68

ایف 35 سی طیارہ: بحیرہ جنوبی چین میں گرنے والے امریکی لڑاکا جہاز کو نکالنے کی دوڑ میں چین کی دلچسپی کیا؟

چین اور امریکی نیوی ان دنوں سمندر میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے ایف 35 سی تک پہلے پہنچنے کی انوکھی دوڑ کا حصہ ہیں۔
دس کروڑ ڈالر کی مالیت کا ایف 35 سی طیارہ بحیرہ جنوبی چین میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس کارل ونسن سے اڑان بھرتے وقت ایک ’حادثے‘ کا شکار ہو گیا تھا۔
یہ لڑاکا طیار امریکی نیوی کا جدید ترین طیارہ ہے اور اس میں خفیہ آلات نصب ہیں، جو ظاہر ہے امریکہ نہیں چاہتا کہ کسی اور کے ہاتھ لگیں لیکن کیوںکہ یہ طیارہ بین الاقوامی پانیوں میں گرا ہے اس لیے تکنیکی اعتبار سے اسے حاصل کرنے کی دوڑ قواعد کے مطابق ہے۔
جو بھی اس تک پہلے پہنچے گا، جیت اسی کی ہو گی اور جیتنے کا انعام کیا ہو گا؟ اس انتہائی مہنگے اور جدید لڑاکا طیارے میں چھپے رازوں تک رسائی۔
گذشتہ پیر کو جب یہ طیارہ ایک جنگی مشق کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کارل ونسن پر کریش لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا تھا تو اس حادثے میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس وقت یہ بحیرہ جنوبی چین کی گہرائیوں میں موجود ہے لیکن اس کو یہاں سے کیسے نکالا جائے گا یہ تاحال ایک معمہ ہے۔
امریکی نیوی کی جانب سے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ طیارہ سمندر میں کس جگہ گرا تھا اور اسے وہاں سے نکالنے میں کتنا وقت لگے گا۔
چین کا دعویٰ ہے کہ بحیرہ جنوبی چین کے مکمل حصے پر اس کا قبضہ ہے اور چین کی جانب سے گذشتہ کئی سال کے دوران ایسے کئی اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی اجارہ داری ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین نے سنہ 2016 میں ایک بین الاقوامی ٹریبونل کی جانب سے اپنے خلاف آنے والے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چین کا بحیرہ جنوبی چین پر قانونی طور پر کوئی حق نہیں۔
قومی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی فوج اس طیارے تک پہنچنے کی ’پوری کوشش کرے گی‘ جبکہ امدادی کارروائی کے لیے آنے والے امریکی بحری جہاز کو طیارے کی کریش سائٹ تک پہنچنے کے لیے 10 دن لگیں گے۔
دفاعی تجزیہ کار ایبی آسٹن کا کہنا ہے کہ یوں تو بہت دیر ہو جائے گی کیونکہ طیارے میں نصب بلیک باکس کی بیٹری اس سے پہلے ختم ہو جائے گی اور یوں اسے طیارے تک پہنچنے میں دشواری پیش آنے کا امکان ہو گا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ انتہائی اہم ہے کہ امریکہ اس طیارے کو کامیابی سے سمندر سے نکالے۔ ایف 35 دراصل ایک اڑتے ہوئے کمپیوٹر جیسا ہے۔ اس کے ذریعے آپ دیگر آلات کو بھی لنک کر سکتے ہیں جسے ایئر فورس کی اصطلاح میں ’سینسرز اور شوٹرز کو لنک کرنا‘ کہا جاتا ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ چین کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں، اس لیے اگر یہ ان کے ہاتھ لگ جائے تو یہ ان کے لیے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر وہ (چین) ایف 35 کی نیٹ ورکنگ قابلیت تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو اس پھر طیارہ بردار جہازوں کے فلسفے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس واقعے سے انھیں سرد جنگ کی باز گشت سنائی دے رہی تو انھوں نے کہا کہ ’سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔ یہ کہانی بالکل فلم ’دی ہنٹ فار ریڈ کراس اکتوبر‘ اور ’دی ابس‘ جیسی ہے۔ یہ تین حصوں پر مشتمل ایک ڈرامے جیسا ہے۔‘
امریکہ کے جوائنٹ چیفس چیئرمین کی سابق مشیر اور نیٹو اور یورپی یونین کی سابق سینئر سفارت کار ایبی آسٹن نے کہا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ چین کی جانب سے اس جہاز پر حقوق کے دعوے کی کوشش کرنا امریکہ کو ’دباؤ میں ڈال کر آزمانے کی کوشش‘ ہے۔
ٹرومین پروجیکٹ میں چینی امور کے تجزیہ کار برائس باروس کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین یہ طیارہ حاصل کرنا چاہتا ہے حالانکہ سائبر جاسوسی کا مطلب ہو سکتا ہے کہ انھیں اس کے اندرونی ڈھانچے اور کام کے بارے میں پہلے سے ہی کچھ علم ہوں۔
’میرے خیال میں وہ طیارے کے اصل حصوں کو دیکھنا چاہیں گے تاکہ بہتر طریقے سے یہ سمجھ سکیں کہ یہ کیسے بنایا گیا اور اس میں کیا کمزوریاں ہیں۔
امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا ہے کہ یو ایس ایس کارل ونسن پر حادثے کا شکار ہونے والے ایف 35 سی طیارے کو نکالنے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ایف 35 سی اتنا خاص کیوں ہے؟
اس طیارے میں نیٹ ورک سے چلنے والا مشن سسٹم ہے، جو دوران پرواز جمع کی جانے والی معلومات کو اسی وقت میں شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
امریکی بحریہ کا پہلا ’کم قابل مشاہدہ‘ کیریئر پر مبنی ہوائی جہاز جو اسے دشمن کی فضائی حدود میں بغیر پتا چلے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔
اس طیارے کے بڑے پر اور طاقتور لینڈنگ گیئر اسے بحری بیڑے سے تیز اور فوری پرواز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس طیارے میں دنیا کا سب سے طاقتور لڑاکا انجن ہے اور یہ 1,200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ جہاز اپنے پنکھوں پر دو جبکہ اپنے اندر چار میزائل رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں