47

بجٹ کے حکومتی تخمینے

51 / 100

30جون کو اپنی مدت پوری کرنے والا رواں مالی سال کا بجٹ عبدالحفیظ شیخ کی سرکردگی میں دوسرا سالانہ فنانس بل تھا اس سے قبل پی ٹی آئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے چند ہفتوں بعد 18ستمبر کو اُس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے 2018کا ترمیم شدہ (ضمنی) بجٹ دیا تھا۔ اس لحاظ سے 11جون کو موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین حکمران جماعت کا چوتھا فنانس بل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے جسے آئی ایم ایف کی زیر نگرانی تیار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی بجٹ 2020-21کورونا وبا کے باعث جس عالمی کساد بازاری اور دگرگوں ملکی اقتصادی حالات میں پیش کیا گیا اس سے سبھی واقف ہیں اور آج بھی صورتحال کو یکسر بدلا ہوا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس ایک عرصہ میں جہاں تین سال سے انتظار میں بیٹھے سرکاری ملازمین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ مظاہروں تک جا پہنچاوہاں پاکستان پر غیرملکی قرضوں کے حجم میں 3.2ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اورمہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرینِ معاشیات نے اسے تاریخی خسارے کا بجٹ قرار دیا جس کی رو سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں عدم اضافے کا یہ دوسرا سال تھا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خراب ملکی اقتصادی حالت کی وجہ سے دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ آئندہ مالی سال 2021-22کے تناظر میں وزیر خزانہ شوکت ترین پرامید ہیںکہ آئی ایم ایف ان کی تجاویز مان لے گا جس کی رو سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا دیرینہ مسئلہ حل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا جس سے مہنگائی کم کرنے میں عمومی مدد ملے گی۔ ان توقعات کی روشنی میں معاون خصوصی برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر وقار مسعود نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کو آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق رائے سے جو شکل دی جا رہی ہے اس میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، جی ڈی پی کی شرح نموپانچ فیصد، ملکی معیشت کا حجم 54ہزار 381ارب روپے ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی پی پیز کی ادائیگیوں اور پاور سیکٹر کیلئے سبسڈیز جاری رہیں گی جبکہ گراس ریونیو ہدف 7989ارب روپے اور مالی خسارہ جی ڈی پی کا 7.3فیصد رہے گا۔ معاون خصوصی نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ ابھی بھی دباو میں ہے اس کیلئے اشیائے خور و نوش کی مہنگائی کے حوالے سے آئی ایم ایف تعاون کرے گا۔ سیلز ٹیکس میں کمی کی تجویز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ اس کے لئے انعامی اسکیم لانا چاہتے ہیں جس کا فائدہ خریدار کو ہو گا جبکہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فی الوقت موخر کر دیا گیا ہے یہ اچھی تجاویز ہیں تاہم ان میں مزید بہتری کی گنجائش ہے مثلاً یہ کہ ملک گیرسطح پر اس وقت بھی لاکھوں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جنہیں بہر صورت سرکاری کاغذات میں لانا چاہئے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنا ہی کافی نہیں گزشتہ چھ ماہ میں بڑھائے گئے نرخ بھی واپس لینے چاہئیں تاکہ مہنگائی کی چکی میں پسے افراد اس سے پیدا شدہ براہِ راست اور بالواسطہ معاشی دبائو سے نکل سکیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت ایک اور اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں آئندہ بجٹ میں صنعت اور برآمدی شعبے کیلئے نئے ٹیرف کے معاملات کا جائزہ لیا اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا جس میں سستی توانائی کا معاملہ فی الواقع نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ برآمدی شعبے کا تعلق غیر ملکی زرمبادلہ سے ہے اور کم و بیش 20برس جمود کا شکار رہنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملی ہے امید ہے کہ اس سلسلے میں ایوان ہائے صنعت و تجارت کی مشاورت کو بھی خاطر میں لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں