10

بھارت سے 100 سالہ امن پالیسی کیلئے کشمیر پشت پر نہیں ڈال سکتے، معید یوسف

کراچی (ٹی وی رپورٹ) مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ بھارت سے 100سالہ امن کیلئے کشمیر کو پشت پر ڈال دیا جائے، قومی سلامتی پالیسی کے تحت سیکورٹی عام شہری کا جانی و معاشی تحفظ ہے، ہماری جامع قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار معاشی پالیسی پر ہے،پاکستان خطے میں امن اور کنیکٹویٹی چاہتا ہے لیکن ہماری اپنی شرائط ہیں، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی بائیس بارآئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے،سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن احسن اقبال نے کہا ہےکہ اسٹیٹ بینک کے قانون پر ووٹنگ ہوتی تو حکمران جماعت میں سے چند لوگ ضرور اس کیخلاف ووٹ دیتے، حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنا اپوزیشن کا کام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ حکومت کو کورونا اور عالمی سطح پر مہنگائی کا سامنا ہے، پاکستان ماضی میں بھی بائیس بارآئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے، ہم نے ریونیو وصولی میں پچیس فیصد اضافہ کیا ہے، اسٹیٹ بینک کی قرض اسکیم کی وجہ سے انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے، پارٹی میں جمہوریت ہے ہر کوئی اپنے رائے کا کھل کر اظہار کرتا ہے، وزیراعظم پارٹی اجلاس میں ہر رہنما کو بات کرنے کا موقع دیتے ہیں، گیس کے مقامی ذخائر ختم ہوتے جارہے ہیں متبادل کی طرف جانا ہوگا، یہ ہماری حکومت کی جیت ہے کہ سرمایہ کار ایل این جی کیلئے ٹیک اور پے پر سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں، امریکا یورپ سمیت پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان برپا ہوگیا ہے۔ مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کے تحت سیکیورٹی عام شہری کا جانی و معاشی تحفظ ہے، ہماری جامع قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار معاشی پالیسی پر ہے، قومی سلامتی پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن بنائی گئی، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی قومی سلامتی کمیٹی پر عملدرآمد پر نظر رکھتی ہے، قومی سلامتی پالیسی میں کچھ ایسے موضوعات بھی ہیں جنہیں پبلک نہیں کیا جانا چاہئے، وزیراعظم نے میٹنگ میں پوری قومی سلامتی پالیسی ڈاکیومنٹ کرنے کیلئے کہا تھا، قومی سلامتی پالیسی میں ہر چیز کا پلان نہیں ہے کیونکہ کئی جگہوں پر پلان بنے ہوئے ہیں، جن شعبوں میں پلان بنے ہوئے ہیں وہاں ازسرنو پلان بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور کنیکٹویٹی چاہتا ہے لیکن ہماری اپنی شرائط ہیں، ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ انڈیا کے ساتھ سو سالہ امن پالیسی بنانے کیلئے کشمیر بیک برنر پر ڈال دیا جائے، ریاست کی رٹ منوانے کا مطلب طاقت کا استعمال نہیں ہے، پاکستان ایسی ریاست نہیں جہاں احتجاج ہو تو گولیاں چل جائیں، مذاکرات پہلی ترجیح ہونی چاہئے لیکن اس کے علاوہ تمام آپشنز دستیاب ہیں، ریاست پر چڑھ دوڑنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جانی چاہئے،ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہے، ماضی سے نہیں سیکھیں گے تو مستقبل میں ٹھیک نہیں ہوسکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں