34

بارشوں اور سیلاب سے صورتحال سنگین 903 اموات

بارشوں اور سیلاب سے صورتحال سنگین 903 اموات
اسلام آباد، کراچی، سکھر، خیر پور،پنو عاقل، کوئٹہ (نیوز ایجنسیاں ) بارش اور سیلاب سے صورتحال سنگین ہوگئی، سندھ اور بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوئے، طوفانی بارشوں اور سیلاب نے نظام زندگی منجمد کردیا، اب تک 326بچوں سمیت 903افراد جاں بحق جبکہ 1200 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، سیلاب سے ایک لاکھ 25؍ ہزار گھر تباہ ہوگئے جبکہ 2؍ لاکھ 88ہزار مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا،3ہزار کلو میٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، مٹیاری میں 400 مکانات گر گئے، دادو کے 500دیہات بُری طرح متاثر ہوئے، سکھر، حیدرآباد، بدین، ہالا، بھٹ شاہ، سعید آباد، پنوقاعل، ٹنڈو جام، ٹھٹھہ ، دادو سیلابی ریلے سے متاثر ہوئے، گلی، محلے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں، بڑی تعداد میں مویشی ہلاک ہوگئے، پانی میں ڈوبی آبادیوں سے 10 ہزار سے زائد افراد نے نقل مکانی کرلی، نوابشاہ میں سیم نالوں میں شگاف پڑنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگئی، رحیم یار خان میںدرجنوں بستیاں ڈوب گئیں، نصیر آباد، جھل مگسی ، ڈیڑہ بگٹی، ہرنائی ، خضدار میں بارش اور سیلابی پانی نے تباہی مچادی، پنو عاقل سیم نالے کا شگاف تین سو تک بڑھ گیا، جس سے ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب آگئے، ٹھٹھ میں بارش کا پانی سرکاری عمارتوں میں داخل ہوگیا، پنو عاقل کا زمینی رابطہ کٹ گیا، کئی پُل بھی ٹوٹ گئے، کئی پُل بھی ٹوٹ گئے، نوابشاہ ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، بل اور سڑکیں بہہ جانے سے بلوچستان کا سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ایک بار پھر رابطہ منقطع ہوگیا، کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ ٹریفک کیلئے بند ہے، کراچی سے اندرون ملک جانے والی 10ٹرینیں معطل کرگئیں، ضلع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں پہاڑوں پر بارش سے میدانی علاقوں میں ایک بار پھر سیلابی صورتحال ہے، ڈی آئی خان کے چاروں اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دگئی ہے، فاضل پور میں سرکاری گودام میں سیلابی پانی داخل ہونے سے گندم کی ہزاروں بوریاں خراب ہوگئیں، رحیم یار خان میں دریائے سندھ کا زمیندارہ بن ٹوٹ گیا ہے جس سے درجنوں بستیاں اور فضلیں زیر آب آگئیں، کچے مکانات گر گئے، سوات کے پہاڑی علاقوں میں تیز بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے، ریلا اسکولوں میں داخل ہوگئے، دیر بالا میں اسکول سے جاتے ہوئے پانچ بچے سیلابی ریلے میں بہہ گئے، انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے مکمل ناکام نظر آرہی ہے، متاثرین دربدر ہیں،سندھ میں حالیہ بارشوں کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے سول حکومت کی مدد کیلئے فوج کی خدمات طلب کرلی گئیں ،جام شورو میں دراوٹ ڈیم بھر گیا، جنوبی پنجاب میں بھی حالات مخدوش ہیں، بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بارش متاثرین سڑک کنارے بے یار و مدد گار پڑے ہیں، بلوچستان میں طوفانی بارشوں کے باعث گوادر اور کوئٹہ کا کراچی سے رابطہ منقطع ہوگیا، کوہلو، بارکھان، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، ہرنائی، خضدار، ژوب، ڈیرہ مراد جمالی، اور صحبت پور میں ایک دن کے وقفے کے بعد بدھ کو پھر بارش ہوئی، ضلع لسبیلہ میں دو مقامات پر نئے سیلابی ریلے نے تباہی مچادی، سوات کے پہاڑی علاقوں میں تیز بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے۔تفصیلات کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔مٹیاری کی کرار جھیل کا پانی بھٹ شاہ شہر میں داخل ہو گیا، سڑکوں اور گلیوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے مٹیاری میں 400 سے زائد کچے مکانات گر گئے جب کہ متاثرین قومی شاہراہ پر جھونپڑیاں بناکر بیٹھ گئے۔پڈعیدن کی نصرت کینال میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہوگئی جب کہ خیرپور میں سیلابی ریلوں نے حفاظتی بندوں میں کٹاؤ ڈال دیا ہے اور شہر میں جگہ جگہ دو سے تین فٹ پانی جمع ہو گیا ہے۔نواب شاہ کے قریب سیم نالے میں شگاف پڑنے سے درجنوں آبادیاں ڈوب گئی ہیں اور بدین میں رابطہ پل زیرِ آب آ گیا ہے۔ادھر دادو کی تحصیل جوہی، میہڑ اور خیرپور ناتھن شاہ میں طوفانی بارشوں کے باعث متعدد کچے مکانات گرگئے ہیں۔حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور دیگر شہروں میں بھی نظامِ زندگی شدید متاثر ہے جبکہ سانگھڑ میں کئی فٹ پانی میں چل کر لوگ مریضوں کو چارپائیوں پر ڈال کر اسپتال پہنچانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔لاڑکانہ سیشن کورٹ بلڈنگ کےاحاطے میں دوبارہ پانی بھرگیاج ب کہ دادو میں تیز بارش سے 500 سےزائد دیہات زیر آب آ گئے۔پنوعاقل میں سیم نالے میں رات گئے شگاف پڑ گیا جو 300 فٹ تک بڑھ گیا ہے، شگاف پڑنے سے ہزاروں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی جب کہ پنو عاقل شہر کا سلطان پور سمیت دیگر علاقوں سے زمین رابطہ منقطع ہوگیا۔اہل علاقہ کا کہنا ہےکہ شگاف سے 400 سے زائد گھر متاثر ہوئے ہیں۔کاچھو کے دیہی علاقوں کا تحصیل جوہی سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، حیدرآباد کے کئی نشیبی علاقوں میں برساتی پانی جمع ہے، 3 دن بعد کنڈیارواوربھریا کےقریب قومی شاہراہ جزوی بحال کی گئی ہے۔موٹروے پولیس کے مطابق قومی شاہراہ پر سیلاب اور بارش کا پانی اب بھی موجود ہے۔ ادھر بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں اموات کا سلسلہ نہ رک سکا۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 5 افراد جان کی بازی ہار گئے جسکے بعد یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 230 ہوگئی ہے، اس تعداد میں 110 مرد 55 خواتین اور 65 بچے شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں