بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ سردار عطا اللّٰہ مینگل انتقال کرگئے 43

بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ سردار عطا اللّٰہ مینگل انتقال کرگئے

بلوچستان کے پہلے وزیر اعلیٰ سردار عطا اللّٰہ مینگل 93 برس کی عمر میں کراچی کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔

سردار عطا اللّٰہ مینگل بلوچستان کے سینئر سیاسی رہنما تھے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ عطا اللّٰہ مینگل ایک ہفتے سے مقامی اسپتال میں زیر علاج تھے۔

خیال رہے کہ عطا اللّٰہ مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل کے والد تھے۔

ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عطا اللّٰہ مینگل کی تدفین آبائی علاقے وڈ ضلع خضدار میں کی جائے گی۔

سردار عطا اللّٰہ مینگل 1929 کو پیدا ہوئے، انہوں نے اپنا بچپن لسبیلہ میں گزارا جبکہ اس کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے۔

انہیں 25 سال کی عمر میں مینگل قبیلے کا سردار مقرر کیا گیا۔

سردار عطا اللّٰہ مینگل کو میر غوث بخش بزنجو نے سیاست میں متعارف کروایا تھا جو نیشنل عوامی پارٹی (این اے پی) کے بانی رہنما بھی تھی۔

انہوں نے سال 1962 میں ہونے والے مغربی پاکستان کے صوبائی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب بھی ہوئے، اس دوران ان کی انتخابی مہم میر غوث بخش بزنجو نے چلائی تھی۔

سردار عطا اللّٰہ مینگل نے 1970 میں بلوچستان اسمبلی کے پہلے الیکشن میں نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا تھا اور کامیاب ہوئے۔

سردار عطا اللّٰہ مینگل نے یکم مئی کو بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، جبکہ ان کی حکومت 1973 میں ختم کردی گئی تھی۔

انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور 1973 سے 1977 تک جیل میں رہے۔

اپنے ایک انٹرویو کے دوران سردار عطا اللّٰہ مینگل نے کہا تھا کہ رہنما پیدا نہیں ہوتے، یہ وقت اور حالات ہوتے ہیں جو اسے رہنما بناتے ہیں۔

انہوں نے ایک رہنما کو جانچنے کا فن بتاتے ہوئے کہا تھا کہ “اگر آپ کسی شخص یا لیڈر کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کے حالات دیکھیے اور وہ زمانہ دیکھیے جس میں وہ رہ رہا ہے اور یہ بھی دیکھیے کہ وہ اپنے مسائل سے کس طرح نمٹ رہا ہے۔”

ساتھ میں عطا اللّٰہ مینگل نے یہ بھی کہا کہ تھا کہ یہ ناانصافی ہوگی کہ آپ صرف ایک لیڈر کو تمام سہرا دے دیں اور دوسرے کو کسی کام کا سہرا نہ دیں اور اسے علیحدہ کردیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں