شان اولیا کا مقام 16

بعثت انبیاء علیہم السلام اور وعدۂ ہدایت کی تکمیل.احسان الحق شہباز

بعثت انبیاء علیہم السلام اور وعدۂ ہدایت کی تکمیل

احسان الحق شہباز

یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ ذوالجلال والاکرام نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے اوریہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر بچہ‘ بوڑھا‘ جوان‘ مرد اور عورت سب جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘ ‘ (الذاریات:56)
میںنے انسانوں اور جنوں کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ یہ میری عبادت کریں۔
نبی اکرمe نے فرمایا بندوں پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ یہ اس کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ عبادت کیا ہوتی ہے یااسے کرنے کا طریقہ کیا ہے‘ اس کے اعمال کون کون سے ہیں…؟ عبادت کا لفظی معنی ہوتا ہے کچل دینا‘ روند ڈالنا‘ مسل دینا… انسان کیا کچلے‘ کسے روندے‘ مسل پھینکے اور کیا کرے۔ اللہ کا یہ حق ادا کرنے کا طریق کیا ہو یہ کون سمجھائے اور کیسے انسانوں کو سمجھ آئے؟
اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ داری لی اور فرمایا کہ یہ میں بتائوں گا‘ عبادت کیا ہوتی ہے اور اسے کیسے انجام دینا ہے؟ کسی انسان کو اس معاملہ میں اپنی طرف سے کوئی بات کرنے یا کہنے کی قطعا ًاجازت نہیں گویا اللہ تعالیٰ نے خود ذمہ داری لے لی کہ اپنا حق میں ہی بتائوں گا اور عبادت کے معاملہ میں مکمل رہنمائی کیا کروں گا۔ چنانچہ انسان۔ سب سے پہلے انسان۔ حضرت آدم اور حوا علیہما السلام جب تک جنت میں رہے‘ اللہ تعالیٰ خود انہیں سکھلاتے پڑھاتے رہے اور عبادت کے طریقے سمجھاتے رہے۔ قرآن مجیدنے بیان کیا ہے کہ جب انہیں جنت سے نکالا گیا تب تک ’’فَتَلَقَّی آدَمُ مِنْ رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ‘‘ (البقرۃ:37)آدم علیہ السلام اپنے رب سے بہت سی باتیں سیکھ چکے تھے۔ کیا چھوڑنا او رکیاکرنا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھا دیا تھا‘ جنت کے اس درخت کے قریب نہ جائو‘ شیطان تمہارا دشمن ہے‘ اس کی باتوں میں نہ آنا یہ بھی سمجھا دیا اور عبادت کا طریق کار اور تو بہ کے الفاظ بھی بتادیئے۔ انہی طریقوں کے مطابق پھر توبہ ہوئی اور اللہ تعالیٰ مہربان ہوئے۔
پھر جب زمین پر انسان آباد کردیئے گئے تو اب سوال سامنے آیا کہ اب کون بتائے کہ عبادت کس طرح کرنا ہے‘ کیا چھوڑنا اور کیا کرنا ہے؟ جس سے اللہ تعالیٰ کا حق عبادت ادا ہواللہ ذوالجلال والاکرام نے خود ہی یہ ذمہ لیتے ہوئے کمال مہربانی کے ساتھ فرمایا تمہیں اس مسئلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ذمہ داری کو اس طرح بیان فرمایا کہ ۔ ’’
قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعاً فَإِمَّا یَأتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْنَ (البقرہ :38)
ہم نے کہا تم سب (زمین پر) اتر جائو یقینا میری طرف سے مکمل ہدایت تمہارے پاس پہنچے گی تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا سو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ سب مکمل طور پرسمجھانے کے لئے انہی میں سے انبیاء مبعوث فرمائے جو خود اس زندگی کے معاملات میں‘ خاندانی نظام میں‘ تجارت و معیشت میں اور ایسے سارے معاملات میں مبتلا ہوتے ہیں جو ہر انسان کو پیش آتے ہیں۔ وہ کھانا کھاتے‘ پانی پیتے‘ شادیاں کرتے ‘ان کے والدین‘ دادا دادی‘ ننھیال‘ سسرال‘ چچے‘ تائے ‘ ماموں‘ خالائیں غرض سارے معاملات ہوتے ہیں تاکہ وہ عملاً اس معاشرہ میں رہنے والے ہر انسان کو عمل کرکے سمجھائیں کہ اللہ کے احکام اس طرح ہیں اور ان پر عمل کا طریقہ یہ ہے۔ اس کا رزارِ حیات میں غیر اسلامی رسم و رواج‘ طور طریقوں کو روندنا اور چھوڑنا ہے۔ اس طرح اللہ کی طرف سے نازل ہونے والے احکام کے مطابق عمل کرکے حق عبادت ادا کرنا ہے۔ اس طرح وضاحت کے لئے اللہ بہترین انسان کو منتخب کرتے ہیں‘ پھر بچپن سے ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اسے اس معاشرے کے طور طریقوں سے متاثر نہیںہونے دیتے۔ علاقے برادری کا کوئی رواج‘ کوئی نامناسب کام جس کی وجہ سے اس کی شان و کردار متاثر ہوسکتا ہو‘ اس سے اللہ خود اسے بچاتے اور محفوظ رکھتے ہیں۔ پھر جب اللہ کی حفاظت میں پروان چڑھتے ہوئے مناسب وقت کو پہنچتے ہیں تو اللہ ذوالجلال والاکرام ان کے سر پر نبوت و رسالت کا تاج سجاتے ہیں۔ انہیں اپنا نمائندہ بناتے ہیں اپنا نبی و رسول قرار دیتے ہیں۔ انہیں باقاعدہ دلائل کے ساتھ انسانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اور ان دلائل کو معجزات کہا جاتا ہے۔ اللہ ان سے کلام کرتے ہیںاس کلام کو وحی کہاجاتاہے۔ اس طرح ان کے بے مثال کردار‘ بے داغ بچپن و لڑکپن اور جوانی بھی دلائل و براہین ہیں جن سے ہر شخص سمجھ لیتا ہے کہ یقینا اللہ کا ان کے ساتھ تعلق ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ انہیں انسانوں کے سامنے اپنے نمائندے و رسول کے طور پر پیش کرتے اور ان کے ذریعے سے انسانوں تک وہ ہدایت پہنچاتے ہیں جسے پہنچانے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھاکہ میری طرف سے یقینا تمہارے پاس مکمل ہدایت پہنچے گی۔ قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ روئے زمین کی ہر آبادی اور بستی کی طرف اللہ نے رسول بھیجے جنہوں نے تکمیل وعدۂ الہٰی کرتے ہوئے ان تک ہدایت پہنچائی اور عبادت کے طریقے بتائے۔ ان میں سے تقریباً پچیس انبیاء کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے۔ حضرت آدم علیہ اسلام کے بعد جناب نوح ‘ شعیب‘ ابراہیم‘ اسحق‘ یعقوب ‘ دائود سلیمان ‘موسی‘ ایوب ‘ زکریا ‘ یحییٰ ‘اسماعیل‘ عیسیٰ و محمدعلیہم السلام یہی انسانیت کی اعلیٰ ترین شخصیات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت سے کئے ہوئے وعدۂ ہدایت کی تکمیل کے لئے منتخب فرمایا۔ ان سے کلام کیا ان پر کتابیں‘ صحیفے نازل کئے اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اللہ کے بندوں کو عبادت کے طریقے بتائے اور عمل کرکے دکھائے۔ پہلے اللہ تعالیٰ ہر علاقے اور ہر قوم کی طرف الگ الگ رسول بھیجا کرتے تھے اور کچھ الگ الگ طریقے بتایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ ساری انسانیت کو ایک ہی ہدایت اور ایک ہی طریقہ عبادت عطا کیا جائے جو مشرق و مغرب‘ شمال وجنوب کے سارے انسانوں کے لئے یکساں ہو تو اس لئے ساری انسانیت کے لئے ایک ہی رسول کو منتخب فرمایا جو ساری کائنات میں سب سے اعلیٰ و سب سے افضل ہیں۔ جامع ترمذی میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا
اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِیْ مِنْ خَیْرِ فِرَقِھِمْ وَخَیْرِ الْفَرِیْقَیْنِ ثُمَّ تَخَیَّرَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِی مِنْ خَیْرِ الْقَبِیْلَۃِ ثُمَّ تَخَیَّرَ الْبُیُوْتَ فَجَعَلَنِی مِنْ خَیْرِ بُیُوْتِھِمْ فَاَنَا خَیْرُھُمْ نَفْسًا خَیْرُھُمْ بَیْتًا
اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو مجھے بہترین مخلوق (انسانوں) میں پیدا فرمایا۔ پھر انسانوں کے دونوں گروہوں (عرب اور عجم) میں سے بہترین گروہ عرب میں پیدا کیا پھر خاندانوں سے انتخاب کیا تو مجھے بہترین خاندان (بنو ہاشم) سے پیدا فرمایا تو میں ذات کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر ہوں اور خاندان کے اعتبار سے بھی سب سے بہتر ہوں۔
صحیح مسلم میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے قریب کی تقسیم آپ نے اس طرح بیان فرمائی کہ
اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنْ وُلْدِ اِبْرَاہِیْمَ اِسْمَاعِیْلَ وَاصْطَفٰی مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ کنَانَۃَ وَاصْطَفٰی مِنْ کنَانَۃَ قُرَیْشًا وَاصْطَفٰی مِنْ قُرَیْشَ بِنِی ہَاشَمَ وَاصْطَفَانِی مِنْ بَنِی ہَاشَمَ‘ ۔
اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہم السلام کی اولاد سے اسماعیل علیہ السلام کو منتخب کیا پھر اسماعیل کی اولاد سے کنانہ کو پھر کنانہ سے قریش کو پھر قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم سے مجھے منتخب کیا۔
بچپن میں آپ کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمائی کہ باوجود دور جاہلیت کے آپ کسی بھی غلط کام میں کبھی ملوث ہوئے نہ شراب پی نہ گانے بجانے کی محفلوں میں گئے نہ کبھی جھوٹ بولا نہ بچوں کی سی شرارتیں کیں۔ شق صدر یعنی سینہ چاک کرکے اسے صاف کرنے اور حکمت و نور سے بھر دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی زبردست حفاظت فرمائی کہ آپ کے بدترین دشمن بھی کبھی آپ کے کردار پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ وہ ہمیشہ آپ کو صادق و امین کہا کرتے تھے اور شرک و جھوٹے معبودوں سے نفرت کا عالم تو یہ تھا کہ ابن ہشام نے آپ کی سیرت میں بیان کیا کہ جب آپ بارہ برس کے ہوئے تو چچا ابوطالب کے ساتھ شام کی طرف تجارتی سفر میں گئے ۔بصریٰ مقام پر پہنچے تو وہاں کے عیسائی عالم جرجیس عرف بحیرا راہب حجر و شجر کو جھکتا دیکھ کر بھاگا آیا‘ آپ کا ہاتھ پکڑا۔ آپ کے چچا کو آپ کے بارے یہ تبایا کہ یہ سیدالعالمین ہوگا۔ اس کا ہماری کتابوں میں تذکرہ ہے اس کے کمر پر مہر نبوت بھی ہے تو اس وقت اس نے آپ سے کہا‘ میں لات و عزیٰ کا واسطہ دے کر تجھ سے کچھ سوالات کرنا چاہتا ہوں تو فورا آپe بول اٹھے لَاتُقْسِمُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰی فَوَا اللّٰہِ مَا اَبْغَضْتُ شَیْئًا قُطُّ بُغْضًا
لات و عزی کا نام نہ لو اللہ کی قسم جتنی نفرت مجھ ان سے ہے ‘ اتنی کسی چیز سے نہیں؟
اس طرح اللہ کی حفاظت میں آپ پروان چڑھے۔ جب چالیس سال کی عمر کو پہنچے تو اللہ ذوالجلال نے تاج نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا۔ غار حرا میں قوم کی بے راہ روی پر کڑھتے اور حق راستے کی تلاش و جستجو میں راتیں گزارتے تھے کہ اللہ کی طرف سے سید الملائکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے۔ اَلْاِتِّقَانُ فِیْ عُلُوْمِ الْقُرْآنِ کے مطابق تحریر شدہ وحی اِقْرَا بِاسْمِ رَبِّکَ …سامنے کی اور کہا پڑھیں۔ فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں تو سینے سے لگا کر اس زور سے دبایا کہ سانس مشکل سے آنے لگا۔ پھر چھوڑ کر کہا‘ پڑھیں پھر آپ نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِیٍٔ میں پڑھا ہوا نہیں۔ پھر بازوئوں میں لے کر دبایا تین دفعہ ایسا کرنے کے بعد پانچ آیات پڑھائیں اور چلے گئے۔ آپ کے لئے یہ پہلا پہلا معاملہ تھا۔ بتقاضائے بشریت ڈر گئے۔ گھر آکر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے کہا‘ مجھے چادر دے دو مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کمال دلجوئی کی‘ آپ کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کیا اور کہااللہ آپ کو ضائع نہیں کریںگے۔ پھر ورقہ بن نوفل (اپنے چچا زاد) (تورات و انجیل کے عالم) کے پاس لے گئیں تو انہوں نے بتایا‘ یہ تو وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آیا کرتا تھا۔ پھر آپ کے ذریعے ہدایت دنیا میں پہنچانے اور اس راستے میں آنے والی تکالیف کا بتایا او راپنے بڑھاپے و نابینا پن کی وجہ سے حسرت کا اظہار کیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد ورقہ فوت ہوگئے۔ ادھر سلسلہ آمد جبرئیل منقطع کردیا گیا تاکہ آپ اپنے اندر حوصلہ و شوق پیدا فرمائیں۔ پھر ایک دن پیدل چل رہے تھے کہ آسمان کی طرف سے آواز سنائی دی‘ نگاہ اٹھائی تو وہی غار حرا والا فرشتہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا نظر آیا ۔ ایک طرف شوق میں بے قراری تھی کہ وہ دوبارہ کیوں نہیں آتا اور بے تابی رہتی‘ دوسری طرف وہ نظر آیا تو پھر ڈر گئے۔ واپس آکر کہا ’’مجھے چادر دے دو‘ مجھے چادر دے دو ‘‘ تو اللہ ذوالجلال نے فرمایا:
یَا اَیُّھَا الْمُدَثّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ …(المدثر1) اے چادر اوڑھنے والے‘ اٹھئے لوگوں کوخبردار کردیجئے اپنے رب کی کبریائی بیان کیجئے۔ لوگوں کو بتائو ۔
یَا اَیُّھَا النَّاسُ إِنِّی رَسُوُلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعًا … (الاعراف:158)
اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول اور نمائندہ بن کر آیا ہوں۔
ادھر وحی مسلسل آنے لگی اور اللہ کی طرف سے ہدایت لوگوں کو پہنچائی جانے لگی۔ جہالت‘ بت پرستی‘ کفرو شرک‘ طاغوتی نظام ‘ رسومات کو چھوڑ دینے بلکہ اللہ کے حق کی ادائیگی کے لئے انہیں کچل دینے اور روند ڈالنے کی دعوت ‘ ادھر عبادت کے طریقے اپنا لینے کی دعوت دی۔ صفا پہاڑی پر سب کو بلا کر اپنے کردار پرا عتماد اپنی سچائی کی تصدیق لینے کے بعد فرمایا۔ قُوْلُوْا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ‘‘ ادھر حکم یَا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (المائدہ 167) اے رسول! جو آپ پر نازل کیا جائے اسے ہمارے بندوں تک پہنچا دو‘ معجزات و دلائل کے انبار آنے لگے۔ اس طرح بتادیا گیا کہ یہ ہمارے رسول ہیں ہم نے انہیں اپنا رسول بنایاہے۔ ہم نے انہیں ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث کیا ہے۔ یہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے۔ وہی کہتے ہیں جو ان پر وحی کی جاتی ہے۔ جو یہ رسول تمہیں دیں ان سے لے لو اور جس چیز سے منع کریں‘ اس سے رک جائو‘ جو اس رسول کی اطاعت کرے گا‘ وہ اللہ کی اطاعت کرے گا‘ ان کی اطاعت کروگے تو ہدایت والے بنو گے‘ رسول ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ اللہ کے حکم سے ان کی اطاعت کی جائے۔ ہمیں اپنے رب ہونے کی قسم‘ یہ لوگ مومن نہیں بن سکتے حتی کہ آپ کے ہر حکم کو قبول کریں اپنے اختلافی معاملا ت میں بھی… لوگو اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔ پھر تم سے اللہ محبت کریں گے
ھُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفٰی بِاللَّہِ شَھِیْدً (الفتح 28)
اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تاکہ تمام ادیان پر اس ہدایت اور دین حق کو غالب کردے اور اس مقصد بعثت کی شہادت دینے والا اللہ ہی کافی ہے۔
اس ساری تحقیق سے ثابت ہوا کہ بعثت کا اصل مقصد انسانیت کو ہدایت پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی تکمیل ہے اور رسول کا اصل مقصد اللہ سے ہدایت و عبادت کے طریقے لے کر انسانیت تک پہنچانا اور ان کو سمجھانا ہے ۔ انسانیت کا اصل فرض رسول کو اللہ تعالیٰ کا نمائندہ و رسول سمجھ کر ان سے عبادت کے طریقے سیکھنا ہدایت لینا اور ان کے مطابق اللہ کی عبادت کرناہے۔
مگر افسوس! آج ان حقائق پر غور کرنے کی بجائے انسانیت خرافات و بدعات میں کھوئی ہوئی ہے۔ کوئی رسول eکو اس انداز سے لے ہی نہیں رہا‘ کوئی ان کی سنت و حدیث کو اللہ کی طرف سے سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ کوئی ان کی اطاعت میں مقصد تخلیق ماننے پر آمادہ نہیں۔ کوئی اپنی رسم و رواج طور طریقے چھوڑ کر ان سے ہدایت لینے اور اللہ کا حکم سمجھ کر ان کے نقش قدم پر چلنے کا نظریہ و عقیدہ رکھنے کی سوجھ بوجھ حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بس ان کی پیدائش پر خوشی منائیں گے‘ جشن منائیں گے‘ نام سن کر عقیدت کا اظہار کریں گے لیکن اصل مقصود کی طرف نہیںآئیں گے۔ زندگی گزارنے کے طریقے اپنی مرضی کے… اپنی مرضی کے بھی نہیں بلکہ غیروں کے ‘ یہود و نصاری کے ہندوئوں ‘سکھوں جیسے گندے غلیظ کافروں مشرکوںکے‘ نظام بھی ان کے‘ حجامت لباس بھی ان کے ‘شادی غمی بھی ان جیسی‘ گھر کا ماحول‘ کاروبار معاشرت سب ان جیسی … او ظالمو! تم نے اللہ کے رسول ﷺ کو کیا مانا انہیں کیسے قبول کیا؟ احترام و محبت تو یہ تھی کہ تم یہ جانتے کہ انہیں اللہ نے ہمارے لئے پسند فرمایا اور ان کے مقابلے پر ساری دنیا اس کی تہذیب اس کے رواج کو پائوں کی ٹھوکر میں رکھتے اور ان کی مبارک سنت کو سینے سے لگاتے۔ ان کی اطاعت میں اللہ کی عبادت کا عقیدہ رکھتے اور سمجھتے کہ غیروں کی نقالی و مشابہت سے ہم کس کی عبادت کرتے اور کس کی عبادت سے منہ موڑ رہے ہیں۔ تمہیں تو چاہئے تھا کہ اپنی جان‘ اپنی آن‘ اپنے ملک ‘ اپنے خاندان ‘ اپنے دوست اور اپنے کاروبار ‘ ان سب سے زیادہ رسولe سے محبت کرتے اور محبت کے اس معیار پر پورے اترتے جو خود رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا کہ
مِنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فَقَدْ اَحَبَّنِیْ مَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ
جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی (اسی معیار کی) وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
تمہیں تو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے تھا جو آپ نے فرمایا کہ
کُلُّ اُمَّتِیْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اِلاَّ مَنْ اَبٰی قِیْلَ مَنْ اَبٰی قَالَ مَنْ اَطَاعَنِی دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ اَبٰی‘
میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے اس کے جس نے (جنت میں جانے سے ) انکار کردیا۔ کہا گیا انکار کرنے والے کون ہیں؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں جائے گا اور جس نے میرا فرمان نہ مانا اس نے انکار کیا۔
مگر یہ کیسا ظلم کہ ایک گروہ نے انہیں اللہ کا رسول تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا۔ اہل کتاب نے کائنات کی افضل و اعلیٰ شخصیت کی عداوت‘ اللہ کی ساتھ دشمنی ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے عبادت کے طریقے وہدایت لینے سے انکار کردیا۔ محض اس حسد میں کہ یہ اسماعیل کی اولاد سے ہیںجبکہ ہم بنی اسرائیل ہیں لہٰذااللہ کو چاہئے تھا بنی اسرائیل سے رسول بھیجتا اس نے عربوں سے اور اسماعیل کی اولاد سے رسول کیوں بھیجا؟ اس لئے ہم نہیں مانتے۔ یہودی بھی اسی حسد میں۔ صلیبی بھی اسی حسد میں۔ ایک اور گروہ نے آباء و اجداد کے رسم و رواج کو چھوڑنا پسند نہیں کیا اور اللہ کی عبادت والے مقصد کو ہی بھلادیا۔ انہوں نے اللہ کی حیثیت کو سرے سے تسلیم کرنا چھوڑ دیا اور دہریئے بن گئے۔ اللہ کی زمین پر رہ کر اس قدر جہالت و غفلت کہ آسمان‘ زمین‘ بارش پیداوار‘ پہاڑ‘ شمس و قمر کے نظام دیکھ کر بھی اس قادر مطلق کو نہ پہچان سکے‘ ان کی اپنی ہی تہذیب اور اپنی ہی زندگی ہے جو جانوروں‘ وحشیوں سے بھی بدتر ہے۔ ایک گروہ نے بتوں‘ قبروں‘ ولیوں اور مجسموں کو پکارنا پوجنا اپنا دین بنا رکھا ہے اور شرک کی دلدل میں اس طرح غرق ہوئے کہ انہوں نے رسول eکے لائے ہوئے عبادت کے طریقوں سے تعصب و عداوت کا راستہ اختیار کیا اور اللہ کے رسول کو ایمان و احترام کی عزت نہ دی۔ بہت افسوس والی بات یہ ہے کہ ایمان والے لوگوں کا ایک بہت بڑا حصہ ماننے کی حد تک تو آپ کو رسول مانتا ہے مگر آپ eکی لائی ہوئی ہدایت کو پڑھنے ‘سننے اور سمجھنے سے انکاری ہے کہ ہم اسے پڑھ ہی نہیں سکتے ۔ ہر گروہ نے اپنے اپنے بزرگ اور امام بنالئے اور ان کے ہر قول وفعل کو ماننا اپنے آپ پر لازم کرلیا ۔گویا اللہ نے اپنے رسول کی بجائے ان سے ہدایت لینے اور اطاعت کرنے کا حکم دیاہے… حالانکہ نہ ان پر وحی نازل ہوئی نہ ان کو اللہ نے اپنا نمائندہ بنایا۔ مزید برآں دنیا میں اللہ کے رسول کی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے ان کفار و مشرکین نے اپنے گندے نظام‘ اپنے ہیروز‘ اپنی تہذیب و ثقافت کو میڈیا کے زور پر منوانا شروع کردیا اور رسولe کی اطاعت کو‘ سنت کو ختم کرنے پر پورا زور صرف کردیا۔ مستزاد یہ کہ اس نبی سمیت تمام انبیاء کی توہین و تحقیر کا انداز اختیار کیا‘ ان کی فلمیں اور گستاخانہ خاکے بنائے اور یہ سب کچھ اس ترقی یافتہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ ایسے عالم میںاہل ایمان سے گزارش ہے کہ وہ نبیe کی بعثت کا اصل مقصد سمجھیں۔ کفار و مشرکین کی دشمنیوں اور ریشہ دوانیوں سے واقفیت حاصل کریں۔ نبی eکے خاکوں کے خلاف نفرت کا اظہار بجا‘ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے رسولe کو اس انداز سے قبول کریں جس طرح قبول کرنے کا حق ہے۔ ان کی عزت و ناموس کو دنیا میں عملًاقائم کریں۔ ان کے نظام ہدایت اور دین حق کو دنیا میں نافذ کرنے کے لئے دعوت و جہاد کا وہی راستہ اپنائیں جو خود رسول اللہ e نے اپنایا کہ ’’
اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلُ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ …
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے قتال کروں حتی کہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدe اللہ کے رسول ہیں۔ دنیا کے باطل اور کفریہ وشرکیہ نظاموں کو ختم کریں اور رسولe کا لایا ہوا نظام جو اللہ کی طرف سے ہے‘ اسے دنیا میں قائم کریں۔ تب ہی ہم اللہ کے نبیe سے اپنی محبت کا حق ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں