85

بلاول کا دورہ ایران کیا کچھ ممکن ہے؟

بلاول کا دورہ ایران کیا کچھ ممکن ہے؟
پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو ایران کے دو روزہ دورے پر تہران پہنچ چکے ہیں۔ ملک کے کئی حلقے اس موقع پر یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ آیا ایران پاکستان پائپ لائن امریکی پابندیوں کے پیش نظر فعال کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
ملک کے کئی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان کو گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سوئی اور دوسرے علاقوں میں گیس کے کم ہوتے ہوئے ذخائر ہیں جب کہ اسلام آباد کو تیل کی درآمد پر بھی خطیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسے میں پاکستان ایران پائپ لائن کا منصوبہ بحال ہوتا ہے تو اس سے معیشت کو بہت فائدہ ہو گا۔ لیکن دوسرے ناقدین کے خیال میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ اس طرح کے کسی بھی معاہدے کی صورت میں پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
آئی پی کی فعالیت اور پاکستان کا فائدہ
پاکستان کی ایران سے جغرافیائی قربت ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران سے تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں یا اس منصوبے کو مکمل کر کے فعال کرتے ہیں، تو اس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔ مالی امور کے ماہر اور سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں اس معاہدے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یقینا یہ معاہدہ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر گیس اور تیل پیدا کرتے ہیں۔ پائپ لائن بچھانے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپ کو فریٹ کے ریٹ دینے نہیں پڑتے بلکہ یہ ایل این جی سے بھی سستی پڑتی ہے۔‘‘
سلمان شاہ کے مطابق اس معاہدے پر جنرل مشرف کے دور میں عمل درآمد ہونے والا تھا اور وہ اس معاہدے کے بہت قریب تھے لیکن پھر یہ معاہدہ شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا، ”جنرل مشرف کے دور میں اس کی قیمتیں طے کی گئی تھی۔ پھر آصف علی زرداری صاحب کے دور میں ان قیمتوں پر نظر ثانی کی گئی۔ تاہم کئی بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس معاہدے پر فوری طور پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا۔‘‘
پابندیوں سے نمٹا جا سکتا ہے
تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی پابندیوں سے نمٹنے کے طریقے موجود ہیں اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان طریقوں پر عمل درآمد کرے۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا کہنا ہے کہ ایران اور روس مقامی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور پاکستان بھی ایسا کرکے امریکی پابندیوں سے کسی حد تک بچ سکتا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اگر ہم مقامی کرنسی میں ایران سے تجارت کرتے ہیں تو یقینا ایران کی گیس بہت سستی رہے گی۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی محفوظ رہیں گے اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض بھی نہیں لینا پڑے گا۔ روس اور ایران مقامی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘
دوسرا طریقہ
ڈاکٹر شاہدہ وزارت کا کہنا تھا کہ اگر لوکل کرنسی میں حکومت یہ کام نہیں کر سکتی، تو پھر ہم بارٹر ( اشیاء کے تبادلے) کے ذریعے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ ”نوے کی دہائی میں جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا تو ایران نے کہا تھا کہ آپ ہمیں شوگر اور ہیوی مکینیکل پلانٹس لگا کر دے دیں اور اس کے بدلے ہم آپ کو یہ پائپ لائن بنا کے دے دیتے ہیں۔‘‘
شاہدہ وزارت کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ تجویز بہت مناسب تھی، ”اس سے پاکستان کا زرمبادلہ بھی بچتا۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھی نہیں پڑتا اور پاکستانی صنعت میں بھی بہتری آتی ہے۔ لیکن پاکستان نے ایسا نہیں کی۔ اب اگر بلاول بھٹو زرداری ایران کا دورہ کر رہے ہیں اور اگر کوئی امکان منصوبے کی کامیابی کا پیدا ہوتا ہے، تو حکومت کو پوری کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
منصوبے کا پس منظر
ایران نہ صرف تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے بلکہ روس کے بعد بعد وہ گیس پیدا کرنے والا بھی دوسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ایران پاکستان پائپ لائن کے حوالے سے نوے کی دہائی سے بات چل رہی ہے۔ ایک مرحلے پر اس پائپ لائن منصوبے میں بھارت نے بھی دلچسپی ظاہر کی تھی اور اسے ایران پاکستان انڈیا پائپ لائن یعنی آئی پی ٹی آئی کا نام بھی دیا گیا تھا لیکن کئی ناقدین کا خیال ہے کہ بعد میں امریکی دباؤ کی وجہ سے بھارت نے اس پروجیکٹ کو خیرباد کہہ دیا کیا۔ اس منصوبے کے تحت ایران پہلے پاکستان کی سرحد تک پائپ لائن بچھاتا اور پھر گیس کی فراہمی کے منصوبے کو بھارت تک وسعت دی جاتی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت گیس کا ایک بہت بڑا بحران ہے اور کئی صنعتوں کو حکومت ان کی مطلوبہ مقدار کے مطابق گیس فراہم نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے اور ملک کی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں رکشے اور ٹیکسیاں سی این جی پر ہیں لیکن وہ بھی ایک عرصے سے بند پڑی ہے، جس کی وجہ سے کم آمدنی والوں پاکستانیوں کے لیے شدید مشکلات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں