81

بائیڈن کے سعودی ولی عہد سے مٹھی ملانے پر میڈیا میں تنقید

بائیڈن کے سعودی ولی عہد سے مٹھی ملانے پر میڈیا میں تنقید
امریکی صدر جو بائیڈن کے بطور صدر اپنے پہلے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں ’مٹھی مل کر‘ مصافحہ کرنے کے عمل پر خود امریکہ میں بھی کئی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
ڈیموکریٹ جو بائیڈن اپنے دور صدارت کا پہلا دورہ مشرق وسطیٰ مکمل کر کے واپس وائٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔ وطن واپسی پر بائیڈن کو امریکی صحافیوں کی طرف سے کئی مشکل اور متنازعہ سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے چند سوالات کے جواب صدر بائیڈن نے یہ کہہ کر ٹال بھی دیے کہ یہ سوال اتنے اہم نہیں تھے جتنے صحافی انہیں بنا رہے تھے۔
امریکہ اور سعودی عرب کے مابین 2018ء میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے سفارتی سطح پر کسی حد تک کشیدگی چلی آ رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکی خفیہ سروسز کی طرف سے بارہا یہ نشاندہی کی جاتی رہی کہ خاشقجی قتل کیس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا بھرپور کردار رہا تھا۔ ادھر محمد بن سلمان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی اور ان کے وکیلوں نے ہمیشہ خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ریاستی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے سعودی خفیہ ایجنٹوں کو ٹھہرایا۔ اس پورے پس منظر میں بائیڈن کے لیے سعودی عرب کا یہ پہلا صدارتی دورہ آسان نہ تھا۔
وائٹ ہاؤس میں جو بائیڈن کا بیان
امریکہ واپسی سے پہلے صدر بائیڈن نے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد ہی پریس بریفنگ میں واضح کر دیا تھا کہ انہوں نے خاشقجی قتل کیس کے بارے میں اپنا اور اپنے ملک کا موقف دو ٹوک انداز میں پیش کیا اور سعودی ولی عہد سے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ امریکہ انسانی حقوق سے متعلق کسی ایسے واقعے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ یہ خاموشی امریکی اقدار کے خلاف ہے۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اقدار کے لیے ہمیشہ کھڑے ہون گے۔
دوسری طرف سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مذاکرات کے دوران صدر بائیڈن کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں سنی، جس میں انہوں نے محمد بن سلمان کو خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہو۔ سعودی عرب کے دورے سے لوٹ کر وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے سعودی وزیر خارجہ کے اس بیان کی تردید کی۔ صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا سعودی وزیر خارجہ کا یہ کہنا درست ہے، تو بائیڈن نے جواب میں کہا، ”نہیں۔‘‘
سعودی وزیر خارجہ کا بیان
عادل الجبیر نے بائیڈن اور محمد بن سلمان کی ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کے چیدہ چیدہ نکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی ولی عہد نے بائیڈن کو یقین دلایا کہ سعودی عرب خاشقجی کیس کے بعد تمام تر کوششیں کر رہا ہے کہ مستقبل میں کبھی ایسا کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ ساتھ ہی محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ بھی غلطیاں کر چکا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز فوکس نیوز کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے بائیڈن کو محمد بن سلمان سے کوئی ایسا فقرہ کہتے نہیں سنا کہ جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ وہ محمد بن سلمان کو خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ دریں اثناء بائیڈن اور محمد بن سلمان کی ملاقات کے موقع پر موجود ایک اور سعودی سرکاری اہلکار نے یہاں تک کہہ دیا کہ دونوں لیڈروں کے مابین گفتگو کا متن اور ماحول بالکل اس طرح کا تو نہیں تھا، جس طرح جو بائیڈن اسے پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ خاشقجی کے قتل کے موضوع پر بائیڈن نے سعودی ولی عہد سے بات چیت سرکاری مذاکرات سے پہلے ایک غیر رسمی ملاقات کے دوران کی تھی۔
امریکی صحافیوں کی بائیڈن پر کڑی تنقید
مقتول صحافی خاشقجی مشہور امریکی رونامے واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار بھی تھے۔ جو بائیڈن کے سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے پر دنیا بھر کے میڈیا کی طرح امریکی میڈیا بھی باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے تھا اور دورے کی ایک ایک تفصیل پر میڈیا میں کھل کر بحث دیکھنے میں آئی۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ کے پبلشر فریڈ راین نے جو بائیڈن کے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مٹھی سے مٹھی ٹکرا کر مصافحہ کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک‘باعث شرم عمل‘ قرار دیا۔ ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے ایک کا لمسٹ جوش روگن کا کہنا تھا، ”بائیڈن کا یہ اندازِ مصافحہ جس لمحے عمل میں آیا، وہ امریکی حکومت کے لیے انتہائی خجالت کا لمحہ تھا۔‘‘
تنقید کی وجہ
صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بائیڈن کا محمد بن سلمان سے ‘مٹھی ملا کر‘ مصافحہ کرنے سے ایک برادرانہ، انتہائی قریبی اور بے تکلف تعلق کا تاثر مل رہا تھا جبکہ ماضی میں جو بائیڈن خاشقجی قتل کیس کے تناظر میں سعودی عرب کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ جمال خاشقجی کو 2018 ء میں ایک پندرہ رکنی اسپیشل کمانڈو فورس نے ترکی میں بہیمانہ طریقے سے قتل کیا تھا۔ جو بائیڈن نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کو اچھی طرح باور کرا چکے ہیں کہ مسقبل میں اسے ایسے کسی واقعے کے دہرائے جانے سے باز رہنا ہوگا۔
جب صحافیوں نے صدر بائیڈن سے پوچھا کہ کیا گزشتہ جمعے کو سعودی ولی عہد سے ملاقات میں ‘مٹھی ملا کر‘ مصافحہ کرنے پر انہیں کوئی افسوس ہے، تو جواباﹰ صدر بائیڈن کا کہنا تھا، ”آپ لوگ کسی اہم موضوع پر بات کیوں نہیں کرتے۔ میں کسی ایسے سوال کا جواب دینے کے لیے خوشی سے تیار ہوں جس کی کوئی اہمیت بھی ہو۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں