40

بلدیاتی اداروں کی بحالی

سپریم کورٹ کے حکم پرپنجاب حکومت نے بادلِ ناخواستہ بلدیاتی ادارے بحال کردیے ہیں،جنہیں دو برس پہلے توڑ دیا گیا تھا اورنئے انتخابات بھی نہیں کروائے گئے تھے۔ چند ماہ بعد دسمبر کے آخر میں ان اداروں کی مدت پوری ہوجائے گی ۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ اگلے سوا دو مہینوں میں صوبائی حکومت انہیں شائد ہی کوئی اختیار استعمال کرنے دے۔ تقریباً تمام بلدیاتی اداروں کے عہدیدارحکومت مخالف پارٹی مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی اس روایت نے جنم نہیں لیا کہ کوئی حکمران جماعت اپنے مخالفوں کوحکومتی معاملات میں شریک کرے۔ ہم نے یورپ اور امریکہ کے جن ملکوں کی تقلید میں جمہوری نظام اختیار کیا ہے وہاں عام بات ہے کہ وفاق ‘ صوبوں اور مقامی اداروں پر مختلف پارٹیوں کی حکومتیں ہوسکتی ہیں۔ برطانیہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مرکزی حکومت ایک پارٹی کے پاس اور لندن شہر کے طاقتور مئیر کا عہدہ مخالف پارٹی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جمہوری روایات اتنی پختہ نہیں ۔ طویل عرصہ تک تو وفاقی حکومت صوبائی سطح پر بھی کسی مخالف جماعت کی حکومت کو برداشت کرنے کی بجائے اسے رخصت کردیتی تھی ۔ مثلاً ستّر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)کی منتخب حکومت بر طرف کرکے گورنر راج لگادیا تھا۔ بے نظیر بھٹو فوجی حکومت کے خلاف طویل جدوجہد کرکے 1988 میں پہلی بار وزیراعظم بنیں ۔ ان سے توقع تھی کہ وہ جمہوری اقدار کو پروان چڑھائیں گی لیکن انہوں نے جلد ہی بلوچستان میں اکبر بگٹی کی منتخب صوبائی حکومت کو برطرف کردیا جو بعد میں عدلیہ کے فیصلے سے بحال ہوئی۔ دس بارہ سال سے ایک اچھی پیش رفت ہوئی ہے کہ وفاق میں حکمران جماعت کسی صوبہ میں مخالف پارٹی کی حکومت کی چھٹی نہیں کراتی ۔ شائد اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ سیاسی رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے صوبائی حکومت کو رخصت کیا تو عدلیہ اسکی اجازت نہیں دے گی۔ عدلیہ کا ادارہ پہلے کی نسبت زیادہ طاقتور ہوگیا ہے اور اپنے آئینی اختیارات کا بھرپور طریقہ سے استعمال کرنے لگا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ‘ مقتدرہ کا خوف بھی رہتا ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان محاذآرائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مداخلت کرسکتی ہے۔سیاسی کشیدگی کے حالات میں چار مرتبہ فوج ملک کا اقتدار سنبھال چکی ہے۔ شائد اسی لیے پیپلزپارٹی کی وفاق میں حکومت (2008-13)نے پنجاب میں مسلم لیگ(ن) اور خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومتوں کو کام کرنے دیا۔ ماضی میں اسکا تصوّر کرنا دشوار تھا۔ بعد میںمسلم لیگ(ن) نے سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کو ہٹانے کی کوشش نہیں کی۔حالانکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت وزیراعظم نواز شریف کے لیے مستقل دردِ سر تھی اور انکی حکومت کو گرانے کیلیے ا یجی ٹیشن میں شریک رہتی تھی۔گزشتہ تین برسوں سے وفاق میں تحریکِ انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں ساتھ ساتھ قائم ہیں۔ سندھ میںگورنر راج لگانے کی افواہیں گاہے گاہے چلتی رہتی ہیں لیکن عملی طور پرایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔یہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے خوش آئیندروایت ہے۔ بلدیاتی اداروں اور انکے الیکشن کے بارے میں سپریم کورٹ کے اب تک دیے گئے بیانات اور فیصلے بہت حوصلہ افزا ہیں۔ یُوں لگتا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ صوبائی حکومتوں کو نئے بلدیاتی انتخابات مقررہ وقت پر منعقد کروانے کا پابند کرے گی‘ صوبائی حکومتوں کو مختلف بہانوں سے ان انتخابات سے بھاگنے نہیں دے گی۔ بلدیاتی اداروں کے انتخابات پنجاب میں حکمران جماعت تحریک ِانصاف کیلیے مشکلات کا باعث ہوسکتا ہیں کیونکہ مہنگائی اور دیگر عوامل کے باعث پارٹی کی مقبولیت کو دھچکا لگا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کنٹونمنٹ بورڈز کے حالیہ انتخابات میں وسطی اور شمالی پنجاب میں اپنی مقبولیت ثابت کرچکی ہے۔سندھ میں پیپلزپارٹی کے ہاتھ بھی کراچی کی میونسپل حکومت آنا مشکل ہے بشرطیکہ صاف ستھرے الیکشن ہوں۔صوبوں میں حکمران جماعتوں کی کوشش تو یہی ہوگی کہ کسی نہ کسی بہانے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرتے رہیں ۔ تاہم اگر سپریم کورٹ نے تہیّہ کرلیا تو الیکشن سے بچنا مشکل ہوگا۔ سپریم کورٹ کی حکم عدولی کا مطلب ہے توہینِ عدالت ۔اگر وزرائے اعلیٰ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا توعدالت عظمیٰ انہیں ناہل قرار دے سکتی ہے۔ وقتی طور پر تحریک انصاف کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے سیاسی نقصانات کاخدشہ ہے گو اچھی حکمت ِ عملی اختیار کی جائے تو پارٹی بہتر پوزیشن میںبھی آسکتی ہے۔ سب سے اہم‘ مقامی حکومتوں کے انتخابات اور انکے فعال ہونے میں ملک و قوم کا طویل مدتی فائدہ ہے۔ حکومت میں آنے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل کریں گے۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی اداروں کا نظام تشکیل دیں گے۔ 2013 میں تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا ہ میںحکومت بنانے کا موقع ملا تو اس نے وہاں نسبتاًزیادہ اختیارات کا حامل بلدیاتی قانون نافذ کیا تھا لیکن اب دو برسوں سے وہاں بھی منتخب ادارے کام نہیں کررہے۔ پنجاب کی طرح افسر شاہی بلدیاتی اداروں پر براجمان ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پُورا نظام افسر شاہی خصوصاً سی ایس پی افسروں کے گھیرے میں ہیں۔ سی ایس پی افسران (جنکا نام پہلے ڈی ایم جی اور اب پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس رکھ دیاگیا ہے) انگریز دور کے نوآبادیاتی نظام کے وارث ہیں،جن کی پیدائش کا مقصد انگریزوں کے اقتدار کیلیے مقامی آبادی کو محکوم اور غلام بنائے رکھنا تھا۔ یہ طبقہ کبھی منتخب اداروں کو پروان چڑھتے نہیں دیکھ سکتا۔افسر شاہی نہیں چاہتی کہ مقامی منتخب نمائندے اختیار ات ستعمال کریں۔اگر ملک میں ایک طاقتور بلدیاتی نظام قائم ہوجائے اور تسلسل سے کام کرنے لگے تو سی ایس پی طبقہ کی ریاستی نظام پر آہنی گرفت کمزور ہوگی۔وزیراعظم عمران خان سے قوم کو توقع ہے کہ وہ نظام کو بدلیں گے ۔ نئی روش اختیار کریں گے۔ اگر وہ اپنی پارٹی کا وقتی فائدہ دیکھنے کی بجائے ملک کو ایک مضبوط بلدیاتی نظام دینے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ تاریخی واقعہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں