75

ایمان مزاری کی بریت پاکستانی عدالتی تاریخ کا انوکھا فیصلہ ایڈووکیٹ حیدر سید

ایمان مزاری کی بریت پاکستانی عدالتی تاریخ کا انوکھا فیصلہ
ایک ایسا مقدمہ جس میں استغاثہ اور دفاع دونوں متفق تھے کہ جرم سرزد ہوا ہے مگر پھر بھی عدالت نے ملزمہ کو بری کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی اور سماجی حقوق کی کارکن ایمان زینب حاضر مزاری کے خلاف پاکستان آرمی کی قانونی برانچ کی طرف سے تعزیرات پاکستان کے تحت درج کروائے گئے مقدمے کو ختم کرنے کا حکم سنا دیا گیا۔
ایمان زینب حاضر مزاری کے خلاف درج مقدمے کا اخراج پاکستان کے فوجداری نظام میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے، جس میں ایک فوجداری مقدمے میں توہین عدالت کی کارروائی کی طرح ملزمہ کی وکیل کی طرف سے ایف آئی آر میں درج واقعے اور ملزمہ پر لگے الزام کو درست تسلیم کرنے کے بعد محض کمرہ عدالت میں افسوس کے الفاظ کی ادائیگی کر دینے کی بنیاد پر مقدمے کو ٹرائل کے بغیر خارج کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ایک طرف جہاں قانونی حلقوں نے بہت سے حوالوں سے خوش آئند قرار دیا ہے وہاں اس فیصلے نے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے جس میں یہ بات کی جا رہی ہے کہ کیا یہ مقدمہ فوجداری اصول قانون میں عدالتی تشریحات کی مدد سے ایک نئی سمت کا اضافہ بھی ثابت ہو سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں اس فیصلے کو ان عدالتی تفردات میں شمار کیا جائے گا جنہیں بعد کے ادوار میں عدالتیں بطور نظیر نافذ نہیں کرتیں جیسے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ؟
وہ فیصلہ بھی ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے ایک ایسا ہی اجتہادی فیصلہ تھا مگر بعد کے ادوار میں عدالتوں نے اس فیصلے کو بطور قابل عمل نظیر قبول نہیں کیا۔
کسی بھی فوجداری جرم کے دو حصے ہوتے ہیں۔ فعل اور نیت۔ فوجداری جرائم میں ان دونوں اجزا کو بیک وقت ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ کسی بھی ایک جزو کو ثابت نہ کیا جا سکے تو ملزم کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
ضابطہ فوجداری میں ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ اگر وہ یہ سمجھے کہ الزام علیہ کی طرف جس جرم کی نسبت دی گئی ہے وہ بے بنیاد ہے تو وہ مزید کارروائی کے بغیر کسی بھی فوجداری مقدمے کو کسی بھی مرحلے پر ختم کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے مقدمے کی کارروائی میں بار بار کہا کہ الزام علیہ ایمان زینب حاضر مزاری چونکہ آفیسر آف دی کورٹ ہیں لہٰذا انہیں افواج پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں کچھ مخصوص الفاظ ادا نہیں کرنے چاہیے تھے۔ یعنی عدالت اس بات پر استغاثہ کے ساتھ متفق نظر آئی کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے جرم کا واقع ہونا بادی النظر میں قرین قیاس ہے البتہ ملزمہ کو اس کے ذاتی حالات و واقعات اور نفسیاتی کیفیت کا فائدہ دیتے ہوئے الزام کے بارے میں تاسف کا اظہار کرنے پر اس مقدمے کو ختم کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کی ماتحت عدالتیں اس نئے فوجداری اصول قانون کو لے کر چلتی ہیں تو پاکستانی فوجداری قانون میں مقننہ میں بیٹھے قانون سازوں کی طرف سے چھوڑا گیا ایک بہت بڑا خلا پُر ہو سکے گا۔ دنیا کے بہت سے ممالک کے برخلاف پاکستان کے عام فوجداری قانون میں ٹرائل سے پہلے جرم کو قبول کر لینے اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کی صورت میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں تھا، جس میں اس بنیاد پر کسی ملزم کے ساتھ رعایتی سلوک کیا جا سکتا ہو۔
یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ماتحت عدالتوں کی طرف سے اس اصول کی پیروی کی گئی تو اس کا اثر اسلام آباد میں ایک درجن سے زائد وکلا کے خلاف درج دہشت گردی کے مقدمے پر بھی پڑے گا جس میں وکلا پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیمبر میں گھس کر بدتمیزی اور توڑ پھوڑ کرنے کا الزام ہے کیونکہ دونوں مقدمات کے حالات و واقعات میں بہت کچھ مشترک ہے۔ دونوں مقدمات میں ملزمان آفیسرز آف دی کورٹ کے ٹائٹل کے حامل ہیں۔
ایمان زینب کیس کی طرح مذکورہ بالا مقدمے میں نامزد کیے گئے وکلا بھی چیف جسٹس اسلام آباد کی عدالت میں بذریعہ بار ایسوسی ایشن پیش ہو کر اس واقعے پر اپنے دکھ اور تاسف کا اظہار کر چکے ہیں اور موجودہ کیس کی طرح ان ملزمان کا موقف بھی یہی ہے کہ ان سے جو کچھ بھی سرزد ہوا وہ ایک مخصوص نفسیاتی دباؤ کی کیفیت میں ہوا۔
بہرحال اس فیصلے میں مرتب کیے جانے والے نئے اصول قانون کا جب ملک کے عام شہریوں پر مقدمات پر اطلاق کیا جائے گا تبھی اس مقدمے کی اہمیت اجاگر ہو سکے گی۔
اسلام آباد کے وکلا کی ریگولیٹری باڈی، اسلام آباد بار کونسل پہلے ہی بذریعہ پریس ریلیز ایمان زینب کیس میں مرتب شدہ اصول قانون کا فائدہ عام شہریوں تک وسیع کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے، لہٰذا کسی طور پر بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ فیصلہ آنے والے ادوار میں فوجداری قانون کے ایک اہم فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں