بجنگ آمد . کرنل محمد خان 79

بجنگ آمد . کرنل محمد خان

بجنگ آمد

مصنف کا مختصر تعارف:
اردو ادب کے ممتاز مزاح نگار اور مشہور زمانہ کتاب ’’بجنگ آمد ‘‘کے مصنف ’’محمد خان ‘‘پاکستان میں ا یک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔وہ پطرس بخاری اور شفیق الرحمن جیسے مزاح نگاروں کے ہم پلہ مزاح نگار سمجھے جاتے ہیں ۔مشہور ادیب مشتاق یوسفی کے بقول کرنل محمد خان کے مزاح کا ڈسا ہوا سوتے میں بھی ہنستا ہے۔
کرنل محمد خان نے جنگ عظیم دوم میں اپنے فوجی کیرئیر کا آغاز کیا اور اپنے فوجی تجربات کو اپنی مزاحیہ کتاب میں کچھ اس طرح سمویا کہ پڑھنے والے آج بھی اسی طرح لطف اندوز ہوتے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔انہوں نے طنزو مزاح پر تین کتابیں لکھیں لیکن ان کی شہرت کی اصل وجہ ان کی پہلی کتاب، بجنگ آمد ہے ۔ زیر نظر کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب پاکستان میں دس مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔
کتاب کا پس منظر:
زیر نظر کتاب بجنگ آمد مصنف کرنل محمد خان کی اپنی خود نوشت ہے جسے انھوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران لکھنا شروع کیاجب وہ برطانوی انڈین آرمی میں بطور آفیسر کام کر رہے تھے ۔ ان کی یہ پہلی اردو کتاب ہلکے پھلکے مزاح کا حسین مرقع ہے۔ کرنل صاحب کی یہ کتاب نہ تو پھکڑ پن ہے اور نہ ہی کسی گھٹیا مزاح کا مجموعہ بلکہ یہ کتاب سادہ ،معصوم ، برجستہ ،مہذب اورمزاحیہ انداز میں میں ایک عام سے فوجی افیسر کی عسکری زندگی پر روشنی ڈالتی ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے کرنل محمد خان کو پاکستان کا صف اول کا مزاح نگار سمجھا جاتا ہے۔
کتاب کے اہم نکات:
یہ کتاب کرنل صاحب کی اپنی سوانح زندگی پر مشتمل ہےجو12 ابواب میں لکھی گئی ہے ۔ یہ جنگی حالات اور واقعات کا ایک ایسا مزاحیہ مجموعہ ہے جو عام فہم انداز میں ان کی تربیت سے لیکر پاکستان بننے کے مراحل پر روشنی ڈالتا ہے ۔کتاب میں درج واقعات کا اصل حسن سادگی اور خلوص نیت ہے۔ وہ بیتے ہوئے واقعات کو اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ان کی تحریر میں چھپی ہوئی ظرافت پڑھنے والے کے دل میں گھر کر جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے انداز بیان میں مزاح کے ساتھ ساتھ انسانی کمزوریوں ،جھوٹ،تصنع اور بناوٹ کے رویوں پر بھی گہرے طنز سے گریز نہیں کیا ہے۔ ان کے مزاحیہ مضامین میں تنوع ،سادگی ، برجستگی اورندرت پائی جاتی ہے۔
Key-1۔ فوج میں شامل ہونا:
کتاب کا آغاز مصنف اپنی فوج میں بھرتی سے کرتے ہیں۔ وہ مزاحیہ انداز میں کہتے ہیں کہ ابھی ان کی پڑھائی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کردیا اور مصنف سے حملہ کرتے وقت ہٹلر نے مشورہ نہ کیا جس سے مصنف کے ذاتی پروگرام پر بہت گہرا اثر پڑا۔مصنف گلہ کرتے ہیں کہ اگر ہٹلر دوماہ اور جنگ نہ چھیڑتا تو انہیں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کا موقع مل جاتا۔وہ اپنی فوج میں شمولیت کو ایک اہم تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:’’ ہٹلر کو یہ معلوم نہیں تھا کہ لاہور کے ایک گمنام گوشے میں تاریخ کا ایک اہم واقعہ نمودا ر ہو رہا ہے۔‘‘ مصنف کے خیال میں ان کا فوج میں شامل ہونا نہ تو انگریزوں کو خوش کرنے کے لئے تھا اور نہ ہی ہٹلر کو ناراض کرنے کے لئے بلکہ انکو صرف سیکنڈ لیفٹینٹ بننے کا شوق تھا جس کے تعاقب میں وہ بھرتی دفتر تک جا پہنچے تھے۔ ان دنوں آج کل کی طرح افیسر بننا مشکل نہیں تھا بلکہ بہت آسان تھا ۔چنانچہ ایک بزرگ سے جرنیل اور چندبوڑھے بریگیڈئیرزنے ان کاانٹرویو کیا۔مصنف کہتے ہیں ان کا پہلاانٹرویو راولپنڈی اور دوسراشملہ میں ہوا ۔ ان دنوں اگر چہ ان کا کوئی عزیز فوج میں نہیں تھا لیکن انہوں نے کھینچ تان کر چچازادوں اور ماموں زادوں کو کیپٹن بنا کر کچھ اس انداز میں پیش کیا کہ وہ بزرگ جرنیل کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے بعد بھی کچھ چچازاد بھائی بچ گئے جن کا حوالہ دینا باقی تھا لیکن جرنیل صاحب ان کے جواب سے کافی مطمئن ہو چکے تھے۔ ان کاخیال تھا جب بندہ انٹرویو پاس کر لے تو افیسر بن جاتا تھا لیکن ایسا نہ ہوا۔ مصنف کو اس وقت بہت مایوسی ہوئی جب ان کو بتایا گیا کہ افیسری کے درمیان میں نو ماہ کی فوجی ٹریننگ حائل ہے اور کندھے پر سٹار سجانے کے لئے انہیں نوماہ انتظار کاکرنا پڑے گا۔ لہذا انہوں نے ٹرینگ کے مشکل مرحلے کو خندہ پیشانی سے گزاراجو تکلیف دہ تھا۔انڈیا کے شہر مہو کے ٹریننگ سنٹر میں ان کو جو بات خاص طور پریاد رہی وہ وہاں کے سارجنٹوں کی اپنی ایک الگ لغت کا استعمال تھا۔ مثال کے طور پر ایک دن پریڈ کے درا ن ان کا ایک ساتھی کیڈٹ کسی بات پر ہنس پڑا تو سارجنٹ نے کہا: آپ کو دیکھ کر ضبط تولید کا پروگرام جائز معلوم ہوتاہے‘‘۔ اسی طرح جب کوئی مکھی پریڈ کے دوران منہ پر آ کر بیٹھ جاتی تو سارجنٹ گویا ہوتا: Don’t Kill no fly۔
جب ٹریننگ کا چھ ماہ کا عرصہ گزرا تو مصنف کو سگنل کورس کے لئے منتخب کر لیا گیا جومہو میں تھا۔وہاں کا ماحول کسی حد تک نرم تھا اور ان سے ذرا بہتر انداز میں سلوک کیا جاتا تھا ۔ ان کویہاں پہنچ کر ایسا لگا جیسا نظام سقہ کو محسوس ہواتھا ۔جب اس کو ہمایوں بادشاہ نے ایک دن لئے حکومت عطا کی تھی۔ مہو میں قیا م کافی خوشگوار تھا اور کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا لیکن دوران تربیت ان کے ایک سکھ کیڈٹ ساتھی ارجن سنگھ کا واقعہ پیش آیا جو کلاس روم میں شراب پی کر آ جاتا تھا اور کلاس میں بہکی بہکی بات کرتا تھا ۔ سب اس ٹوہ میں تھے کہ وہ یہ راز پا سکیں کہ آیا کہ وہ شراب کہاں سے نکال کے پیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’ارجن سنگھ ایک قوی ہیکل اور خوش مزاج کیڈٹ تھا اور پینا اس کی کمزوری تھی ، ایک شام ارجن سنگھ کو معمول سے زیادہ بدمست پایا گیا۔ حالانکہ اس دن ا رجن نے میس میں شراب کو چھوا تک نہیں تھا۔ دوسرے روز کلاس میں بھی ارجن سنگھ معمول سے زیادہ موج میں تھا اور کلاس کے رستے میں کوئی مے خانہ بھی نہ پڑتا تھا۔ ہمارے ایک انگریز ساتھی نے شرارتاًَکہہ دیا کہ ارجن سنگھ نمبو پانی پر ہی ٹائٹ ہوگیا ہے۔
ارجن سنگھ اس تہمت پر بزرگانہ انداز میں مسکرا دیا۔ شام ہوئی تو ارجن سنگھ کی مستی عروج پر تھی۔ دفعتاً اپنے کمرے سے نکلا اور دوسرے کیڈٹ کی کمر میں بازو ڈال کرنا چنے لگا۔ معما یہ تھا کہ ارجن سنگھ آخر کیا پی رہاجو دو روز سے ہوش میں نہیں آتا۔رقص جاری تھا کہ ہمارے کمان افیسرکرنل صاحب ادھر آنکلے ۔ وہ بھی ارجن سنگھ کی مستی کا عقدہ حل کرنے کی فکر میں تھے ۔ ارجن سنگھ نے انہیں دیکھا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔آگے بڑھا اور کرنل صاحب کی کمر میں ہاتھ ڈال کر ناچنے لگا لیکن کرنل صاحب نے مسکرا کے کہا: ارجن سنگھ ناچیں گے بعد میں آؤ ذراتمہارے کمرے میں بیٹھتے ہیں ۔ا رجن سنگھ بخوشی راضی ہوگیا۔بدستور کرنل صاحب کی کمر میں بازو ڈالے انہیں کمرے میں لے گیا اور حسب دستور پوچھا کہ کچھ پیئیں گے؟ کرنل صاحب یہی تو معلوم کرناچاہتے تھے۔ چنانچہ انگریزوں کا روایتی فقرہ بولے I would love it۔ اس پر ارجن سنگھ اٹھا، اپنا پلنگ الٹایا۔ نیچے دو کنستر دیسی شراب کے پڑے تھے ۔ ارجن سنگھ نے ایک پر سے ڈھکنا اٹھایا اور ایک لمبا گلاس لبا لب بھر کر کرنل صاحب کو پیش کیا ۔کرنل صاحب ذرا جھجکے تو ارجن سنگھ بولا:’’ چھک جاؤ موتیاں والیو آہ وہسکی ہے آپاں گھر بناؤنے آں۔ ‘‘ کرنل صاحب کی سمجھ میں تو نہ آیا البتہ انہوں نے ارجن سنگھ کی خوشنودی کے لئے گلاس منہ سے لگایا ۔ خدا جانے ارجن سنگھ خانہ ساز میں کیا تاثیر تھی کہ کرنل صاحب ایک دفعہ گلاس کو ہونٹوں سے لگانے کے بعد جد نہ کر سکے اور پورا گلاس حلق میں انڈیل لیا۔ راوی یعنی ارجن سنگھ کے بیرے کا کہنا ہے کہ کرنل صاحب نے دوسرا گلاس اپنے ہاتھوں سے بھرا اور چڑھا گئے۔ کوئی آدھا گھنٹہ بعد جو نظارہ ہم باہر کھڑے ہوئے تماشاہیوں نے دیکھا، یہ تھا کیڈٹ ارجن سنگھ اور کرنل صاحب اپنے اپنے ہاتھوں میں جام شراب تھامے اور بازو ایک دوسرے ارد گرد حمائل کئے تھرکتے تھرکتے کمرے سے باہر آتے ہیں۔ہم سے قطع نظر کئے ہوئے چل نکلتے ہیں۔اگر کسی سے ذرا آنکھ لڑ جاتی ہے تو نہایت چابکدستی سے آنکھ مارتے ہیں اور آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ارجن سنگھ کا بیراسر پر کنستر اٹھائے ان کے پیچھے پیچھے رواں ہے۔ بیرے سے پوچھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کنستر کی منزل کرنل صاحب کا بنگلہ ہے۔‘‘
Key-2۔پشاور اور میران شاہ:
مصنف سگنل سنٹر کی تربیت کے بعد پشاور بھیج دئیے گئے اورپہلی مرتبہ ان کو فوجی آفیسر میس میں قیام کرنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ ان کے ساتھ اس دوران انگریز آفیسر قیام پذیر تھے جو جنگ کی وجہ سے افیسر تو بن گئے تھے لیکن ان کی عادات سارجنٹوں جیسی تھی۔ جب ان کے ساتھ ان بن ہوئی تو مصنف کو میران شاہ بھیج دیا گیا جہاں فقیر ایپی کے ساتھ انگریز جنگوں کا سلسلہ شروع تھا۔ ان کو اس دوران ایک پٹھان خدمت گار شیر باز خان ملا جو نہیں چاہتا تھا کہ مصنف کو جوانی میں ہی موت آجائے ۔ اس نے مصنف کو بتایا جنگ زدہ علاقوں میں ایک انگریز افیسر لاپتہ ہو گیا تھا جس کے صرف دو کان مل سکے ہیں ۔ شیر بازخان نے ان کو بتایا کہ قبائلی پٹھان مسلمان کی لاش کی بے حرمتی نہیں کرتے۔ اس پر مصنف کی کچھ ڈھارس بندھی کہ چلو اگر مارے گئے تو کم از کم لاش کی بے حرمتی تو نہیں ہو گی۔ فقیر ایپی کے ساتھ کافی دن تک کشمکش جاری تھی ۔مصنف جب میران شاہ پہنچے تو لیفٹینٹ ٹام کو فارغ کیا جس نے آکر پشاور میں انگریز افیسرز کے ساتھ شطرنج کھیلنا تھی۔مصنف میران کے قیام کے دوران وہاں کے کلچر اور پٹھانوں کے جنگی رحجانات اور فائرنگ کے معمول پر بڑی خوبصورتی سے تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’ اس کے بعد ہر روز سر شام پہاڑ کے کسی کونے سے مصرع طرح کے طور پرایک قبائلی گولی آ نکلتی اور یہ شعر گوئی اس وقت تک جاری رہتی جب تک جواب میں ایک پوری غزل نہ پیش کر دی جاتی۔ ‘‘
۔ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ مصنف کو واپس بلا کر بتایا گیا کہ اس نے جنگ عظیم دوم میں شرکت کرنے کے لئے مڈل ایسٹ سے ہوتے ہوئے افریقہ کے صحرا میں جانا ہے جہاں ہٹلر اور انگریزوں کے درمیان شدت سے صحرائی جنگ جاری تھی۔مصنف ایجویٹنٹ سے یہ حکم سن کر ابھی باہر نکلے ہی تھے کہ دفتر کے باہر کیپٹن جان رائٹ جو ایک شریف برطانیوی افیسر تھا ، کھڑا تھا۔ اس نے مصنف کے جنگ پر جانے پر کچھ یوں تبصرہ کیا:
’’ دیکھا یہ ان سارجنٹوں کی سازش ہے۔ سمندر پار ٹام کو جاناچاہیے تھا ۔ وزیرستان کی جنگ اب تو ختم ہونے والی ہے۔ دو دن کے لئے ٹام کو وہاں بھیج دیا ہے۔ وہ کل پرسوں آجائے گا اور پھر یہ مزے سے برج کھیلیں گے اور تم ؟ خدا تمہاری حفاظت کرے۔ سر کو ذرا جھکا کر رکھنا! مصنف نے اس کا رد عمل کچھ یوں دیا:’’یہ سن کر دل کو سخت صدمہ ہوا فوراًشیر باز کو طلب کیا اور تکے کباب کا آرڈر دیا اور ساتھ ہی شطرنج کی کتاب منگوا کر مطالعہ شروع کرد یا۔ ‘‘
Key-3۔ مصنف بصرہ میں:
مصنف پشاور سے راولپنڈی اور اس کے بعد بمبئی پہنچے لیکن جس بحری جہاز میں سیٹ بک کروائی تھی وہ تو جانے کا نام نہیں ہی لیتا تھا۔ مصنف اس دوران اللہ میاں سے دعا کرتے رہے کہ کوئی ایسا معجزہ رونما ہو جائے کہ وہ جنگ پر جانے سے بچ جائیں۔ لیکن ان کی دعا کارگر ثابت نہ ہوئی اور ان کو جانا ہی پڑا۔ وہ سات دن بعد بصرہ کی بندرگاہ پر جا اترے جہا ں سے ان کو بصرہ سے چند کلومیٹر دور شائبہ نامی فوجی چھاؤنی میں لے جایا گیا۔ وہاں افیسر اور جوان محاذ جنگ پر جانے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ مصنف ایک کپتان صاحب کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ ایک کپتان صاحب کا جنگ پر جانے کا وقت سفر نہ بھولے گا۔ یہ حضرت شائبہ(جگہ کا نام) کے بانیوں میں سے تھے اور آپ نے اپنا تمام وقت اس چھوٹے سے دائرے میں گزار دیا جس کا مرکز کیمپ کا میس تھا۔ حضور کا بڑا ثقیل سا نام تھا جو چھوٹی ’’ی‘‘ پر ختم ہوتا تھا ۔ مزاج میں رنگینی تھی اور اپنی شجاعت اور عشق کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ بلکہ ان دنوں اپنی مرادآبادی معشوقہ کو بصرہ میں لانے کے منصوبے بنا رہے تھے ۔ اچانک ایک دن آپ کو محاذ پر جانے کا ذرا اٹل سا حکم مل گیا۔ کیا بتائیں کہ اس مجاہدِ عظیم نے اس مہم سے بچنے کے لیے کیا کیا بہانے نہ تراشے؟ آپ نے جملہ انگریز افیسروں کو باآواز بلند خبردار کیا کہ یاد رکھو! اگرہمیں محاذ پر بھیج دیا تو شائبہ ویران ہو جائے گا۔ ہندوستانی فوج کا مورال تباہ ہو جائے گا اور ادھر سلطنت برطانیہ کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔ دلائل بے شک وزنی تھے لیکن ظالموں نے ان کا وزن کرنے سے ہی انکار کردیا اور آپ کو اس لاری پر سوار ہونا ہی پڑا جو ایک صبح محاذ کو کمک لے کر جا رہی تھی۔‘‘
مصنف کہتے ہیں کہ شائبہ کے قیام کے دوران دو طرح کے انگریز افیسروں سے ملاقا ت کا شرف حاصل ہو ا ایک وہ تھے جوہندوستان میں قیام کر چکے تھے اور جو ہندوستانیوں کو اپنا غلام سمجھتے تھے اور ان کو تحقیر آمیز انداز میں حکم دیتے تھے جبکہ دوسرے ایسے بھی تھے جنہوں نے کبھی ہندوستان کو نہیں دیکھا تھا اور وہ ایک غیر ملکی کو برطانیہ کے لئے لڑتا دیکھ کر ایسے ممنون ہوتے تھے جیسے محمد علی کلے کے قبول اسلام پر دنیا بھر کے مسلمان مسرور ہوئے تھے۔ شائبہ میں قیام کے دوران ان کے ایک ساتھی افیسر کیپٹن اجندر بتالیہ کے خلاف ایک کیس کھڑا ہو گیا کہ جب وہ بصرہ کیبرے (ڈانس)دیکھنے جا رہا تھا تو جب اس کوکوئی گاڑی نہ ملی تو وہ آرمڈ کار لے کر ڈانس دیکھنے چل نکلا۔ اس پر مقدمہ چلایا گیا اور اس نے اپنے دلائل میں کہا کہ وہ نائٹ ٹریننگ پر جا رہا تھا کہ راستہ بھول کے ڈانس کلب کی طرف چل نکلا ۔ اس پر انکوائری کمیٹی نے سفارش کی کہ کیپٹن اجندر بتالیہ کا کوئی قصور نہیں تھا۔ لہذا اس کو ایک اچھا سا کمپاس دیا جا ئے تا کہ وہ آئندہ راستہ نہ بھولے۔اس دوران مصنف میجر مڈ وے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک انتہائی شر انگیز اور فتنہ پرور شخص تھا۔ ایک دن مجھے اس سے کام پڑ گیا ۔ میں نے چق اٹھا کر کہا:سرا یک سیکنڈ کے لئے میں اندر آسکتا ہوں؟اس نے کہا آجاؤ۔ میں جیسے ہی اندر گیا۔ میجر مڈوے نے قطعی لہجے میں کہا : ایک سیکنڈ گزر چکا ہے اب آپ جا سکتے ہیں۔ بات تو ٹھیک تھی ایک چھوڑو، ڈھیڈ سیکنڈ ہو گیا تھا۔ لہذا میجر کو سیلوٹ کیا اور باہر نکل آئے۔
Key-4۔ مصنف کیارہ کے صحرا میں:
شائبہ سے مصنف کا تبادلہ بریگیڈ میں ہوا جو کیارہ نامی صحرا میں تعینات تھا۔یہ ایک بے آب و گیاہ علاقہ تھا لیکن مصنف کو اس لئے پسند آیا کہ بریگیڈ کمانڈر ایک نیک دل اور محنتی انگریز افیسر تھا جس کی جنگ کے دوران ٹانگ کٹ چکی تھی اور وہ ا پائج ہونے کے باوجود زندہ دل اور انصاف پسند شخص تھا اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا تھا۔ان کو وہاں دو انگریز افیسران کیپٹن مینفیلڈ اور کیپٹن شا،کے ساتھ کام کر نے کا موقع ملا ۔ اولذکر سابقہ سارجنٹ تھے اور ان کو بات بات پر گالی دینے کی عادت تھی جبکہ موخر الذکر انگلینڈ کا پڑھا لکھا اور ملنسار فوجی افیسر تھا۔مصنف اس دوران ایک ہندو کپتان مہتہ پر شدید تنقید کرتے ہیں جو سڑیل ، غلامانہ ذہن کا مالک اور خوشامد پسند شخص تھا اور ہر وقت انگریزوں کو خوش کر نے میں لگا رہتا تھا۔ مصنف کہتے ہیں کہ ایک سال کے قیام کے دورا ن انہوں نے مہتہ سے ایک دو ہی باتیں کی ہوں گی۔ بریگیڈ افیسر میس میں قیام کے دوران ایک عراقی عیسائی بیرا تھا جس کا نام تو معلوم نہیں لیکن سب ا سکو نپولین بوناپارٹ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ ایک دن ایک اور بیرے بوجم کو اس نے غصے میں آکر پیٹ ڈالا لیکن بوجم نامی مدراسی بیرا اطمنان سے مار کھاتا رہا اور اور اس کو رتی بھر اثر نہ ہوا ۔نپولین نے جب دیکھا کہ اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو مار ناچھوڑ دیا اور اس کے ساتھ پیار سے لپٹ گیا۔ مصنف کے بیرے کا نام ہربنس سنگھ تھا جو کٹر پنجابی تھا ۔ ایک دن اس کا انڈیا سے تار آیا :Your Father is hopeless come soon۔ مصنف اس کے تار کا مطلب سمجھ گئے یعنی وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ تمہارے باپ کی حالت نازک ہے جلدی پہنچو۔ لیکن اسی جملے کا ایک انگریز کی نگاہ میں یہ مطلب بنتا تھا :تمہارا باپ بیکار ہے، جلد پہنچو۔ کیپٹن شا نے تار پڑھ کر یہ جواب لکھا:
:Your son is equally hopeless, not coming. یعنی تمہار بیٹا بھی اتنا ہی بیکار ہے ، نہیں آرہا ہے۔
مصنف کیارہ کے صحرا میں خوش زندگی گزار رہے تھے کہ ان کو بغداد جانے کا موقع ملا۔ اصل میں ان کے بریگیڈئیر کو عربی زبان سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ انہوں نے جب ایک عربی ٹیچر سے بات کی تو ان کو بتایا گیا کہ اگر آپ اپنے ایک جونئیر افیسر کو اپنا ہم مکتب بنا لیں تو بہت فائدہ ہوگا مصنف اس واقعہ کو بہت دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’ ہوا یوں کہ ہمارے بریگیڈئیر صاحب کو عربی سیکھنے کا شوق چڑ آیا اور فی الفور ایک عراقی ٹیوٹر منگایا گیا ۔ ٹیوٹر نے اپنے گزشتہ تجربے کی بنا پر بریگیڈئیر صاحب کو مشور ہ دیا کہ عربی سیکھنے میں اگر آپ کا ایک ساتھی ہوتو دونوں شاگردوں کا بھلا ہو گا۔ بریگیڈئیر صاحب کے ہم جماعت ہونے کا قرعہ ہمارے نام پر پڑا۔ ایک سیکنڈ لیفتیننٹ کے لیے ایک بریگیڈئیر کا ہم سبق ہونے سے بڑی کوفت کیا ہو سکتی ہے لیکن برخوردار جو تھے، دھر لئے گئے۔ ‘‘
بغدا د میں بریگیڈئیر کیساتھ انہوں نے عربی کی تعلیم شتروع کر دی ۔ اس دورا ن انہوں نے لوگوں کو باجماعت اور اکیلے مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا اور نمازی، نماز میں ادھر ادھر دیکھتے تھے اور ساتھ ساتھ نماز بھی پڑھتے جاتے تھے۔ ایک د ن وہ اپنے ایک ساتھ ایک لفٹین کو لے کر مقامات مقدسہ کی سیر کو نکلے ۔ دونوں نے فوجی وردیاں پہنی ہو ئی تھیں اور دونوں جب مزارات پر پہنچے تو بغداد کے لونڈے ان کے پیچھے لگ گئے۔ مصنف کو خدشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لاہوری اوئے اؤے جیسا شور نہ شروع کر دیں۔ وہ لڑکوں سے بچ کر بڑی مشکل سے مزار کے اندر چلے گئے اور یوں لڑکوں کی شورش سے جان چھوٹی۔ اتنے میں مصنف کے ساتھی لفٹین نے ڈرائیور کو کہا کہ ایک درہم کا کھلا لے کر آئے۔ ڈرائیور نے ایک درہم کا کھلا کروا کے بھکاریوں میں تقسیم کر دیا ۔جب وہ واپس آیا تو لیفٹین صاحب نے کہا جاؤ اور بھکاریوں سے ایک روپیہ واپس لے کے مجھے دو۔ میں نے خود تقسیم کرنا ہے۔ اس پر ڈرائیور سیخ پا ہو گیا اس نے اپنی جیب سے ایک روپیہ نکالا اور اپنے سر پر سے صدقہ کیا اور لیفٹین کے ہاتھ پررکھ دیا۔ وہ کربلا سے نجف پہنچے جہاں ہندوستانی مسلمانوں کی کثیر تعداد غربت کی زندگی گزار رہی تھی ۔وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، مصنف لکھتے ہیں:
’’ کربلا سے نجف پہنچے۔ یہاں کا ماحول کسی قدر مختلف تھا ۔یہاں ہندوستانی مسلمان خاصی بڑی تعداد میں تھے۔ مگر اکثر غریب اور نادار تھے۔ روضے سے ایک فاصلے پر ٹیکسی سے اترے۔ فوراًایک ہم وطن ہماری طرف بڑھے اور میرے ساتھی کو جمعدار صاحب کہہ کر سلام کیا ۔ اپنی لفٹینی کو اپنی آنکھوں کے سامنے یوں مسمار ہوتے دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔ غریب کو بازو سے پکڑ کر کہنے لگے اوئے بھیک منگے، تو نے بیک جنبشِ لب ایک فل سیکنڈ لفٹین کو جمعداربنا دیا ہے تمہاری یہ مجال۔ اس کے بعد آپ نے اسے غلط انگریزی میں چند گالیاں دیں جسے اس نے صحیح سمجھ کر برا مانا کہ لفٹین صاحب کی نیت بہرحال صحیح گالیوں کی تھی۔ حقیقت میں سائل بے چارے کا قصور نہ تھا کہ ان دنوں جمعداروں اور لفٹینوں کے کندھے کے نشانوں میں کوئی فرق نہ تھا ۔ دونوں ایک سے پیتل کے ستارے لگاتے تھے۔ ‘‘
Key-5۔ میدا ن جنگ میں:
کچھ عرصہ بعد مصنف کے بریگیڈ کو موصل سے طبرق نامی صحرا میں پہنچنے کا حکم ملا۔ انہوں بے5مئی 1943کو موصل سے طبرق کی طرف کوچ کیا اور موصل سے تیل کی پائپ لائن کے ساتھ چلنے لگے۔ راستے میں لق و دق صحرا تھا اور ہر سمت ان کو اندھیرا ہی اندھیر ا نظر آیا ۔ وہ مجورا نامی مقام جا پہنچے ۔ جہاں انہوں نے مورچے کھود کر رات گزرانی تھی۔ دن کی تھکاوٹ کے بعد رات آئی تو انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ مصنف بریگیڈئیر فنڈلے کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’ کوہستانی علاقے میں ٹریننگ کر رہے تھے کہ ایک رات دندانے دار ڈھلان پر گزارنا پڑی۔ خیال تھا کہ یوں ہی کسی چٹان کے ساتھ ٹیک لگا کر شب سحر کر دیں گے کہ بریگیڈئیر فنڈلے کو اپنا بستر اپنے ہاتھ سے کھولتے ہوئے بے حد حیرت ہوئی ۔کیونکہ بریگیڈئیر صاحب تین چوتھائی اصلی تھے یعنی ایک ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ باوجود اس کے آپ نے چارپائی کی برابر جگہ ہموار کی ۔پھر سفر پلنگ بچھایا ، بستر لگایا اور کرسی نکالی اور میز پر بئیر کی بوتل رکھی اور سکون کی حالت میں مے نوشی شروع کر دی۔ معلوم ہوتا تھا کہ ہمارے سامنے ٹوٹے پھوٹے بریگیڈئیر کی جگہ جواں سال شاعر بیٹھا ہے جس نے انتہائی سنگلاخ زمین میں شگفتہ غزل کہہ ڈالی ہے۔ ‘‘
طبرق پر انگریزوں کا قبضہ تھا لیکن جرمن یہاں مسلسل دباؤ بڑھا رہے تھے اور مصنف دعائیں مانگ رہے تھے کہ کسی دن اگر جرمن فوج ادھر آ نکلی تو کیا ہو گا۔طبرق سے آگے کا علاقہ سید رزیغ کہلاتا تھا جہاں مصنف نے کئی فوجوں گاڑیوں کے بارودی سرنگوں کے ساتھ ٹکرا کر پر خچے اڑتے دیکھے تھے۔ وہ بہت برا وقت تھا۔ یہ علاقہ بہت بوریت اور یکسانیت والا تھا ۔مصنف اس جنگی ماحول سے بری طرح اکتا گئے ۔ایک دن ان کو ایک افیسر کا پیغام ملا کہ اگر بریگیڈ میں کوئی دیسی افیسر آیا ہو تو اس کو ایک کپتان صاحب بلا رہے تھے۔ کپتان صاحب کا نام کیپٹن ممتاز تھا۔ مصنف بادل نخواستہ ان کے پاس چلا گیا اور انہوں نے مصنف کی خوب خاطر مدارت کی جس سے مصنف کا جی ہلکا ہو گیا۔ اس دوران سید ی رزیغ پر حملہ کا پروگرام بنایا گیا ۔
مصنف کے ساتھ کے سینئر افیسر کو حملہ کرنے والی یونٹ کے ساتھ محاذ پر بھیجا گیا جب کہ ان کو یہ ذمہ داری ملی کہ وہ ہینڈ سیٹ کان کے ساتھ لگا کر رکھیں اور جیسے ہی ان کو آگے سے جنگ کی کوئی خبر آئے تو تو فوراًجنرل ریس (Rees) تک پہنچا دیں۔ رات بارہ بجے تک جب کوئی خبر نہ ملی تو مصنف فکر مند ہوگئے۔ اتنے میں جنرل کا اردلی بھی پہنچ آیا ۔ اس نے کہا جنرل صاحب پوچھتے ہیں کہ محاذ جنگ کی کوئی خبر ہے یا نہیں ؟ مصنف کے پاس چونکہ کوئی خبر نہ سنی تھی اس لئے انہوں نے اردلی کو جواب دیا کہ No news is good news۔ جنرل صاحب کا اردلی چلا گیا اور اس نے جا کر ہو بہو وہی الفاظ جنرل کو بول دئیے۔ جنرل نے اردلی کو دوبارہ بھیجا اور مصنف کو بلایا اور حکم دیا کہ وہ خود جا کر میدان جنگ میں معلوم کرے کہ حملہ آور یونٹ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ مصنف خود بھی پریشان تھے کیونکہ ان کو سگنل نہیں مل رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ وہ جب گاڑی لے کے میدان جنگ میں پہنچے تو ان کی سگنل کار کو جوانوں سمیت راستے میں بھٹکتے دیکھا جبکہ سگنل کمانڈر ان سے آ گے سات کلومیٹر جا چکا تھا اور دونوں میں دوری کی وجہ سے بروقت حملے کی کامیابی کی اطلا ع جنرل ریس تک نہیں پہنچائی جا سکی تھی۔ اب جب دونوں کے مابین رابطہ ہوا تو انہوں نے فتح کی بشارت دی۔ جنرل ریس جو پیغام کے لیٹ ہونے سے آگ بگولہ تھا فتح کی خوشخبری سن کر خوش ہو گیاا ور اس نے مصنف کی خبر نہ لی۔
ابھی سیدی رزیغ میں چند دن ہی گزرے تھے کہ ان پر جنرل رومیل کی فوجوں نے حملہ کر دیا اورانکو مینا کیمپ کی طرف واپس آنا پڑا۔اب مصنف لیبیا کے محاذ جنگ سے واپس لوٹ کر قاہرہ میں آگئے اور فوجی کیمپ میں گوشہ نشین ہو گئے۔ قاہر ہ کی زندگی خوش ٖحال اور جنگ کے اثرات سے پاک تھی۔ یہاں شاہ فاروق حکمران تھا جو کہ انگریزوں کا پٹھو تھا ۔ایک دن مصنف کو شاہ فاروق کی محفل میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ ہوا یوں کہ شاہ فاروق نے محفل میلاد منعقد کروائی۔ مصنف کو پچاس سپاہیوں کے ساتھ میلاد میں حاضری کا حکم ملا تا کہ شاہ کے انگریز حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں۔ مصنف کے ساتھ ایک مسلمان صوبیدار صاحب تھے۔ انہوں نے مصنف سے اجازت مانگی کہ جیسے ہی خلیفہ سٹیج پر پہنچے گا انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کرنا ہے اور سپاہیوں نے اس کا جواب دینا ہے ۔مصنف نے اس کو سختی سے منع کر دیا کہ وہ اس وقت انگریز فوج کی نمائندگی کر رہے ہیں نہ کہ مسلمان قوم کی۔ اس پر وہ نہ مانے اور نعرہ بلند کردیا۔ اس پر مصنف لکھتے ہیں:
’’صوبیدار صاحب کو کہا: ہم وردی میں آئے ہوئے ہیں۔اس لئے اس تقریب میں ہمیں متانت سے حصہ لینا چاہیے اور کسی قسم کی ہلڑ بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ صوبیدار صاحب خاموش ہو گئے ،لیکن سخت ناخوش۔ میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے اور میں دیکھ رہا تھا کہ وہ میرے غیر اسلامی فعل پر سخت برہم ہیں۔ اتنے میں آواز آئی کہ جلالتہ الملک کی سواری آرہی ہے۔ یہ سنا تو صوبیدار صاحب کا چہرہ جگمگا اٹھا۔ ان کی نظریں اس سمت میں گڑ گئیں۔ جدھر سے شاہ فاروق کی سواری آ رہی تھی۔ ان کا تنفس تیز ہو گیا ۔ میں نے ان کی حالت غیر ہوتے دیکھی تو ان کے بازو پر ہاتھ رکھا لیکن ہاتھ کے بجائے ان پر شہتیر بھی آگرتا تو انہیں پرواہ نہ ہوتی۔ اب وہ دوسری دنیا میں پہنچ چکے تھے۔ جونہی شاہ فاروق کی سواری نے دروازے کے اندر قدم رکھا ،صوبیدار صاحب بجلی کی سرعت سے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور فضامیں ایک آواز بلند کی : نعرہ ۔۔۔ تکبیر۔۔ نعرہ اور ایک لمبی اے کے بعد تکبیر کا لفظ اس طر ح ادا ہو ا جیسے فیتہ جلنے کی شوں شو ں کے بعد یک دم گولہ پھٹتا ہے ، جونہی صوبیدار صاحب نے لفظ تکبیر تک پہنچے ہمارے پچاس جوانوں نے یک زبان ہو کر نعرہ لگایا: اللہ اکبر۔
اس پر شاہ فاروق کسی قدر حیرت سے مسکرائے اورحاضرین نے شاہی مسکراہٹ سے اشارہ پا کر تالیاں بجائیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ہمارے نعرے کو کسی نے نہ سمجھا تھا ۔چاروں الفاظ اگرچہ عربی کے تھے لیکن پنجابی تلفظ اور وہ بھی ہندوستانی فوجیوں کے منہ سے مصریوں کی فہم سے بعید تھا۔ وہ یہ سمجھے یہ ہندوستانی فوجیوں نے کوئی تماشا کیا ہے۔اس پر میں نے صوبیدار صاحب کو قہر آلود نظروں سے گھورا۔ ‘‘
اس دوران کرنل محمد خان نے ایک بہت ہی دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے کہ جب وہ قاہر ہ کے عباسیہ کیمپ میں قیام پذیر تھے تو ان کے یونٹ کمانڈر کانام کرنل پیٹر سن تھا ۔ وہ جب کسی سے بات کرتا تو بڑی شائستگی سے لیکن جیسے جیسے بات چیت میں آگے بڑھتی جا تی ،اچانک طیش میں آجاتا اور مخاطب کو گالیاں دیتا اور زود وکوب کرتا ۔ اس نے کئی لوگوں کے سر پھاڑ دئیے تھے ۔ یونٹ کے ہیڈ کلرک کے تو ہر وقت چہرے پر مار پیٹ کے نشان تازہ رہتے تھے۔ ایک دن صبح صبح کرنل کے ہاتھ مالی چڑھ گیا ۔اسی طرح پہلے تو بات ہنسی مذاق سے شروع ہوئی لیکن پھر آہستہ آہستہ لڑائی جھگڑے تک جا پہنچی ۔ کرنل نے مالی کو سٹک دے ماری اورمالی بیچارہ جان بچانے کے لئے بھاگ نکلا۔ آگے آگے مالی اور اس کے پیچھے کرنل تھا۔مالی جا ن بچانے کے لئے ٹینک پر چڑھ گیا کرنل بھی اس کے پیچھے ٹینک پر چڑھ گیا ۔ مالی نے جان بچانے کے لئے ٹینک سے نیچے چھلانگ لگادی۔ پس کرنل نے بھی اس کے پیچھے ہی چھلانگ لگائی اور اپنا ٹخنہ تڑوا بیٹھا۔ اس کے بعد کرنل ایک ماہ تک لنگڑاکر چلتا رہا۔ اس دوران وہ مصنف سے ناراض رہا کہ اس نے مالی کو پکڑنے میں مصنف کی مدد کیوں نہ کی تھی۔ ایک دن کرنل مصنف کو یونٹ کے گیٹ پر ملا اور پوچھا کہ وہ کدھر جا رہا ہے۔ مصنف نے کہا میدان جنگ سے جہاز دس بجے آتا ہے اور اس نے جہاز سے ڈاک وصول کرنا ہے۔ کرنل یہ سن کر برہم ہوا اور کہنے لگا کہ جہاز دس بجے نہیں ،گیارہ بجے آتا ہے ۔ شامت کے مارے مصنف کے منہ سے نکل گیا کہ جہاز گیارہ بجے نہیں بلکہ دس بجے ہی آتا ہے ۔ اس پر کرنل نے ایک سٹک فوجی جیپ کو دے ماری اور اصرار کرنے لگا کہ جہاز گیارہ بجے ہی آتا ہے اس نے مصنف کو اتنا ہراساں کیا وہ عاجز آگئے۔
چند دن کے قیام کے بعد مصنف کا تبادلہ مڈل ایسٹ سگنل سکول ’’مہادی ‘‘کر دیا گیا جہاں مصنف نے پہنچ کر سکون کا سانس لیا ۔اس دوران وہ قاہرہ کی سیر وسیاحت سے بہت لطف اندوز رہے اور اسی دوران جنرل منٹگمری نے فوج کی قیادت سنبھال لی اور جرمنوں کو تیونس میں جا کر شکست فاش دی اور ان کی بہت بڑی فوج جنگی قیدی بن گئی۔
Key-6۔وطن واپسی:
23دسمبر3 194 کو مصنف بذریعہ بحری جہاز واپس ہندوستان پہنچے۔ کافی عرصہ بعد جب اپنے آبائی گاؤں چکوال پہنچے تو جان میں جان آئی۔ ان کو بہت خوشی تھی چھٹی کے دن ہنستے کھیلتے گزر گئے۔ چند دن کے قیام کے بعد ان کی پوسٹنگ سیالکوٹ ہوگئی ۔ جہاں آرام ہی آرام تھا ۔ نہ جنگ جیسا سنگلاخ ماحول اور نہ شور شرابا ۔ ان کو سنگنل سنٹر کی کمان ملی جو کہ بہت خوشگوار ثابت ہوئی۔ انہوں نے ایک سال کا عرصہ یہاں گزارا اس کے بعد ان کا تبادلہ مدراس ہو گیا۔ وہ مدراس پہنچے تو ان کو ان کے بریگیڈ ئیرنے کسی کرنل جونز کے پاس جمشید پور بھیج دیا جہاں خواتین کا سگنل سکول تھا جس میں لگ بھگ تین سو لڑکیاں ٹریننگ کر رہی تھیں ۔مصنف کو بتایا گیا کہ اس سکول میں کوئی بھی افیسر ایک ماہ سے زیادہ ٹک نہیں سکتا ہے۔ بریگیڈئیر نے ان کو کرنل جونز کے پاس بھیج دیا۔ جب وہ ویکائی سکول میں پہنچے تو ان کو بہت آسان لگا کہ وہ لڑکیوں کی کمان کر لیں گے لیکن چند دن میں ہی ان کو دن کوتارے نظر آنے لگےچنانچہ مصنف خو د رقم طراز ہیں:
’’ ہفتہ ہی گزرا تھا کہ ایک صبح سارجنٹ رابنسن آیا ۔سلیوٹ ظاہر کرتا تھا کہ کسی کی شکایت لے کر آیا ہے۔ بولا سر! گزشتہ رات کارپورل کلونت کور کو ایک خفیہ چٹھی دی گئی کہ اس کا ترجمہ کرے مگر اس نے انکار کر دیا اور کہلا بھیجا جو کرنا ہے کر لو، کیپٹن خان مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ کلونت کور نے ایک حد تک درست کہا تھا۔ صرف دو روز پہلے ہی اس کے والد جو جمشید پور میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے مجھے ملنے آئے تھے اور کلونت کو ر کو بھی ساتھ لائے تھے۔ کلونت کور ایک دراز قد ، جواں سال اور دل آویز سکھ لڑکی تھی۔ اس کے نیم رسیلے ہونٹ ہر لحظہ مسکراہٹ پر تلے رہتے تھے ۔ وہ جتنی حسین تھی اتنی ہی لاڈلی تھی لیکن فوجی ضبط کا معاملہ تھا۔ چنانچہ کلونت کور کو دفتر میں طلب کیا ۔ کلونت کور آئی تو ہمارے دفتر میں اس بے تکلفی سے داخل ہوئی جیسے چائے پر مدعو ہو۔ ابھی اس نے ہمارے کمرے میں قدم رکھا ہی تھا کہ ہم اس کی خوشبو کے نصف قطر میں آگئے۔ان حالات میں بے لاگ آفیسری تو آسان کام نہ تھا لیکن ہم ثابت قدم رہے۔ کلونت کور نے رابنسن کو کھڑے کو دیکھا تو ذرا ٹھٹکی اور اس پر ایک قہر آلود نگاہ ڈالی اور پھر اپنی خود رو مسکراہٹ کا رخ ہماری طرف موڑا لیکن ہم اس وقت کرسی عدالت پر بیٹھے تھے کسی جوابی مسکراہٹ کے بغیر خالی فوجی انداز میں کہا۔ کارپورل کلونت کور سارجنٹ رابنسن نے رپورٹ کی ہے کہ تم نے کل شام خفیہ چھٹی کو صاف زبان کو ترجمعہ کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ایسا کیوں ہوا؟ کلونت کور جھٹ پنجابی میں بولی:’’ حرامی جھوٹ بکدااے۔‘‘
خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس غیرمتوقع اور غیر فوجی جواب پر ہم نے ہنسی کو کیسے دبایا اور فوجی ضبط کی بحالی کے لئے کس مشکل سے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی کے آثار پیدا کئے۔ سنبھلنے میں خاصی دیر لگ گئی لیکن آخر کار کہا۔ کارپورل کلونت کور انگریزی میں بات کرو۔ اور ٹھیک اٹین شن کھڑی ہو جاؤ اور میرے سوال کا جواب دو۔ کلونت کور مجھ سے، یعنی ایک ہم وطن سے اور خصوصاًپرسوں کی ملاقات کے بعد ایسے ٹھیٹ سرکاری سلوک کی توقع نہ تھی۔ کلونت کور نے تو رابنسن سے اس امید پر ٹکر لی تھی کہ ہم اس کے ہیں اور ہمارا پوچھنا کیا۔ لیکن اب اس نے ہی لاج نہ رکھی تو پژمردہ سی ہو کر رہ گئی اور نگاہیں نیچی کر لیں ۔ میں نے سوال دھرایا ۔پلیز بتاؤ کہ سارجنٹ کا حکم کیوں نہیں مانا تو کلونت کور بدستور خاموش رہی ۔اس کی نگاہیں زمین میں گھڑی تھیں ۔ عدالت نے سوال جاری رکھے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ تمہیں اپنے قصور کا اعتراف ہے؟ میرا یہ کہنا تھا کہ کلونت کور کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے ۔ میں نے سارجنٹ کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔ اس کا دروازے سے نکلنا تھا کہ کلونت کور زار وقطار رونے لگی ۔ اب عدالت کے سامنے یہ سوال نہ تھا کہ ملزمہ قصور وار ہے یا نہیں بلکہ یہ کہ ملزمہ عدالت کا قصور معاف کرکے رونا بند کرے گی یا نہیں ۔ لیکن آنسوؤں کی رفتار سے واضح تھا کہ ملزمہ کا عدالت کی جان بخشی کا کوئی ارادہ نہیں ۔ ہم نے کلونت کور کو دلاسہ دینے کی کوشش کی اس سلسلے میں کرسی عدالت خالی کر کے ملزمہ کو پیش کی اس کو ضبط کی تلقین کرنے لگے۔ تلقین کے دوران ہمیں گزرا ہوا زمانہ یاد آیاجب ہم مردوں کی کمان کیا کرتے تھے۔ وہ لوگ جب کسی قصور پر دھر لئے جاتے تھے تو تازہ وردی پہنے رائٹ لیفٹ کرتے کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ۔ دو سوالوں کے بعد اکیس روز کی قید کا حکم سنتے تو پھرتی سے سیلیوٹ کر تے رائٹ لیفٹ کرتے ،کمرہ عدالت سے باہر نکلتے اور تین ہفتے کوارٹر گارڈ میں گزار کر ہنستے کھیلتے یونٹ کی زندگی میں اس طرح شامل ہو جاتے جیسے سینما دیکھ کر آئے ہوں۔ کہاں وہ سپاہیوں کی کمان اور کہاں ان ویکائیوں کی نازبرداری ۔ مس کور کے لئے چائے کی پیالی منگوائی۔ اگرچہ حقیقی ضرورت عرق زبان خمیرہ مردوید کی تھی۔ مس کو ر نے دوگھونٹ چائے کے پیئے اس کی سسکیوں میں ذرا افاقہ ہوا تو ہر دو جہاں سے عموماً اور ہم سے خصوصاً خفا ہو کر چلدی۔ اب ہم پر روشن ہونے لگا کہ ہمارے پیشرو صاحبان اس سکول میں ایک مہینے سے زیادہ کیوں نہیں ٹھہرپاتے تھے لیکن یہ تو ابھی ابتدا تھی۔‘‘
مصنف کیے لئے اس سکول کی کمان کافی مشکل ثابت ہو ئی ۔ مثال کے طور پر وہ ایک دن جب رات کے سٹڈی پیریڈ میں لڑکیوں کے کمرے میں چھاپہ مارنے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک کتا راستے میں آیا اور ان پر بھونکنا شروع ہو گیا جس سے سب لڑکیوں نے میک اپ کرنا چھوڑ دیا اور تن کر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ کر پڑھنے لگیں یا پڑھنے کا ڈرامہ کرنے لگیں۔ اتنے میں سارجنٹ رابنسن نکل آیا ۔مصنف نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ وہ وہاں کیا کر رہا تھا۔ جب کہ لڑکیاں میک اپ کر رہیں تھیں اور کوئی بھی پڑھ نہیں رہی تھی۔اس پر رابنسن نے انتہائی بے چارگی سے جواب دیا کہ جیسے ہی وہ ان کے کمرہ میں آیا توانہوں نے اس سے کہا اگر خیریت چاہتے ہو تو چپ چاپ باہر جا کر چوکیداری کرو۔ انہوں نے میک اپ کر کے انگریز افیسروں کے کیمپ میں ڈانس پارٹی پر جانا تھا۔ اس کے بعد ایک دن فوجی ہسپتا ل سے فون آیا کہ ا ن کے فوجی کیمپ سے دولڑکیوں نے سک رپورٹ کی ہی جن میں سے ایک کا بچہ پیدا ہونے والا ہے۔اس پر مصنف نے ڈاکٹر سے کہا کہ یہ کون سی انہونی بات ہے ، بچہ تو پیدا ہوتا ہی ہے لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ اب کی بار بچہ زرا ٹیڑھے طریقے سے پیدا ہوا ہے کیونکہ اس کے باپ کا کوئی پتہ نہیں کون ہے۔ مصنف نے مسز پیٹر سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ چپکے سے لڑکی کے والدین کو بلا کر لڑکی کوان کے حوالے کر دیا جائے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی اور سانپ بھی مر جائے گا ۔ اس طرح مصنف نے اس گمبھیرمسئلے سے جان چھڑائی۔ اب مصنف وہاں ایک دن بھی نہیں ٹھہرنا چاہتے تھے۔ خدا خدا کرکے ایک دن جی ایچ کیو سے چٹھی آئی کہ مصنف اگر آرمی ایجوکیشن کور میں شامل ہونا چاہتا ہے تو ہو سکتے ہیں۔ اس پر مصنف نے سکون کا سانس لیا اور ویکائی کی دوشیزاؤں کی کمان سے گھبرا کر سگنل کور سے ایجوکیشن میں ٹرانفسر ہونا مناسب خیال کیا۔ٹرانسفر کے بعد مصنف کو پہلے برما جانے اور اس کے بعد پاکستان کے علاقے میں جا کر فوجی جوانوں کی تعلیم وتربیت کا خوب موقع ملا۔
خلاصہ :
کتاب ’’بجنگ آمد‘‘ ایک مزاحیہ سفر نامہ ہے جس کو مصنف نے فوجی زندگی مصیبتوں ، مشکلات اور جفاکشی سے ہٹ کر انتہائی مزاحیہ انداز میں تحریر کیا۔ اس کتاب سے جہاں پڑھنے والے طنزو مزاح سے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں ،وہاں ایک عہد کی کہانی کو بھی پڑھ کر جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ اس کتاب میں فوجی زندگی کی مصیبتوں اور سختیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب پاکستان کی ایک مایہ ناز کتاب ہے جو مزاح پر لکھی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں