23

بائیڈن کی فون کال یا سیکورٹی تعلقات رعایت تو ہمارے پاس بھی آپشنز ہیں، معید یوسف

51 / 100

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے امریکی صدر جو بائیڈن کی وزیراعظم عمران خان سے رابطے میں ناکامی کی شکایت کی ہے کیونکہ اس وقت امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے موقع پر پاکستان طالبان کو پورے افغانستان پر قبضے سے روکنے میں مدد دے۔

واشنگٹن کی جانب سے رویے میں سرد مہری ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب طالبان نے افغانستان میں جارحانہ انداز سے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور امریکی انخلاء کے بعد ان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کی حکومت نے طالبان کی حمایت پر پاکستان پر سخت تنقید کی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکا نے طالبان کی سینئر قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان کا سہارا لیا ہے تاکہ افغانستان سے انخلاء کے دوران اس کے فوجی کم حملوں کا نشانہ بنیں۔ لیکن عمران خان کے کئی مطالبات، کہ امن میں شراکت داری اور پاک امریکا تعلقات کا دائرہ افغانستان سے بڑھانے کی پیشکش کے باوجود امریکی صدر جو بائیڈن نے عمران خان کو اقتدار سنبھالنے سے لیکر اب تک فون نہیں کیا۔

پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے فنانشل ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان جیسے اہم ملک کے وزیراعظم سے اب تک بات نہیں کی حالانکہ امریکا خود کہتا ہے کہ پاکستان افغانستان سمیت کئی معاملات میں اہم ترین حیثیت کا حامل ہے، اور ہم امریکا کا یہ اشارہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہمیں ہر مرتبہ یہ بتایا گیا ہے کہ فون کال ہوگی، تکنیکی وجہ ہے یا پھر کچھ اور۔ لیکن لوگ اس بات پر یقین نہیں کرتے۔ اگر یہ فون کال کوئی رعایت ہے، اگر سیکورٹی تعلقات محض رعایت ہیں تو پاکستان کے پاس بھی آپشنز ہیں۔

انہوں نے اس بات کی مزید وضاحت نہیں کی۔ پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید فروغ دیا ہے اور اسے آہنی برادر قرار دیا ہے، چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے تحت پاکستان میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

دوسری طرف بائیڈن انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جن کے رہنمائوں سے امریکی صدر نے اب تک ٹیلیفونک بات چیت نہیں کی، وہ وزیراعظم پاکستان سے درست وقت پر بات چیت کریں گے۔

2004ء میں امریکا نے پاکستان کو اپنا بڑا غیر نیٹو اتحادی قرار دیا تھا کیونکہ افغانستان میں لڑنے کیلئے اسے پاکستان کی ضرورت تھی۔ لیکن ہر امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو طالبان کی مدد کرنے کا قصور وار قرار دیا ہے، یہ ایسے الزامات ہیں جن کی پاکستان نے ہمیشہ نفی کی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا نے پاکستان کی دو ارب ڈالرز مالیت کی سیکورٹی معاونت روک دی اور پاکستان پر جھوٹ اور دھوکے کا الزام عائد کیا۔ لیکن بعد میں جب ٹرمپ نے پاکستان کے سہارے طالبان کے ساتھ ڈیل کی تو ٹرمپ نے عمران خان کو وائٹ ہائوس مدعو کیا۔معید یوسف نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے ساتھ پاکستانی وفد میں واشنگٹن کا دورہ کیا تھا تاکہ افغان بحران پر بات کی جا سکے۔

معید یوسف کے ساتھ گزشتہ ہفتے ہونے والی بات چیت سے آگاہ ایک شخص جیک سلیون نے بتایا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے بات چیت سخت رہی لیکن سیاسی سطح پر معاہدہ ہوا (جس کی مقامی ماہرین کو توقع نہیں کیونکہ اسی وقت طالبان مزید علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں) تو اس سے امریکا پاکستان تعلقات میں ڈرامائی انداز سے بہتری آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوششیں جاری ہیں کہ معاہدہ ہو جائے، یہ وہ موقع ہے جہاں پاک امریکا مفادات یکساں ہیں لیکن معاملہ اُن کے ہاتھ میں ہے دیکھتے ہیں کہ وہ آگے کیا کرنا چاہتے ہیں۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں رکاوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں دو ٹوک الفاظ میں کہوں گا کہ اگر وزیراعظم نے مجھے ہدایت نہ کی ہوتی اور یہاں وفد کو نہ بھیجا ہوتا تو ہم یہاں نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا طالبان پر سے اثر رسوخ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی سلیون سے بات چیت تعمیری رہی لیکن پاکستان کو اگر فائدہ نہ ہوا تو میڈیا میں ایسے پیش ہونے سے گریز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد کسی کو پریشان کرنا نہیں بلکہ صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح طور پر پیش کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں