dr mujahid mansoori 51

’’ایہہ پتر ہٹاں تے نئی وکدے‘‘پینٹاگان کی توثیق. ڈاکٹر مجاہد منصوری

امریکی، یورپی یونین، نیٹو اور برطانوی ( کسی حد تک بھارتی) عسکری، انتظامی اور سیاسی و علمی حلقوں میں طالبان کے ایک گولی چلائے بغیر بالآخر کابل پر مکمل کنٹرول، امریکی افواج کے انخلا میں ہوئی حیرت انگیز تیزی اور ان کی 3لاکھ نفری پر مشتمل تیار کردہ ٹرینڈ آرمی کے مکمل مفلوج ہو جانے پر فالو اپ نیوز، تجزیوں و تبصروں کا گراف ریکارڈ سطح پر آگیا ہے۔ افغان دارالحکومت عالمی میڈیا کی پیشہ ورانہ توجہ کا مرکز و محور بنا ہوا ہے، جیسے 20سال قبل ورلڈ ٹریڈ سنٹر اچانک فضائی حملوں سے زمین بوس ہونے پر نیویارک بنا تھا۔ اہم ترین تبصرہ شہرہ آفاق امریکی مرکز دفاع و سلامتی، ’’پینٹاگان‘‘ کے ذمہ داران و ماہرین کا ہے۔اس کا امریکی مفاد کے نقطۂ نظر سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بروقت اور تلخ حقائق کے اعتراف کی طاقت سے لبریز ہے جس سے امریکہ کی مایوس کن اور بڑا سوال بن جانے والی اجتماعی سیاسی و عسکری دانش کا موجود معیار بروقت اور مکمل بے نقاب ہونے سے اصلاح و احتساب کے دروازے کھل گئے ، جو یقیناً امریکی سلامتی کے مفاد کے حوالے سے اس کی بڑی اہم اور فوری قومی ضرورت بن گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ا س صورت میں امریکی میڈیا ٹرائل کے موڈ میں آتا ہے یا بدستور ’’قومی مفاد‘‘ کی معاونت میں اب بھی ثابت شدہ امریکی ناعاقبتی کو کور دینے کا ڈیزاسٹر کرتا ہے، جیسا کہ عراق پر حملے اور آکوپائی وال اسٹریٹ موومنٹ پر کوریج کا مجموعی رویہ کتنے ہی سوال ریکارڈ کر گیا جس کے جواب نہیں ملے۔

امریکہ میں احتساب، جواب طلبی، اعتراف اور مایوس کن کارکردگی کی بے نقابی کی خبریں کوریج سب سے بڑھ کر خود صدر جوبائیڈن کے اعترافی بیان اور انٹرویو کی خبریں عام ہونے کے بعد اب امریکی عوام کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ EMPOWERMENTکا امتحان شروع ہو گیا ہے کہ واقعی ابھی اسی درجے پر ہے جتنا اس کا دنیا میں چرچا ہے یا ہوم لیس اور غریب امریکیوں کی تحریک دبنے یا دبانے کے بعد یہ بھی امریکی سیاسی و عسکری دانش کی طرح سکڑ گئی ہے۔

ویسے تو امریکہ کے ہر دو انواع، مین اسٹریم اور سوشل میڈیا میں اشرف غنی حکومت اور امریکی ٹرینڈ افغان فوج کے طالبان کے خلاف مزاحمت سے مکمل گریز پر اب اطرافی خبروں ،تجزیوں اور تبصروں کا طوفان آیا ہوا ہے۔ یہ کیسے ہو گیا؟ بڑا سوال بن کر اٹھا ہے،بے شمار سوال اٹھائے جا رہے ہیں، غنیمت یہ ہے کہ غلطیوں کے دفاع پر اعتراف کا غلبہ ہے، سوالات کے ابال میں گزری امریکی انتظامیہ اور جنگی چال بازوں اور سازوں کے محاسبے کی جو دیگ پک رہی ہے اس میں سے پینٹاگان کے ابتدائی اور مختصر تبصرے پکتی دیگ سے چکھنے کے لئے نکالے دو چار چاولوں کی مانند ہیں۔ ملاحظہ ہوں:

امریکی وزیر دفاع لوائڈآسٹن کے چیف اسپوکس مین جون کربی نے ’’امریکی ڈیزاسٹر ان کابل‘‘ پر میڈیا بریفنگ میں سوالوں کے جواب میں اعتراف کیا کہ جنگ میں مورال (جرات و حوصلہ) کا فیکٹر حربی وسائل، اسلحہ، مہارت و تربیت پر حاوی ہو تا ہے۔ ہم تو افغانوں کو یہ ہی فراہم کر سکتے تھے، ہم نے 3 لاکھ کی فوج بنانے کے لئے اسلحہ، تمام مطلوب وسائل اور تربیت دی لیکن عزم و حوصلہ و بہادری نہیں خریدی جا سکتی۔ بش اور اوبامہ ادوار میں پینٹاگان کے ماہر حرب لیفٹیننٹ جنرل ڈگ لیوٹ نے بھی اسی سے ملتا جلتا تبصرہ کیا ،کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ ہماری تیار کردہ اور تربیت یافتہ افغان فوج میں عزم و حوصلے (مورال) کی کمی سے نکلنے والا شرمناک نتیجہ ہے۔ یہ ہمارا انٹیلی جنس فیلیئر بھی ہے کہ ہم افغانستان میں مستحکم فوج اور پولیس کی تیاری کے لئے ان ( افغان فوجیوں) کی استعداد کا اندازہ ہی نہیں کر سکے۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ جو کچھ شرمناک ہوا اس کی وجہ لیڈر شپ، ڈسپلن اور مورال کے فقدان سے ہوا، جو ہم نہیں دے سکتے تھے ہم نے انہیں تمام مطلوب اسلحہ اور تربیت دی۔ ریٹائرڈ جنرل صاحب کا یہ تبصرہ شایدامریکی رائے عامہ کی طرف سے بڑا سوال اٹھایا جائے گا کہ جب وارسائنس کے باڈی آف نالج میں یہ آزمودہ حقیقت واضح ہے کہ ہر دو طرح کی استعداد مادی (بشکل اسلحہ، لوجسٹک، تربیت، مہارت وغیرہ) اور غیر مادی پوٹینشل (بشکل لیڈر شپ، ڈسپلن اور عزم و حوصلہ و بہادری) جنگی کامیابی کا لازمہ ہیں تو 20 سال تک آخرالذکر کو کیسے نظرانداز کیا گیا؟

کتنی دلچسپ تاریخ بنی ہے کہ امریکی ماہرین حرب اور حربی علوم کے اسکالرز ایک مطلوب مستحکم فوج تیار کرنے کی صلاحیت سے 20سال تک محروم رہے یا باڈی آف نالج (وار سائنس) اب تک غیر مادی مطلوب لازمے کو (چلیں پیدا کرنے سے محرومی تو مانی جا سکتی ہے ) کیا اس کی فوج کی تیاری اور تشکیل سے قبل یا بعد بھی ٹیسٹ کرنے کا کوئی طریقہ تیار نہ کر سکے۔ یہ سبق تو ہمارے بچوں کے پسندیدہ شاعر صوفی تبسم نے جنگ ستمبر 65کے اس کمال جنگی ترانے سے ہی دے دیا تھا۔ ایہہ پُتر ہٹاں تے نئی وکدے (یہ بہادر سپوت دکانوں بازاروں میں نہیں ملتے) کیں لبدی اے بازار کڑے(اے لڑکی تو اپنا بہادر سرتاج تلاش کرنے بازار میں کہا ںآ گئی ہے) ہمارے شاعر کا تصور لاہور، سیالکوٹ اور قصور پر پانچ گنا حملہ آور دشمن کو ناصرف روکنے بلکہ میدان جنگ میں اس کے پرخچے اڑانے سے تشکیل پایا تھا۔ افغانستان میں امریکی 9/11کے اشتعال سے یکدم جنگجو بن جانے والی سول قیادت اور جرنیلوں نے افغانستان اور پھر عراق کے لئے جو جنگی حکمت عملی تیار کی تھی اس میں امریکی افواج کا کوئی جذبہ اور عزم کہاں سے آتا؟ جبکہ عوام کی طرف سے مظاہرے بھی ہوئے اور مسلسل سوال بھی اٹھے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ امریکی عسکریت کا سبق آموز ڈیزاسٹر دنیا بھر کو امن اور جنگ کے حوالے سے کیا سبق دیتا ہے اور وہ دنیا پڑھ بھی سکتی ہے پھر سمجھ کر اس پر عمل بھی کر سکتی ہے یا نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں