36

بڑا خطرناک ہوں میں عمران خان

بڑا خطرناک ہوں میں عمران خان
اسلام آباد(ایجنسیاں)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پولیس کے اعلیٰ افسران اور ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکیاں دینے کے الزام میں درج کیے گئےدہشت گردی کے مقدمے میں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں یکم ستمبر تک گرفتار کرنے سے روک دیاجبکہ جبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آبادنے بھی دفعہ144کے مقدمے میں بھی عمران خان کی 7ستمبر تک ضمانت منظور کرلی ۔عدالت نے عمران خان کو 5ہزارکے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا۔ادھرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہےکہ چاہتا ہوں جو بھی فیصلے کررہے ہیں اور کروا رہے ہیں ان کو ملک کا سوچنا چاہیے‘میں بہت خطرناک ہوں۔اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ ساری دنیا میں اس وقت پاکستان کا مذاق اڑ رہا ہے‘ ایسا تاثر گیا ہے جیسے یہ کوئی بنانا ری پبلک ہے کہ یہاں کوئی قانون ہے ہی نہیں‘شہبازگل پر جنسی تشدد ہوتا ہے میں کہوں کہ لیگل ایکشن لوں گا تو دہشتگردی کا کیس لگ جاتا ہے‘ چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ یہ تحریک انصاف کی طاقت سے خوفزدہ ہیں‘ خوف کی وجہ سے ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرنے اور اپنی ذات کو بچانے کے لیے یہ پاکستان کا مذاق اڑ رہا ہے۔دریں اثناء سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں عمران خان کا کہناتھاکہ وفاقی حکومت کی ترجیحات عوام کے بجائے اپنے مقدمات کا خاتمہ کرنا ہے‘ عوام کو اس نااہل ٹولے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں