ایم ایف کو بجٹ میں کی گئی اصلاحات پسند آئینگی ، وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی کہانی بدقسمتی سے وہی ہے جو پہلے تھی کہ جب بھی اقتصادی شرح نمو بڑھتی ہے تو ہم کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بڑھ جاتےہیں اور عدم ادائیگیوں کا توازن پیدا ہو جاتا ہے، رواں سال 76ارب ڈالر کی درآمدا ت ہوئیں اور ان میں ریکارڈ 48فیصد اضافہ ہوا، برآمدات بھی بڑھی اور ان میں 28فیصد اضافہ ہوا، تجارتی خسارہ بڑھ کر 45ارب ڈالرپر پہنچ گیا ہے، برآمدات درآمدات کا 40فیصد رہ گئی ہیں اور 60فیصد درآمدات کوقرضوں پر انحصار کرناپڑتا ہے، اس سے ملک ادائیگیوں کے عدم توازن میں پھنس گیا زرمبادلہ کےذخائر میں 5ارب60کروڑ ڈالر کمی ہوئی اور 9ارب60کروڑ روپے پر زرمبادلہ کےذخائر رہ گئے ، زرمبادلہ کےذخائر میں پیر منگل کا اضافہ ہوجائے گااور چین سے 2ارب40کروڑ ڈالر آجائیں گے اس پر چین کے شکر گزار ہیں ، وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی سمت سدھارنے کی ضرورت ہے، عالمی سطح پر تیل کی قیمت 123 ڈالر کی قیمت پر پہنچ گئی ہےاور تیل اور دیگر اشیاء بہت مہنگی ہوئیں ، اس سے پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنا پڑا ، انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہےکہ عمران خان نے پیٹرول اور ڈیزل کو قیمت خرید سے بھی کم کر دیا ، وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں مشکل فیصلے کرنا پڑے لیکن ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا اور اس کو استحکام کے راستے پر لے آئے ہیں اور جلد گروتھ پر لے آئیں گےاو نچلی سطح پر گروتھ کریں گے ، انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ سرمایہ داروں اور صاحب ثروت لوگوں کو مراعات دیتے رہے تاکہ وہ صنعت و تجارت کو آگےبڑھائیں لیکن اس کے نتیجے میں درآمدات بڑھتی ہیں ، ہم غریب اور متوسط طبقے کو مراعات دیں گے ، اس سے زراعت ترقی کرے گی اور مقامی اشیاء کی کھپت بڑے گی ، انہوں نے کہا کہ توانائی کی گیس کھول دی ہے اور ہر انڈسٹری کو گیس دے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں جس طرح طویل مدتی معاہدے کیے گئے وہ کر لیتے تو گزشتہ حکومت کو توانائی کا بحران نہ ہوتا اور مہنگائی میں بھی کمی ہوتی ، حکومت کو ایندھن مہنگا لینا پڑا ہے، گزشتہ حکومت میں سی پیک کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا گیا ، عمران خان نے بارودی سرنگیں بچھائیںیہ باردوری سرنگیں صرف مسلم لیگ ن یا اتحادی حکومت کےلیے نہیں تھیں بلکہ پورے پاکستان اور ریاست کے لیے بچھائی گئیں اس وجہ سے پورے پاکستان میں مہنگائی ہورہی ہے، پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، عمران خان نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں کمی ہوئی 2017-18میں یہ 2ارب ڈالر تھی جو کم ہو کر ایک ارب 15کروڑ ڈالر پر آگئی ہے، ہر اعدادوشمار میں ملک پیچھے گیا، کیونکہ نااہل حکومت نے غلط فیصلے کیے ، کورونا وائرس سے پاکستان کو دنیا بھر سے جو مراعات ملیں گزشتہ حکومت نے ان مراعات کا فائدہ نہیں اٹھایا ، آج کل جو حالات ہیں کہ گندم کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں ، 30لاکھ ٹن گندم درآمد کریں گے، اس حوالے سے روس سے معاہدہ کریں گے، گزشتہ حکومت میںٹیکس تو جی ڈی پی کی شرح میں بھی کمی آئی ایک نیوکلیئر پاور ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 15فیصد اور برآمدات کی شرح نمو بھی 15فیصد ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی اس وقت ہمیں 5600ارب روپے کا خسارہ نظر آرہا تھا اب یہ 5100ارب روپے پر آیا ہے، پی ٹی آئی کے پہلے سال بجٹ خسارہ 9.1فیصد تھا ہمارا اوسط خسارہ 5.7فیصد تھا جو کہ 1650ارب روپے تھا پی ٹی آئی حکومت کا اس سال کا بجٹ خسارہ 5ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو ہمارے خسارے سے 3گنا زیادہ ہے، انہوں نے کہاکہ اس سال سود کی ادائیگی کی مد میں 3100ارب روپے خرچ ہونگے اور اگلے برس 3900ارب روپے قرضوں پر سود کی ادائیگی کرنا ہوگی۔پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اس اقتصادی سروے کے آخری دو ماہ ہماری حکومت کے حصے میں آتے ہیں ، اس سروے کے اہداف اور حاصل اعدادوشمار میں اصل موازنہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ملکی معیشت کو ری بیس کیا گیا اور اس سے نمبر زیادہ آئے ہیں ،اور اصل بیس پر اگر نمبر لیے جائیں تو وہ تصویر بدل جائے گی، انہوں نے کہ اس سال سب سے زیادہ زک ترقیاتی بجٹ کو پہنچائی گئی ، رواں برس کا ترقیاتی بجٹ 900ارب روپے مقرر کیا گیا تھا لیکن اس کو کم کر کے پہلے 700ارب روپے کیا گیا اور پھر 550ارب روپے کر دیاگیا انہوں نے کہاکہ ہم نے پہلی مرتبہ دفاع اور ترقیاتی بجٹ کو ایک جیسا کر دیا تھا اور دفاع کا بجٹ بھی ایک ہزار ارب روپےا ور ترقیاتی بجٹ بھی ایک ہزار ارب روپے تھا لیکن اب ترقیاتی بجٹ میں نصف کمی ہو چکی ہے، ملک کا مستقبل کا انحصار مضبوط دفاع اور مضبوط ترقیاتی منصوبوں پر ہے ، موجودہ حکومت کو پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے میں ایک ماہ تاخری اس لیے ہوئی کہ ہم چاہتے تھے کہ لوگ اس اضافےسے بچ جائیں لیکن ہمیں مجبوراً کرنا پڑا کیونکہ گزشتہ حکومت لوگوں کے ساتھ فراڈ کر کے گئی ہے، روپیہ کمزور ہونے لگا تو فیصلہ کیا گیا ، ہم نے مشکل فیصلے کیے ، رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی میں وزارت خزانہ نے ترقیاتی بجٹ کےلیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کیونکہ خزانہ بالکل خالی تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں