31

بزدار کا استعفیٰ منظور، پنجاب اسمبلی اجلاس آج طلب، وزارت اعلیٰ کیلئے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز میں مقابلہ، کل ووٹنگ کا امکان

لاہور(ایجنسیاں‘ٹی وی رپورٹ) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کر لیا،نئےوزیراعلی ٰ کے انتخاب کیلئےپنجاب اسمبلی کا اجلاس آج2اپریل کو طلب، وزارت اعلیٰ کیلئے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز میں مقابلہ ہوگا جس کیلئےووٹنگ کل ہونے کا امکان ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ منظور ہونے کے بعد پنجاب کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے ،محمد عثمان بزدار کے وزارت اعلی ٰکے عہدے سے استعفیٰ کی منظوری کے بعد ان کی پوری کابینہ کے 37 وزراء،5 مشیروں اور 5 معاونین خصوصی کو عہدوں سے سبکدوش کرنے کے کیبنٹ ونگ نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیے ہیں۔گورنر پنجاب نے نئے قائد ایوان کے انتخاب کیلئے آج 2 اپریل کو پنجاب اسمبلی چیمبرز میں دن 11بجے اجلاس طلب کرلیا ہے آ ج ہونے والے اجلاس میں اسمبلی سیکرٹریٹ آج ہی قائد ایوان کے انتخاب کے حوالے سے شیڈول جاری کرے گا۔ذرائع کے مطابق قائد ایوان کیلئے کاغذات نامزدگی اور سکروٹنی اور انتخابی عمل کے دن کا اعلان کیا جائے گا۔ انتخابی شیڈول اور قائد ایوان کے چناؤ کی تاریخ سپیکر پنجاب اسمبلی کا استحقاق ہے۔اسمبلی ذرائع کے مطابق قائد ایوان کے حوالے سے ووٹنگ اتوار کے روز ہونے کا امکان ہے۔گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ بزدار کے استعفے کی تصدیق کا قانونی عمل مکمل کرنے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کو مدعو کیا۔ عثمان بزدار کی جانب سے استعفے کی تصدیق کے بعد قانونی عمل مکمل ہوگیا۔ گورنر پنجاب نے عثمان بزدار کے استعفے کی منظوری پر دستخط کر دیئے۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد گورنر نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔ نوٹیفکیشن سے پہلے گورنر نے وزیراعظم سے حتمی اجازت لی۔ وزارت اعلیٰ کی ریس میں پرویز الہی اور حمزہ شہباز شامل ہیں پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی چودھری پرویز الٰہی وزارت اعلیٰ کے امیدوارہیں۔سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کے مطابق آج پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں ہوگا۔سپیکر ایوان کو مطلع کریں گے کہ اس وقت لیڈر آف دی ہائوس نہیں ہیں تو ان کے انتخاب کے لیے انتخابی شیڈول جاری کر رہے ہیں۔عام طور پر لیڈر آف دی ہائوس کا انتخاب شیڈول جاری ہونے کے اگلے روز ہوتا ہے، جس میں امیدوار اپنے کاغذات جمع کراتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر کریں گے کیونکہ سپیکر خود بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ اسمبلی رولز کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں اور وہ استعفیٰ دیے بغیر بھی حصہ لے سکتے ہیں ہے لیکن کامیابی کے بعد انہیں سپیکرکے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس سے تحریک انصاف کے امیدوار برائے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وزیر شفقت محمود اور راجہ بشارت نے خطاب کیا۔ پارلیمانی پارٹی نے نامزد وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور انہیں کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران چودھری پرویزالٰہی کو بطور وزیراعلیٰ واضح اکثریت سے کامیاب کرانے کیلئے جامع حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں ن لیگ کے ارکان پنجاب اسمبلی کی کثیر تعداد اور چھینہ گروپ کے ارکان نے بھی شرکت کی۔ چودھری پرویزالٰہی نے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان اور سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جس عہدے کیلئے نامزد کیا گیا ہے اسے پوری خلوص نیت کے ساتھ نبھانے کی کوشش کروں گا، ہم نے عثمان بزدار کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا، ہم نے دو بڑی پارٹیوں کو زیر کر دیا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں، انشاءاللہ ووٹنگ کے روز کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی دل جیتے ہیں اور آئندہ بھی جیتیں گے، سب کوساتھ لے کر چلیں گے، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان کی بھرپور شرکت خوش آئند ہے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ امید ہے کہ چودھری پرویزالٰہی کو وزیراعظم عمران خان نے نامزد کیا، پوری قوت سے حمایت کریں گے، چودھری پرویزالٰہی مجھ سے بہتر پنجاب کی خدمت کریں گے، ہماری کوشش ہے کہ چودھری پرویزالٰہی کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ملیں، چودھری پرویزالٰہی کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی سے دیرینہ تعلق ہے اور میں تعلق نبھانا جانتا ہوں، ہمارے ارکان اسمبلی متحد ہیں، تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ یک جان دو قالب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عوام کی خدمت کو مشن بنایا، ضمیر مطمئن ہے کہ کرپشن کا ایک بھی سیکنڈل نہیں۔ سردارعثمان بزدار اور چودھری پرویزالٰہی ارکان اسمبلی کی نشستوں پر گئے اور ان سے حال احوال دریافت کیا۔ پارلیمانی پارٹی نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ سردار عثمان بزدارنے محنت اور جانفشانی سے فرائض سرانجام دیئے۔ پارلیمانی پارٹی کے شرکا نے نشستوں سے اٹھ کر عثمان بزدار کی پارٹی اور صوبے کیلئے خدمات کو سراہا اور تالیاں بجائیں۔رات گئے وفاقی وزیر مونس الٰہی نے جہانگیر ترین گروپ کے اراکین سے صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں چودھری پرویز الٰہی کو ووٹ دینے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ترین گروپ کے 15اراکین صوبائی اسمبلی شامل تھے جنہوں نے مونس الٰہی کو مثبت جواب دینے کا یقین دلایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں