25

بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر ہے، امریکا

واشنگٹن(نیوز )امریکی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ و دفاع کی موجودگی میں بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر براہ راست سرزنش کی ہے ،امریکہ نے کہا ہےکہ واشنگٹن حکومت بھارت میں ہونے والی ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے‘ کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ تفصیلات کےمطابق واشنگٹن کی مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، ان کے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی موجود تھے۔بھارتی وفد نے انٹونی بلنکن کے بیان کے بعد بات کی تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بھی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔بھارت اور امریکہ کے درمیان وزارتی سطح کے ʼٹو پلس ٹو ڈائیلاگ‘ کا یہ چوتھا مرحلہ ہے، جس کے لیے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر واشنگٹن میں ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد ہی اس مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گيا تھا۔امریکی وزیر خارجہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی سے متعلق جب بیان دیا، تو بھارتی وزیر خارجہ اور دفاع ان کے پہلو میں کھڑے تھے۔ تاہم بھارتی رہنماؤں نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار تک نہیں کیا۔امریکہ نے انسانی حقوق کے حوالے سے دو بھارتی وزرا کی موجودگی میں، جس طرح کا بیان دیا، وہ ایک طرح سے غیر معمولی بات ہے اور اسے واشنگٹن کی جانب سے نئی دہلی کے لیے براہ راست سرزنش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے واشنگٹن میں بھارتی وزراء کے ساتھ ہونے والی ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ بھارت میں کچھ عہدیداروں کے ذریعے کی جانے والی، ’’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘‘ پر اپنی نظر رکھے ہوئے ہے۔ان کا کہنا تھا، ’’ہم جمہوری اقدار اور (انسانی حقوق کی) جیسی مشترکہ اقدار پر اپنے بھارتی شراکت داروں کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کرتے رہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے ہم بھارت میں ہونے والی ایسی بعض حالیہ پیش رفتوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جن میں بعض حکومتی، پولیس اور جیل حکام کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔‘‘تاہم انہوں نے کہا کہ ان اہم مسائل کے علاوہ بھی بہت سے ایسے کلیدی پہلو ہیں، جن پر بھارت کے ساتھ بات چيت ہوئی ہے اور ان پر تعاون کے لیے توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں