54

بغاوت کے باوجود اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب

بغاوت کے باوجود اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب
کراچی (نیوز ڈیسک) برطانوی وزير اعظم بورس جانسن کو پارٹی گیٹ اسکینڈل پر اپنی ہی پارٹی میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، انہیں حکمران جماعت کے 54ارکان اسمبلی کی جانب سے بطور پارٹی سربراہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا، حکمران جماعت کے کئی ارکان ناراض ہیں تاہم پارٹی کی پارلیمانی اکثریت نے بطور پارٹی سربراہ ان پر اعتماد کا اظہار کردیا ،211ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیئے جبکہ 148ارکان نے ان کیخلاف ووٹ دیئے ، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے کم از کم 180 ووٹ درکار تھے ، ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوئی ، بورس جانسن پارٹی کے سربراہ اور بطور وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے ، حکمران جماعت ’’کنزرويٹو پارٹی‘‘ کی طرف سے 1922 کمیٹی کے چیئر گراہم بريڈی نے بتایا کہ انہیں 54 قانون سازوں کے خط موصول ہوئے ، جن کا مطالبہ تھا کہ جانسن کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کرائی جائے۔ پارٹی قوانین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے یہ تعداد کافی ہے۔ پیر کی رات مقامی وقت کے مطابق رات 9بجے ووٹنگ ہوئی ور اس کے کچھ ہی دیر بعد نتائج کا اعلان بھی کردیا گیا۔کورونا کی وبا کے دور میں لاک ڈاؤن کے باوجود کئی نجی محفلوں کے انعقاد کی وجہ سے وزیر اعظم شدید دباؤ میں ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کے روز انہیں سابق جونیئر وزیر اور اپنے سابقہ اتحادی جیسی نارمن کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جن کا کہنا تھا کہ بورس جانسن کے اقتدار میں رہنے نے ووٹروں اور پارٹی دونوں کی توہین کی ’کنزرویٹو پارٹی‘ کے اس وقت 359 ارکان پارلیمنٹ ہیں۔ ان ميں سے اگر پندرہ فيصد تمام بیک بینچ کنزرویٹو قانون سازوں کے پارلیمانی گروپ 1922 کمیٹی کے چیئرمین کو خط لکھيں، تو تحريک چلائی جا سکتی ہے۔ بورس جانسن نے اور ان کے عملے نے برطانوی دارالحکومت میں اس وقت شراب کی پارٹیاں منعقد کیں جب برطانیہ میں کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن نافذ تھا، جس کے بعد سے برطانوی وزیراعظم پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔سال 2019 میں وزارت عظمیٰ کے لیے بورس جانسن کے خلاف انتخاب لڑنے والے سابق وزیر صحت جرمی ہنٹ نے کہا کہ پارٹی جانتی ہے کہ وہ ملک کو تباہ کر رہی ہے، فیصلہ ہوگا کہ بدلو یا ہارو اور میں تبدیلی کو ووٹ دوں گا۔دوسری جانب بورس جانسن کے انسداد بدعنوانی کے چیمپئن جان پینروز نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے، برطانوی وزیراعظم کے مستقبل کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ختم ہو گیا ہے۔بورس جانسن کے ڈاؤننگ اسٹریٹ کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ ووٹ حکومت کو لوگوں کی ترجیحات کو پورا کرتے ہوئے ایک لکیر کھینچنے اور آگے بڑھنے کا موقع دے گا۔ بورس جانسن نے کنزرویٹو پارٹی میں مجموعی طور پر 58.8 فیصد حمایت حاصل کی ہے جبکہ 41.2 فیصد ارکان نے ان کی مخالفت کی ہے۔ اس کارروائی میں تمام ٹوری ارکان نے حصہ لیا۔ سنہ 2018 میں ایسی ہی ایک اعتماد کے ووٹ کی کارروائی میں ٹریزا مے نے جماعت کی 63 فیصد حمایت حاصل کی تھی۔ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے رہنما سر کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ کنزرویٹو ارکان میں واضح تقسیم پائی جاتی ہے اور مسائل کے حل کے لیے ان کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ بورس جانسن اگر چہ تحریک عدم اعتماد سے بچ گئے ہیں تاہم پارٹی کی صدارت پر ان کی گرفت کمزور ہوئی ہے اور ان کا اقتدار اب بھی خطرے میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں