290

ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسانہ ہوکہ آپکے یا انکے جانے کا وقت آجائے . لیجنڈ اشفاق احمد

ایک دوسرے کے گھروں میں آتے جاتے رہیں۔ ایسانہ ہوکہ آپکے یا انکے جانے کا وقت آجائے

لیجنڈ اشفاق احمد

ایک فوتگی کے موقع پر میں نیم غنودگی میں کچھ سویا ہوا تھا اور کچھ جاگا ہوا نیم دراز سا پڑا تھا۔ وہاں بچے بھی تھے جو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک بچے کی بات نے مجھے چونکا دیا وہ کہہ رہا تھا کہ”کوئی فوت ہوجائے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ ہم سب اکٹھے ہوجاتے ہیں اور سارے رشتہ دار ملتے ہیں ”
پھر ایک بچے نے کہا کہ”اب پتہ نہیں کون فوت ہوگا’ نانا ناصرالدین بوڑھے ہوچکے ہیں’ ان کی سفید داڑھی ہے شاید اب وہ فوت ہونگے۔ اس پر جھگڑا کھڑا ہوگیا اور وہ آپس میں بحث کرنے لگے۔ کچھ بچوں کا موقف تھا کہ پھوپھی زہرا کافی بوڑھی ہوگئی ہیں وہ جب فوت ہونگی تو ہم ان شاءاللہ فیصل آباد جائنگے اور وہاں ملینگے اور خوب کھیلیں گے”
خواتین حضرات! میں آپ کو ایک خوشخبری دوں کہ اس بحث میں میرا نام بھی آیا۔ میری بھانجی کی چھوٹی بیٹی جو بہت چھوٹی ہے اس نے کہا کہ”نانا اشفاق بھی بہت بوڑھے ہوچکے ہیں ”
خواتین و حضرات! شاید میں چونکا بھی اس کی بات سن کر تھا۔ جو میرے حمایتی بچے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو بہت رونق لگے گی کیونکہ یہ بڑے مشہور ہیں۔
جب بچوں کا جھگڑا کچھ بڑھ گیا اور ان میں تلخی بڑھنے لگی تو ایک بچے نے کہا کہ”جب نانا اشفاق فوت ہونگے تو گورنر آئیں گے۔ اس پر ایک بچے نے کہا کہ نہیں گورنر نہیں آئیں گے بلکہ وہ پھولوں کی ایک چادر بھیجیں گے کیونکہ گورنر بہت مصروف ہوتا ہے۔ تمہارے دادا یا نانا ابو اتنے بھی بڑے آدمی نہیں کہ ان کے فوت ہوجانے پر گورنر آئیں گے”

وہ بچے بڑے تلخ، سنجیدہ اور گہری سوج بچار کے ساتھ آئندہ ملنے کا پروگرام بنارہے تھے۔ ظاہر ہے بچوں کو تو اپنے دوستوں سے ملنے کی بڑی آرزو ہوتی ہے نا! ہم بڑوں نے ایسا ماحول بنادیا ہے کہ ہم رشتے بھول کر کچھ زیادہ ہی کاروباری ہوگئے ہیں۔ چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں حالانکہ چیزیں ساتھ نہیں دیتیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رشتے طاقتور ہوتے ہیں اور ہم رشتوں کے حوالے سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔

خدا کے لئے کوشش کریں کہ ہم اپنے رشتوں کو جوڑسکیں ایسی خلیج حائل نہ ہونے دیں کہ ملاقاتیں صرف کسی کے فوت ہوجانے کی مرہون منت ہی رہ جائیں کیا ہم ان بچوں کی طرح اس بات کا انتظار کرینگے کہ کوئی مرے پھر ہم مجبوری کے ساتھ لاٹھی ٹیکتے ہوئے یا چھڑی پکڑے وہاں جائیں۔ جب ہم کہیں جائیں تو یہ فخر دل میں ہونا چاہیئے کہ میں ایک شخص سے ملنے جارہا ہوں مجھے اس سے کوئی دنیاوی غرض نہیں ہے۔ اس کے پاس اس لیے جارہا ہوں کہ وہ مجھے بہت پیارا ہے۔ چاہے ہم اس کام کے لیئے کم وقت دیں لیکن دیں ضرور۔

(اشفاق احمد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں