14

بامسی جیسا کون؟آصف محمود

8 / 100

اس ڈرامے کا ہر کردارغیر معمولی ہے، حتی کہ کسی کو چند لمحوں کے لیے کوئی کردار دیا گیا تو اس نے بھی اس کا حق ادا کر دیا۔ لیکن بامسی بے کی بات ہی الگ تھی۔ مجھے سے پوچھیں تو ارطغرل کے پانچوںاور عثمان کے دونوں سیزنز کے تمام اداکاروں کی اداکاری ایک طرف اور اکیلے بامسی بے کی اداکاری ایک طرف۔ معلوم نہیں یہ اس کردارکا حسن تھا یا اداکار کا کمال تھا لیکن ظالم نے دل کو چھو ہی نہیں لیا وہاں ڈیرے ہی ڈال لیے ۔ ابھی اس جنگجو کی موت کا منظر دیکھ کر بیٹھا ہوں اور یوں محسوس ہو رہا ہے کوئی اپنا بچھڑ گیا ہے۔ یہ قائی قبیلے پر بنائے گئے کسی ڈرامے کا اداکار شہید نہیں ہوا، کئی گھرانوں کا ’ فیملی ممبر‘ آخری ہجرت پر روانہ ہو گیا۔اداکاری اگر جذبات میں ارتعاش پیدا کر دینے کا نام ہے توبامسی بے اس فن کا نکتہ عروج تھا۔ کوئی پوچھے اداکاری کیا ہوتی ہے، میں کہوں گا بامسی بے۔ چند قسطوں کی بات نہیں یہ سات سیزنز کا تعلق تھا ۔یعنی 237 اقساط اور ہر قسط کا دورانیہ قریب دو گھنٹے کا۔ سالوں پر محیط اس سفر میں بامسی بے نے اپنے فن سے شانت کر دیا تھا۔یادوں کا ہجوم ہے، کس کس منظر کو یاد کیا جائے۔ کہتے ہیں کہ ایک انسان ایک وقت میں کئی زندگیاں جی رہا ہوتا ہے ، باسمی بے کے کردار نے ہمیں بتایا کہ ایک وقت میں مختلف زندگیوں کے رنگ کیسے مل کر قوس قزح بن جاتے ہیں۔ کہیںوہ جنگجو ہمارے سامنے ہوتا ہے جو دونوں ہاتھوں میں تلواریں تھامے دعویٰ کرتا ہے کہ یہ تلوار ہی اس کی آخری محبت ہے اور کہیں وہ جنگجو سچ مچ کسی سے پیار کر بیٹھتا ہے اور اس کی محبت میں پگھل رہا ہوتا ہے۔ کہیں میدان جنگ میں دھاڑتا وہ باسمی جو دشمنوں کو آگے لگا لیتا ہے اور کہیں مدرسے میں پڑھتا وہ بے بس بامسی جسے بچے آگے لگا لیتے ہیں۔ بے مثال جنگجو کی ساریز ندگی تلوار کی دھار میں سمٹی پڑی تھی۔ اس کے نزدیک عزت اور حرمت کا نام تلوار تھا۔ تلوار سے ہی جس کی صبح طلوع ہوتی ہے اور تلوار ہی کی چھائوں میں جس کا دن تمام ہوتا تھا۔ کیا منظر تھا جب وہ وراثت میں یہی عزت اور حرمت اپنے بیٹے کو دینا چاہتا ہے اور اسے تلوار بازی سکھا رہا ہوتا ہے جب بچہ بے زار ہو کر تلوار پھینک دیتا ہے کہ مجھے تلوار نہیں قلم چاہیے۔ بامسی زخمی شیر کی طرح بے بس ہو کر تلملاتا ہے۔ اس کے لیے یہ بالکل ایک انوکھی سی بات ہوتی ہے کہ تلوار کے بغیر کوئی اور چیز بھی باعث عزت ہو سکتی ہے۔ کہیں اس شخص نے دوست کی وفاداری کو امر کر دیا اور کہیں قبیلے کا سائبان بنا تو اس کا حق اداکر ددیا۔ فوج کی سربراہی کی تو شان سے کی اور سربراہی سے معزول کیا گیا تو بغاوت کی بجائے وفاداری کا استعارہ بن گیا۔ سرداری کے جھگڑے میں جب بوڑھا ارطغرل خیمے میں بیمار پڑاہوتا ہے اور ساتھ اس کے بیٹے باہم الجھ رہے ہوتے ہیں تو بامسی بے خیمے میں داخل ہوتا ہے اور بازی الٹ دیتا ہے۔ ارطغرل اپنے دوست کی اس ادا پر مسکراکر صرف ایک لفظ ادا کرتا ہے: بامسی ۔۔۔۔۔اور یہ ایک لفظ پورے ڈرامے کا خلاصہ ہوتا ہے۔ اس میں جہان معنی ہوتا ہے جسے صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ کھانے اور دشمن پر ایک جیسے بانکپن سے جھپٹنے والا بامسی بے میرا فیورٹ اداکار تھا۔ ہر دور میں انسان کو کچھ کردار اچھے لگتے ہیں ۔کبھی وہ بریو ہاٹ کا میل گیبسن ہوتا ہے اور کبھی لائن آف ڈیزرٹ کا عمر مختار۔ لیکن جو بات بامسی میں تھی وہ کسی اور میں نہیں تھی۔ جان کی امان پائوں تو خود ارطغرل میں بھی نہیں تھی۔ڈرامے کا ہیرو اور مرکزی کردار ہونے کی وجہ سے ڈرامے بے شک ارطغرل کے گرد ہی گھومتا تھا ، دل مگر بامسی کا اسیر تھا۔ جنگ کی آواز پڑنے پر تلوار تھام کر خوشی سے بامسی کا وائے وائے کرنے کا منظر مارگلہ کی بارشوں جیسا حسین ہوتا تھا۔ ترک تاریخی ڈراموں میں یہ بہت اچھی بات ہے کہ وہاں ہماری طرح کے چند ہیرو مسلط نہیں۔ انجن التان ارطغرل کا ہیرو تھا لیکن خیر الدین باربروسہ میں ہیرو کوئی اور ہے۔ہمارے ہاں ایک صاحب ایک بار ہیرو آ جائیں تو ساری عمر ہیرو ہی کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ وہ کردار اور اداکار کو دیکھتے ہیں نام کو نہیں۔ کوت العمارہ بھی ایک شاندار ڈرامہ ہے اس کے سیزن ٹو کا کردار علی بے ایک انتہائی واجبی سی شکل وصورت والا کردار ہے لیکن اس شخص نے جو اداکاری کر دی ہے وہ کسی سحر سے کم نہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے تو کوت العماری سیزن ٹو کی کوئی قسط لگا لیتا ہوں اور سوچتا ہوں کاش پاکستان کے تمام اداکاروں اور پروڈیوسرز کو کہیں جمع کر لیا جائے اور انہیں دکھایا جائے کہ خدا کے بندو یہ اداکاری ہوتی ہے اور اسے پروڈکشن کہتے ہیں ، تم تو جھک ہی مار رہے ہو۔بھارتی فلمی ہیرو تو اب بامسی کے گھوڑے کے سائیس لگتے ہیں۔دیکھ کر ابکائی آنے لگتی ہے۔ بوزداغ کا کیا جاتا اگر کچھ اور اقساط بامسی کو ساتھ رکھتا۔ ابھی تو اس جنگجو کا ہاتھ بھی ٹھیک ہو گیا تھا۔ لیکن اگر اس کے کردار کا خاتمہ کرنا ہی تھا تو اس کے لیے موزوں ترین وقت وہ تھا جب ز مین کے نیچے قائم خفیہ کمین گاہ میں اس کے پاس رکھی امانتوں پر حملہ ہوا تھا۔ جس انداز میں بامسی وہاں لڑا ایسی لڑائی کا کوئی تصورنہیں کر سکتا۔ یوں لگ رہا تھا ادارکاری نہیں ہو رہی ، سچ مچ میں کو ئی زخمی شیر بپھرا پڑا ہے۔یہ بامسی بے کی لڑائی کا بہترین منظر تھا۔یہ بیسٹ آف بامسی بے تھا۔شہید ہی کرانا تھا تو یہیں کرا دینا چاہیے تھا۔ بامسی جیسے جنگجو کو ایسی ہی شہادت زیبا تھی۔بامسی بے وہ نسبت تھی جس نے ہم جیسوں کو کرلوس عثمان سے جوڑ رکھا تھا۔ یہ نسبت اب ٹوٹ چکی ہے۔کرلوس عثمان سے مایوسی بھی ہوتی تو اس ڈرامہ کو دیکھنے کی یہ ایک وجہ ہی کافی ہوتی تھی کہ ایک بوڑھا شیر تلوار لیے آئے گا اور من کو شاانت کر جائے گا۔ یہ وجہ اب ختم ہو چکی۔ دیرلس ارطغرل اور کرلوس عثمان کو ملا کر اگر ایک ڈرامہ بنایا جائے تو اس کا نام بامسی بے ہو کہ بامسی بے سب پر بھاری ہے۔ بامسی بے جیسا کون؟’بامسی‘ ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں