75

ایچ ای سی کی خود مختاری؟

40 / 100

ملک میں اعلیٰ تعلیم عام کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ بامقصد بنانے کی غرض سے 2002 میں خود مختار کثیر الجہتی ہائر ایجوکیشن کمیشن قائم کیا گیا تھا ۔ اس کے مقاصد میں عالمی رجحانات ملحوظ رکھتے ہوئے سرکاری جامعات کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ نجی شعبے میں بھی یونیورسٹیاں بنانے کی اجازت دینا سر فہرست تھا جبکہ جملہ امور میں ڈگریوں کی تصدیق،کونسلنگ، تعلیم و تحقیق کا معیار جانچنے کے لئے یونیورسٹی سطح پر قائم انہانس کمیٹیوں کی نگرانی، فیکلٹی کی فلاح و بہبود ، نصاب کی تشکیل میں راہنمائی ، ملکی اور بین الاقوامی سطح کے اسکالرشپس اور با لخصوص سرکاری جامعات کے لئے فنڈز کا اجرا شامل تھا ۔ اس سے قبل یہی ادارہ 1974سے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نام سے محض جامعات کے لئے فنڈنگ کے کام تک محدود تھا۔ آج 2002 کے مقابلے میں سرکاری اور نجی شعبے میں قائم یونیورسٹیاں ہر سال لاکھوں گریجویٹ ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی اسکالر پیدا کر رہی ہیں۔ شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جس میں تعلیم و تحقیق کا کام نہ ہو رہا ہو ۔ 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں نے بھی اپنی سطح پر ہائر ایجوکیشن کے ادارے قائم کر لئے جو براہ راست صوبائی حکومتوں کے ماتحت کام کر رہے ہیں ۔ وفاقی کابینہ نے بدھ کے روز ایچ ای سی کی موجودہ خود مختاری ختم کرتے ہوئے اسے وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حکومتی اقدام کے تحت صدر عارف علوی آرڈیننس کی منظوری دیں گے جس کے مطابق چیئرمین ایچ ای سی دو سال اور ممبران کی تعیناتی چار سال کے لئے ہوگی ۔ یہ دونوں عہدیدار مزید ایک ایک ٹرم بھی لے سکیں گے ۔ بظاہر متذکرہ حکومتی فیصلہ انتظامی امور سے متعلق دکھائی دیتا ہے تاہم تعلیمی حلقے اور جامعات اگر اسے اپنے تعلیمی امور سے متصادم سمجھتے ہیں تو بہتر یہی ہوگا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کر لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں