29

اے آر وائی نیوز چینل کی بندش آزادی صحافت پر حملہ؟

اے آر وائی نیوز چینل کی بندش آزادی صحافت پر حملہ؟
کئی حلقے اے آر وائی نیوز چینل کی بندش کو آزادی رائے پر ایک حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اس چینل کے ایک پروگرام میں مسلح افواج کے بارے میں ایسا ایک سیگمنٹ شامل کیا گیا تھا، جسے حکومت نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا تھا۔پیر کی رات اے آر وائی نیوز چینل کی پاکستان میں نشریات اچانک بند کر دی گئیں۔ اس چینل کی مینیجمنٹ نے بتایا ہے کہ میڈٰیا ریگولیٹر ادارے پیمرا نے نجی کیبل آپریٹرز سے کہا کہ وہ اے آر وائی نیوز کی نشریات بند کر دیں۔اگرچہ پیمرا کی طرف سے بعد ازاں اس چینل کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھی ارسال کیا گیا تاہم متعدد حلقوں کے مطابق الزامات عائد کیے جانے کے بعد مناسب کارروائی کے بغیر ہی اس چینل کی نشریات پر بندش درست عمل نہیں ہے۔پاکستانی دارالحکومت اسلام کے سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ضیغم خان کے بقول مناسب قانونی کارروائی کے بغیر کسی میڈیا ادارے کو اس طرح بند کرنا درست نہیں ہے۔
خصوصی گفتگو میں ضیغم خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں آمرانہ حکومتوں نے تو میڈیا اداروں پر قدغنیں لگائیں ہی ہیں لیکن جمہوری دور میں اس طرح کی مثالیں زیادہ نہیں ہیں۔
ضیغم خان نے اے آر وائی کی نشریاتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن کہا کہ اس طرح اس چینل کی بندش آزادی رائے اور صحافت پر ایک حملے کے مترادف ہے۔
اس نیوز چینل کو سابق وزیر اعظم عمران خان کا ‘ماؤتھ پیس‘ یا ترجمان بھی قرار دیا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سن دو ہزار اٹھارہ کے پارلیمانی الیکشن میں اس چینل نے عمران خان کی کامیاب مہم چلائی اور یہ تحریک انصاف کی کامیابی کی ایک وجہ بھی بنی۔
عمران خان کے دور اقتدار کے ختم ہونے کے بعد بھی یہ چینل ایک مخصوص انداز میں ان کے حق میں ایک مہم چلا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق چونکہ اب حکومت میں مسلم لیگ ن ہے، اس لیے کچھ سیاسی طاقتوں نے پیمرا کو اس چینل کے خلاف ایکشن لینے کے لیے کہا ہے۔
پیر کی رات ایک پروگرام میں عمران خان کے ترجمان کا ایک بیان شامل کیا گیا تھا، جو پیمرا کے مطابق فوج مخالف اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھا۔ تاہم اے آر وائی نے ان الزمات کو مسترد کر دیا ہے۔
اے آئی وائی کے سی ای او سلمان اقبال نے ایک ٹویٹ میں کہا دراصل انہیں سچ بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں نے بھی اس چینل کی بندش کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سابق وزیر شیریں مزاری نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ امپورٹڈ حکومت میں جمہوری روایات کا فقدان بھی ہے۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران پریس فریڈم کی صورتحال ابتر ہوئی ہے۔ کئی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کئی کو اغوا اور ہراساں بھی کیا جا چکا ہے۔ ایسی مثالیں بھی دیکھی گئی ہیں، جہاں کچھ صحافیوں کو فوج اور خفیہ اداروں کے بارے میں تنقید کرنے کی وجہ سے نوکریوں سے بھی فارغ کروا دیا گیا۔
پاکستان میں ایسی قانون سازی کی جا چکی ہے، جس کے مطابق فوج پر تنقید کرنے پر سزائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔ کچھ ناقدین کے مطابق ان قوانین کی وجہ سے سیلف سنسر شپ کا مسئلہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔
ضیغم خان کے بقول پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں ضرورت سے زیادہ قانون سازی کی جا چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دراصل ضرورت قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ہے نہ کہ نئے قانون بنانے کی۔ نظریہ ضرورت کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک قانون کا بول بالا نہیں ہو گا، تب تک لوگوں کو انصاف بھی نہیں مل سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں