ایشیا کا مقدمہ 55

ایشیا کا مقدمہ. مہاتیر محمد

ایشیا کا مقدمہ

مصنف کا تعارف:
ڈاکٹر مہاتیر محمد ملائیشیاکے موجودہ وزیر اعظم ہیں(2018)۔ وہ اپنے ملک پر طویل ترین حکومت کرنے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں جو اس بات کا اظہار کہ ملائیشیاکے عوام کا ان پر غیر متزلزل یقین ہے ۔ وہ پہلی دفعہ 1976میں ملائیشیا کے نائب وزیراعظم بنے جب کہ 1981میں وہ وزیراعظم منتخب ہوئے اور متواتر 1997تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے ۔وہ بڑھاپے میں چوتھی مرتبہ 2017میں ایک مرتبہ پھر وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے ۔ ان کی ذاتی کوششوں سے ملائیشیا اقتصادی لحاظ سے ایشین ٹائیگر بنا اور آج کے ملائیشیا کو دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ اس وقت دنیا بھر سے لوگ ملازمت کی غرض سے ملائیشیا کا رخ کررہے ہیں کیونکہ یہ ملک اقتصادی ترقی اور سماجی انصاف کے لحاظ سے ایشیا کا بہترین ملک بن چکا ہے۔
کتاب کا تعارف:
کتاب’’ ایشیا کا مقدمہ ‘‘ڈاکٹر مہاتیر محمد ، وزیراعظم ملائیشیا کی تحریر ہے جو ان کے ذاتی تجربات کا خوبصورت مرقع ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اپنے اور اپنے ملک کی ترقی کی تاریخ اور ان کو درپیش مسائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مصنف نے کتاب کا آغاز اپنے بچپن سے کیا ہے ۔ انہوں نے نوآبادیاتی نظام اور ملایا کی آزادی پر سیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔ مصنف نے سیاست میں اپنے کردار کو مرحلہ وار بیان کیا ہے۔ انہوں نے ملائشیاکی ترقی کے تیس سال کو بہت وضاحت سے بیان کیا ہے اور اس کے بعد ایشیائی ممالک میں اقتصادی بحران اور افراط زر پر روشنی ڈالی ہے اور اس بحران کے ذمہ داروں کا تعین کیا ہے۔ مہاتیر محمد اپنی کتاب میں اس بات کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح اقتصادی بحرا ن پر قابو پایا۔ مصنف اپنی کتاب میں ایک متحدہ ملائی قوم (جن میں ملائی ، چینی، انڈین شامل ہیں) پر تبصرہ کیا ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک متحدہ قوم تشکیل دی اور اقتصادی ترقی کے حصول کے بعدکس طرح انہوں نے معاشی مساوات حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اہل مغرب اور امریکہ کی ریشہ دوانیوں اور استحصال کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ اکیسویں صدی کسی بھی خطے کی صدی نہیں ہوگی بلکہ اس میں کئی اقوام عالمی طاقتیں بن کر ابھریں گی جو یورپ اور امریکہ کے تسلط کو ختم کر کے اس صدی کو ’’سب اقوام‘‘ کی صدی بنائیں گی۔
کتاب کے اہم نکات:
یہ کتاب کو سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے جن کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
Key-1۔دنیا کے بارے میں ایشیائی نقطہ نظر:
بچپن:
ڈاکٹر مہاتیر محمد 1925میں ایلورستار (ملائشیا) میں پیدا ہوئے ۔ ان کا شہر ملایا کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ وہ اپنے والدین کے دس بچوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والدین کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے تھا۔ وہ سب مل کر ایک جھونپڑی میں رہتے تھے۔ ان کے والد پہلے سکول میں استاد تھے اور پھر سرکاری محکمے میں ترقی پا کر ایڈیٹر بنے۔ ان کے والد نے ان کی پرورش خالص اسلامی اور مشرقی روایات کے مطابق کی اور اس میں نظم و ضبط کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ ڈاکٹر مہاتیر اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ثابت ہوئے کہ انہوں نے اچھی تعلیم حاصل کی ۔انہوں نے پہلے ملایا زبان اور پھر انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کی۔ مہاتیر محمد بچپن سے ہی ایک ذہن و فطین بچے تھے اس لئے تعلیم کے دوران وہ صف اول کے طلبہ میں شمار کئے جاتے تھے۔ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور جب ذرا بڑے ہوئے تو ان کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک معلم مقرر کیا گیا۔ ان کا گھرانہ شدید مذہبی تو نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مشرقی روایات اور دینی تعلیم کو اپنا شعار بنا یا اور ان کے گھر میں سب سے زیادہ توجہ دینی تعلیم، اخلاقی اقدار، بڑوں کی عزت اور مل جل کر رہنے میں دی جاتی تھی۔ اس لئے جب ڈاکٹر صاحب کو بعد کے سالوں میں بطورلیڈر بہت آسانی رہی اور وہ مقامی رنگ کو اپنائے رہے جس کی وجہ سے وہ اپنے لوگوں میں بہت مقبول ہوئے۔
ان کی تعلیم وتربیت پر ان کے والد محترم کا گہرا اثر رہا اور انہوں نے حساب اپنے والد سے پڑھا جو خود بھی حساب کتاب کے ماہر تھے۔ ان کے والد کبھی بھی گھر پر ملک و قوم کی بات نہیں کرتے تھے لیکن ان کا ایک ہی خواب تھا کہ ملایا کے لوگ پڑھیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں۔ ان کے والد کو نوکری کے دوران گھر سے دور رہنا پڑا اور اس دوران ان کے بچے گھر پر ہی رہ کر والدہ کی نگرانی میں تعلیم حاصل کرتے رہے ۔ مہاتیر محمد کی زندگی پران کے بچپن کی ٹریننگ نے خوب اثر ڈالا اور انہوں نے نہ صرف کامیابی سے تعلیم حاصل کی بلکہ بعد میں ایک عظیم لیڈر بن کر بھی ابھرے۔ جب وہ سکول پڑھتے تھے تو ان کی کوئی بڑی خواہش نہ تھی بس وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ بڑے ہو کر سول سروس جوائن کریں۔ان کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ بڑے ہوکر سول افسربن پائیں گے کیوں کہ ان کے تعلقات شاہی خاندان سے نہیں تھے اور نہ ہی ان کا تعلق اشرافیہ سے تھا۔ ڈاکٹر مہاتیرمحمد کے مطابق وہ ملک کے پسماندہ علاقے میں رہتے تھے جب کہ ملک کے امراء شمالی علاقے میں قیام پزیر تھے جہاں ان کے اپنے کلب اور پارک تھے۔
دوسری جنگ عظیم:
دوسری جنگ عظیم سے پہلے ملایا پر برطانیہ کا قبضہ تھا۔ ملایا کو بہت سے صوبوں میں بانٹ کر ہر صوبے کا برطانیہ سے الگ الگ معاہدہ کیاہوا تھا تا کہ ملایا کے عوام ایک آواز ہو کر اپنے حق کی آواز نہ اٹھائیں۔ وہ اس لحاظ سے برطانیہ کا پروٹیکٹوریٹ کہلاتے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ملایا کے لوگ داخلی طور پر تو خود مختار تھے لیکن خارجہ اور دفاع کے امور برطانیوی حکومت کے ذمہ تھے۔ اس زمانے میں ملایا کے لوگ مالی لحاظ سے کمزور اور سیاسی لحاظ سے انتہائی پسماندہ تھے۔ دوسری طرف برطانیہ اگرچہ ملایا کے تمام امور پر چھایا ہوا تھا لیکن وہ اس کے باوجوددنیا کو یہ تاثر دے رہا تھا کہ ملایا کے لوگ کلی طور پر آزاد ہیں اور حکومت برطانیہ مقامی لوگوں کی نجات دہندہ ہے۔اس زمانے میں برطانیہ کی حکومت کا ایک افسر اعلیٰ جس کا مرتبہ ایڈوائزر ہوتا تھا ،ملایا کے جملہ معاملات چلا رہا تھا۔ اس زمانے میں ایشیا کے بیشتر ممالک پر حکومت برطانیہ کا تسلط تھا اور وہ اپنے محکوموں کو آداب معاشرت اور آداب سیاست سکھا تے تھے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے مطابق اس زمانے میں تمام مشرقی اقوام نفسیاتی دباؤ میں تھیں اور سمجھ رہی تھیں کہ وہ یورپی اقوام کے مقابلے میں گھٹیا ہیں اور ان کے نزدیک آزادی ایک بے معنی چیز تھی۔
جاپانیوں کا حملہ:
ڈاکٹر مہاتیر محمد جب سولہ سال کے تھے تو دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا۔ جنگ نے دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔مہاتیر محمد کہتے ہیں کہ انہوں نے ایلورستار کے علاقے میں جہاں ان کا گھر تھا اپنی آنکھوں سے برطانیوی فوج کو پسپاہوتے دیکھا۔ برطانیوی فوج پسپا ہوتے وقت پل تباہ کر رہی تھی۔ جاپانی فوج بھاگتی ہوئی برطانیوی فوج پر گولیاں برسا رہی تھی۔ اس زمانے میں جنگ کی وجہ سے علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیداہوگئی اور لوگ چوریاں کرنے لگے۔ مہاتیر محمد جس سکول میں پڑھتے تھے وہ بند ہوگیا اور اس کی جگہ جاپانیوں نے اپنے سکول کھول دئیے جہاں انگریزی کو ترک کردیا گیا اور بچوں سے زبردستی جاپانی پڑھائے جانے لگی۔ مہاتیر محمد نے دیکھا کہ جاپانی لوگ متحد، تندرست اور نظم و ضبط کے ماہر تھے۔ مہاتیر محمد کے علاقے ایلورستار میں بہت سے ملائی چینی باشندے قتل کر دئیے کیوں کہ جاپانی ، ملائی چینیوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد ایک انگلش میڈیم سکول میں پڑھتے تھے جو جاپانیوں نے قبضہ کرتے ہی بند کر دیا اور بچوں کو منع کر دیا کہ وہ انگریزی کا نام بھی منہ سے نہ نکالیں۔ ملایا پر جاپان کا قبضہ تین سال تک رہا۔ اس دوران ڈاکٹر مہاتیر محمد کو یہ احساس ہو ا کہ جنگ عظیم دوم میں سب سے زیادہ نقصان ایشیائی لوگوں کا ہوا تھا کیونکہ وہ دونوں جانب سے لڑ رہے تھے اور ان کی کثیر تعداد یا تو ماری جا چکی تھی یا زخمی تھی جاپانی اور برطانیوی دوسرے الفاظ میں مقامی باشندوں کے کاندھوں پر بندوق رکھ کر چلا رہے تھے۔ آج بھی چند جاپانی مفکر اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ ملایا پر جاپانی حملہ صرف اس وجہ سے تھا کہ جاپان، مقامی لوگوں کو برطانیوی تسلط سے آزاد کروانا چاہتا تھا۔ یہ بات کسی حد تک درست تھی۔ جنگ سے پہلے ملایا میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ حکومت کرنا انکے بس کا روگ نہیں اور یہ کہ صرف برطانیوی لوگوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان پر حکمرانی کریں۔
جنگ کے بعد:
جنگ کے دوران جاپانیوں نے ملائشیا کو تھائی لینڈ کا صوبہ بنادیا لیکن جیسے ہی جنگ ختم ہوئی مقامی لوگوں کے پر زور اصرار پر ملائیشیا کو برطانیہ کے زیر تسلط کر دیا گیا۔ اس پر مقامی باشندے خوش ہوئے لیکن کچھ ہی عرصے بعد ان کے خوابوں کا شیش محل زمین پر دھڑم سے گر پڑا اورمقامی لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں برطانیہ نے ملائشیا کو اپنی کالونی بنا دیا ۔ اس سے مقامی لوگوں کے درمیان اتحاد قائم ہو گیا اور اب وہ ٹھیک معنوں میں سیاسی طور پر بیدار ہو چکے تھے۔
Key-2۔ڈاکٹر مہاتیر محمد اور آزادی کی تحریک:
اس زمانے میں ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر حکومت برطانیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ یہ کام چھپ کر کر تے تھے ۔ ان دنوں ڈاکٹر مہاتیر محمد کی پارٹی کا منشور یہ تھا کہ ملایا کے’’ یونین پلان‘‘ کو ترک کر کے پرانے سیاسی نظام کو بحال کیا جائے۔ وہ اور ان کے دوست جگہ جگہ لوگوں کو منظم کر رہے تھے۔ وہ سائیکلوں پر سوار ہو کر دور دراز کے دیہات میں جاتے تھے تا کہ لوگوں کو سیاسی لحاظ سے بیدار کر سکیں۔ مہاتیر محمد اور ان کے ساتھی تجربہ اور عمر میں کم ہونے کی وجہ سے کوئی بڑی تبدیلی تو نہ لا سکے لیکن حکومت خود اختیاری کا خواب ہر ملائی کا خواب بن گیا۔ اس زمانے میں مہاتیر محمد کی پارٹی کے جوان آلو پر تحریر لکھتے تھے تاکہ ان کا پیغام برطانیوی پولیس کے ہتھے نہ چڑھ سکے ۔ اس زمانے میں مہاتیر محمد کے ساتھی ان کی قیادت پر یقین کر نے لگے اور سمجھنے لگے کہ وہ سیاسی طور پر بالغ اور باشعور نوجوان ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ان دنوں پارٹی میں سیکریٹری یا نائب کا عہدہ لیتے تھے تا کہ معاملات پر ان کی گرفت مضبوط رہے اور وہ اچھے فیصلے کر سکیں۔
سیاسی پارٹی کی بنیاد:
ڈاکٹر مہاتیر محمد نے زمانہ طالب علمی میں ملایا کی سیاسی جماعت کیدا ملایا یونین منظم کی جو بعد میں ملک کی ایک بہت بڑی اور منظم جماعت بن کر ابھری ۔مہاتیر محمد کی ذاتی کوششوں سے آج یہ ملائیشیا کی سب سے بڑی جماعت یونائیٹڈ ملایا نیشنل آرگنائیزیشن بن چکی ہے۔ مہاتیر محمد نے لوگوں کی عام سی شکایات کو باقاعدہ ایک جدو جہد کی شکل دے دی تا کہ لوگوں میں برطانیہ کے خلاف قوم کو اکٹھا کیا جاسکے۔ فرض کریں کہ لوگوں کو اگر چاول یا گندم کی قیمتوں پر اعتراض ہو تا تو ڈاکٹر مہاتیر محمد کی جماعت اس کو ایک تحریک کا رنگ دے دیتی اور لوگوں کو یہ باورکروا دیتی کہ یہ سب کچھ برطانیوی حکومت کی غلط پالیسوؤں کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی کوششوں سے حکومت برطانیہ کو ملایایونین پلان ترک کرنا پڑا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا خیال تھا کہ اس کے ساتھ ہی ان کی جدوجہد ختم ہو جائے گی لیکن وہ نہ ہوئی کیونکہ ان کی پارٹی کے سرکردہ لیڈروں نے اب ملایا کی آزادی کی تحریک شروع کر دی۔ اس زمانے میں عام لوگوں کا یہ خیال تھا کہ مقامی لوگ ملایا پر حکومت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ملک میں تین الگ الگ اقوام بستی تھیں ۔ سب سے بڑی قوم ملایا تھی اس کے بعد دوسرے نمبر پر چینی اور تیسرے نمبر پر انڈین تھے۔ اس دور میں تجارت پر قبضے کی وجہ سے سب سے امیر قوم چینی تھے جو ملایا میں جملہ کاروبار پر قابض تھے۔
سنگاپور میں تعلیم :
ان دنوں ڈاکٹر مہاتیر محمدخود کو ایک بڑا لیڈر منوانے کے لئے سر گر م تھے اور ان کے خیال میں یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ وہ اعلیٰ تعلیم نہ حاصل کر لیتے۔پس انہوں نے اپنے آپ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے وقف کردیا اور خود کو وقتی طور پر سیاست سے الگ کر دیا۔وہ 1947سے لیکر 1953 تک وہ سنگاپور یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ اگرچہ وہ تعلیم حاصل کرتے رہے لیکن اس زمانے میں ہونے والی تبدیلیوں سے واقف رہے۔
اخبار کے لئے کالم لکھنا :
اس زمانے میں ڈاکٹر مہاتیر محمدچونکہ سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے عوام کامعیار زندگی بہتر بنانے کے لئے اخبارات اور رسائل میں کالم لکھنا شروع کئے۔ ان کا عنوان ان دنوں ملایا کی عورتوں کے حقوق اور ملایا کے ماہی گیروں کے حالات زندگی ہوتے تھے۔ اس سے انہوں نے کافی پیسے کمائے اور ان پیسوں سے اپنے لئے ایک موٹر سائیکل خریدی۔
میڈیکل کی تعلیم:
ڈاکٹر مہاتیر محمد نے زمانہ طالب علمی میں میڈیکل یونیورسٹی میں اپنے ہم وطن ملایا طالب علموں کا ایک گروپ بنایاجن کا مقصد تمام طالب علموں کو اس بات پر مائل کرنا تھا کہ وہ اچھی طرح سے اپنی تعلیمی سرگرمیاں آگے بڑھائیں۔ اسی دوران ان کی دوستی ان کی ایک ہم جماعت سیتی ہشما محمد علی سے ہوئی جن کے ساتھ افہام و تفہیم اس نتیجے پر پہنچی کہ دونوں کی دوستی محبت میں تبدیل ہو گئی۔اگرچہ تعلیم مکمل ہونے تک دونوں کی شادی نہ ہوئی لیکن دونوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپس میں شادی کر لیں گے۔ مہاتیر محمد کی بیوی کا خاندان بھی تعلیم کا گرویدہ تھا ۔ان کے والد محمد علی کی خواہش تھی کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں سیتی ہشما محمد علی ملائشیا کی دوسری لڑکی تھی جو میڈیکل کالج میں داخل ہوئی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دونوں نے شادی کر لی اور ان کے ہاں چار بچوں نے جنم لیا جبکہ تین بچے انہوں نے گود لئے۔ یوں کل ملا کر انہوں نے سات بچوں کی پرورش کی۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد جوائنٹ فیملی سسٹم کے پروردہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ چاہتے ہیں کہ وہ فیملی کے ساتھ گھل مل کر رہیں اور خوش و خرم زندگی بسر کریں ۔ ان کا کہنا ہے 1976 سے لیکر اب تک جب بھی انہیں دن یا شام کا کھانا گھر سے باہر کھانا پڑے تو ان کی جان پر بن آتی ہے اور ان کو دلی صدمہ پہنچتا ہے کہ آج کا کھانا انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ نہیں کھایا۔
Key-3۔ملائشیا کی آزادی:
جنگ عظیم دوم کے بعد کا دور عالمی تعمیر کا دور تھا۔لوگ ایک طویل اور تھکا دینے والی جدوجہد کے بعد آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ایشیا میں پاکستان اور انڈیا دو آزاد قومیں معرض وجود میں آ چکی تھیں اور دوسری طرف انڈونیشیا بھی ڈچ حکومت کے تسلط سے آزاد ہو چکا اس لئے ملائشیا کے عوام میں ایک نیا جذبہ انگڑائی لینے گا اور وہ مکمل آزادی کی بات کر نے لگے۔ملایا کے عوام نے زور و شور سے آزادی کی تحریک چلا دی ۔اس زمانے میں برطانیہ ہر میدان سے پسپا ہورہا تھا چنانچہ ملایا کی عوام کی طویل جدوجہد کے بعد ملایا کو 31اگست 1957کو برطانیہ سے آزادی مل گئی ۔اس دوران ڈاکٹر مہاتیر محمد 1953کے بعد اپنا کلینک چلانے لگے ۔ان کی بیوی ان کی بھر پور معاونت کرتی تھی۔ آزادی میں وہ اس لئے حصہ نہ لے سکے کیونکہ وہ ایک سرکاری ملازم تھے۔ چنانچہ انہوں نے آزادی سے کچھ ہی عرصہ قبل سرکاری نوکری چھوڑ کر اپنا ذاتی کلینک چلانا شروع کردیا۔ انہوں نے کلینک کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کا کچھ حصہ سیاست کو دینا شروع کر دیا ۔ وہ جلد ہی اپنے قصبے ایلوستار کے مشہور ڈاکٹر بن گئے۔ انہوں نے مقامی لوگوں اور سیاست دانوں کے ساتھ روابط بڑھانا شروع کر دئیے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر کی پریکٹس کے دوران مریضوں کے امراض کی تشخیص میں کافی تجربہ حاصل کیا اور جب بھی مریض ان کے کلینک میں داخل ہوتے ان کو معلوم ہوجاتا کہ ان کو کون سا مرض لاحق ہے اور انکی دوائی کیا ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ ملیریا اور ہیضہ کے مریضوں کو تو وہ دیکھتے ہی تشخیص کر لیتے تھے۔ لہذا بعد میں جب انہوں نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو ان کو ملکی مسائل کی درست تشخیص او ر ان کا حل سمجھنے میں بہت مدد ملی اور وہ اس قابل ہوگئے کہ انہوں نے ملک کے اہم مسائل کی شناخت اور ان کا حل ڈھونڈ نکالا۔
عملی سیاست میں حصہ:
جب انہوں نے اپنی پرائیویٹ پریکٹس شروع کی تو انہیں سیاست میں بھر پور حصہ لینے کا مو قع مل گیا۔ انہوں نے ملایا نیشنل فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور کچھ ہی عرصہ میں وہ سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ 1964میں وہ پہلی بار پارلیمنٹ کے ممبر بنے اور1974 میں وزیر بنے تب تک انہوں نے اپنی پریکٹس جاری رکھی۔
ملک میں بے چینی:
ڈاکٹر مہاتیر محمد نے 1969میں دوسری مرتبہ الیکشن لڑا۔اس وقت ملایا کے لوگ اپنی آزادی سے خوش نہیں تھے اور سمجھتے تھے کہ آزادی کے باوجود بھی وہ اسی طرح پسماندہ تھے اور ان کے مقاصد پورے نہیں ہوئے تھے۔ الیکشن کے نتیجے میں ان کی پارٹی کو مخلوط حکومت بنانا پڑی اور 1969ہی میں کولاالمپور میں چینی اور ملائی لوگوں میں دھنگا فساد برپا ہو گیا جس میں کئی لوگ مارے گئے ۔ ڈاکٹر صاحب اپنی پارٹی یو ایم این او میں ایک اہم پوزیشن پر فائز تھے لیکن وہ اس وقت کے وزیراعظم تنکو عبدالرحمن کو ساری خراب صورت حال کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ہی پارٹی کے وزیراعظم تنکو عبدالرحمن کو ایک خط لکھا جس میں ان کو وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑنے کا کہا ۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا یہ موقف تھا کہ جس ملک میں اتنی زیادہ قومیتیں رہتی ہوں اس میں نسلی تفاخر اور نسلی امتیاز کی بات کرنا گویا مٹی کے تیل پر آگ چھڑکنے کے مترداف تھا۔
پارٹی سے نکالا جانا:
ڈاکٹر مہاتیر محمد نے جب اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف خط میں سخت الفاظ استعمال کئے تو پارٹی نے ان کی ممبر شپ ختم کر دی اور ان کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ وہ تین سال تک پارٹی کی بنیادی ممبر شپ سے برخاست رہے۔ اس پربعد میں کئی مقالے لکھے گئے اور ڈاکٹر مہاتیر محمد کے سا تھ تنکو عبدلرحمن کا اختلا ف ایک دستایزی شکل اختیار کر گیا۔ مہاتیر محمد کا بنیادی اختلا ف یہ تھا کہ جس معاشرے میں بہت سی قومیتں رہتی ہوں اور جہاں سب کے وسائل میں فرق ہو وہاں نسلی بنیادوں پر بنائی گئی پالیسیاں ہنگاموں کا باعث بنتی ہیں۔
ممبر شپ کی بحالی اور وزیراعظم بننا:
1972 میں پارٹی نے ڈاکٹر مہاتیر محمد کی پارٹی ممبر شپ بحال کر دی اور وہ سینٹر بن گئے ۔ 1974کا الیکشن جیتنے کے بعد وہ پہلی دفعہ وزیر بنے اور اس کے دوسال بعد وہ ملائشیا کے نائب وزیر اعظم بنے۔ وہ پانچ سال اس عہدے پر کام کرنے کے بعد 1981میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم بنے ۔اس کے بعد ملائشیا نے تاریخ ساز ترقی کی۔ 80کے عشرہ میں ملائیشیا میں شرح ترقی 13فیصد سالانہ تھی جو پوری دنیا میں ناقابل یقین تھی۔ اس دوران ملائیشیا جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور اور امریکہ جیسے ممالک میں شرح ترقی کے لحاظ سے آگے نکل گیا۔ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد پہلا حکم یہ دیا کہ آزادی کے بعد تمام پالیسیوؤں کا جائزہ لیا جائے۔ اس دوران حکومتی کاموں کا جائزہ لیا گیا اور نوکرشاہی یعنی بیوروکریسی کی کارکردگی کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ملازمین کے حقوق و فرائض کا چارٹ بنایا گیا اور ہر ملازم کے لئے ہدایت دی گئی کہ اس نے کیا کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا۔ انہوں نے انتظامی امور کوچلانے کے لئے سخت ہدایات دیں ۔جب ملائیشیامیں ترقی کا آغازہوا تو اس وقت مہاتیر محمد نائب وزیراعظم تھے۔ ان کی ساری توجہ ایک ایسے معاشرے کا قیام تھا جو خوشحال ہو، جس میں لوگ امن و آتشی سے رہتے ہوں، اور تما م مذہبی اور لسانی گروہوں کی آمدنی ایک جیسی ہو ۔انہوں نے اقتدار میں آتے ہی اپنی قوم کو روشن مستقبل کا خواب دکھایا۔ ان سے پہلے ترقی کی کوئی واضح پالیسی نہ تھی اور ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی قوم کے سامنے ترقی کے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان کیا جس کو ویژن 2020کانام دیا۔ ان ترقیاتی منصوبوں میں ملائیشیاکا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا۔
Key-4۔ایشیا کی راہ فروغ:
جب ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملائیشیا کے سامنے کو ئی واضح منزل نہ تھی۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ ملائیشیا اس حد تک حیرت انگیز اقتصادی ترقی کرے گا اور معاشی ترقی سے لوگوں کا معیار زندگی اتنا بہتر ہوجائے گا اور لوگوں میں نفاق اور مذہبی تفرقہ بازی کی بجائے دوستی اور ہم آہنگی پیدا ہوجائے گی۔ یہاں مصنف دیوار برلن کے ٹوٹنے،کیمونزم کے خاتمے اور انٹرنیٹ کے انقلاب کی مثالیں دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ کام ہو جائیں گے اور ا ن کے اتنے زبردست اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی طرح 1950میں مشرقی ایشیا کے ممالک کو دیکھتے ہوئے کوئی پیشن گوئی نہیں کرسکتا تھا کہ ان میں ممالک میں ایک زبردست صنعتی انقلاب آئے گا جو ان کو اچانک دنیا کی نظر میں قابل تقلید اور معتبر بنا دے گا۔
ترقی کی تین دھائیاں:
مشرقی ایشیا میں 1960 کے بعد جو زبردست انقلاب آیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس زمانے کی صنعتی ترقی کے سامنےیورپ کا صنعتی انقلاب بھی مانند پڑ گیا۔ مشرقی ممالک کی ترقی کا ریکارڈ ساز عہد 30برسوں پر محیط تھا۔اسکے پہلے عشرے میں جس ملک نے سب سے زیادہ ترقی کی وہ جاپان تھا۔ دیکھا جائے تو60کی دھائی میں مشرقی ایشیائی ممالک کی سالانہ ترقی 7.1فیصد اور70 کی دھائی میں 7.9فیصد، جبکہ80کی دھائی میں یہ شرح6.4فیصد اور نوے کی دھائی میں یہ ترقی 6فیصد رہی۔ان معیشتوں کی تیز رفتار ترقی نے دیگر ممالک کی معیشتوں میں آنے والے مندے کو بھی قبول نہ کیا۔ ملائیشیاکی ترقی 90کی دھائی میں8 فیصد تھی جس سے ملک میں صنعتی انقلاب برپا ہوگیا اور ملک میں لوگوں کا میعار زندگی تاریخ کی بلندترین سطح پر پہنچ گیا۔ 1992میں مشرقی ایشیائی ممالک کی ترقی کا اندازہ اگرقوت خرید اور زرمبادلہ سے کیا جاتا تو وہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ سے کہیں آگے نکل چکے تھے اور یورپی ممالک مشرق ممالک کو رشک کی نظروں سے دیکھنے لگے تھے۔ ملائیشیا کی تجارت ان ممالک کے ساتھ20فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی تھی اور1993میں یہ شرح43فیصد تک بڑھ گئی۔ اس زمانے میں ملائیشیا نے یورپ کے ساتھ تجارت کو پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھ میں تھما دیا اور حکومت نے بس یہ کیا کہ ان کی دیکھ بھال اور پالیسی دی جس سے ملائیشیا کی تجارت کا حجم بہت پھیل گیا۔ یہی وجہ تھی کہ 80اور 90کی دھائیوں میں ان ممالک کو ایشین ٹائیگرز اور ایشین ڈریگنز کے نام سے پہچانا جا نا لگا۔ دنیا میں ملائیشیا کی مثالیں دی جانے لگیں اور کہا جانے لگا کہ کس طرح ایک لمبے عرصے تک شرح ترقی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ مشرقی ایشیا کے ممالک اسلحہ کی جگہ تجارت کی بہت بڑی منڈی بن چکے تھے اور ان کے عوام اب خوشحال ہو رہے تھے۔ مشرقی ایشیا میں ترقی کا سفر عالمی برادری کے لئے خوشی کی نوید لئے ہوا تھا کہ کیوں کہ ان کو ایک ایسی منڈیاں میسر آرہی تھیں جہاں لوگ خوشحال تھے اور وہ دنیا کے تمام ممالک کو ارزاں قیمت پر اچھا مال فروخت کرنے کے لئے تیار تھے۔
ملائیشیا کو ترقی کی راہ پر گامزن کر لیا تھا اور اب ہم عوام کو خوشحال بنانے میں مصروف ہوگئے اور کچھ ہی عرصہ میں ہماری معیشت دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کے ساتھ مقابلہ کرنے لگی۔
دلدل سے معجزے تک:
ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنی کتاب ایشیا کا مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ہماری اقتصادی ترقی دیکھ کر دنیاکے ممالک ہماری ترقی کو معجزے سے تعبیر کرنے لگے۔ میں اس ترقی کو عزت کی نگا ہ سے دیکھتا تھا لیکن اس کو اچانک کھو دینے کا احساس مجھے پریشان کر دیتا تھا۔ مجھے معجزے کی اصطلاح اس لئے پسند آئی کہ اس سے اچانک پن اور تیز رفتاری کااحساس ہوتاتھا اور ہم لوگ بہت خوش تھے کہ دنیا نے بالآخر ہماری صلاحیتوں کو مان لیا تھااور اب ملائیشیا کے باشندے جہاں بھی جاتے ان کو خوش آمدید کہا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ہی لوگوں کی نفسیات پر بھی بہت اثر پڑا۔ لوگوں میں اعتماد پیدا ہوا۔ ان کو یقین آگیا کہ وہ کسی طرح بھی دیگر ممالک سے کم نہیں ہیں اور وہ سست بھی نہیں جس طرح پہلے تھے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے یہ ممالک دنیا میں مریل گدھے کی طرح سمجھے جاتے تھے ۔ جنوبی کوریا،چین، انڈونیشیا،سنگاپور، تھائی لینڈ، فلپائن، تائیوان، اور جاپان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان ممالک میں ترقی کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ ممالک ہمیشہ دوسروں کے دست نگر رہیں گے ۔ مصنف کا خیال ہے انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کے لوگوں کی حالت زار افریقہ کے لوگوں سے بھی بدتر تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نوآبادیاتی نظام نے ان ممالک کو شل کر کے رکھ دیا تھا اور لوگوں میں اعتماد نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ مغربی ممالک نے ہم پرتسلط قائم کرنے کے بعد جو سوچ عوام کو دی وہ یہ تھی کہ ان ممالک کے لوگ نسلی طور پر گھٹیا اور کم تر ہیں اور وہ پیدا ہی غلامی کے لئے ہیں اور یہ کہ ان کی نسل کبھی بھی حاکم نہیں بن سکتی۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد مزید لکھتے ہیں کہ آج ان ممالک کی حکومتوں اور این جی اوز کی جانب سے جب انسانی حقوق کی بات نکلتی ہے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے اور ہم اس کو ایک ڈھکوسلے کے سوا کچھ بھی نہ سمجھتے۔
Key-5۔مشرقی ایشیا میں ترقی کا سفر:
ڈاکٹر مہاتیر محمد کے خیال میں مشرقی ایشیا کی ترقی کسی ایک عنصر کی وجہ سے نہ ہوئی۔اس کی کئی وجوہات ہیں اور ہر وجہ میں کچھ نہ کچھ وزن ہے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو 80کی دھائی میں جاپان اور کوریا امریکہ کے بعد مضبوط ترین معیشتیں بن چکی تھیں۔ اس کے بعد 90کی دھائی میں چین، ملائیشیا، سنگا پور اور ہانگ کانگ دنیا کی بہترین معیشتیں بن کر ابھریں۔ اسی طرح ویت نام کی جنگ سے ملائیشیا اور جاپان کو بے پنا ہ فائدہ ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ جاپان نے امریکہ کو فوجی اڈے دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا جبکہ ملائیشیانے اپنی ربڑ اور ٹن کی درآمد کو بڑھایا ۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ جنگ سے جو جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیا ں آتی ہیں وہ خطے میں بہت سی تبدیلیا ں لے کر آتی ہیں بعض ممالک ان تبدیلیوں سے مستفید ہوتے ہیں اور بعض کو ان سے نقصان پہنچتا ہے۔
عوام میں تبدیلی:
ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ ان کو جب اپنے ملک کی باگ ڈورسنبھالنے کا موقع ملا تو سب سے پہلے ان کے سامنے اپنی قوم کو تبدیل کرنے کا مشکل ترین کام تھا۔ان کی قوم فطری طورپر آرام پسند، غیرذمہ دار اور مستقبل کے بارے میں انتہائی لاپرواہ تھی اور یہی وجہ تھی ملائیشین قوم زوال کا شکار تھی ۔ مثال کے طور پر ملائیشیا میں رہنے والا ایک ملائی چینی بچہ تجارت اور لین دین میں آنکھ کھولتا تھا جبکہ ملائی کا بچہ دیہاتی ماحول میں پرورش پاتا تھا اور اس کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا اور اسے نہ اپنے مستقبل کی فکر ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ زمین کی ملکیت ہی سب کچھ نہیں ہوتی ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ نے زمین پر کتنی سرمایہ کاری کی اور کتنا منافع ہوا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کوئی چیز دس رنگٹ میں فروخت ہوئی ہے تو دس رنگٹ (ملائشیا کا روپیہ) ہی اس کا منافع ہیں لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کر دیتے تھے کہ اس کی تیاری پر جو رقم خرچ ہوئی ہے یا اس کو شہر تک لانے میں جو محنت صرف ہوئی ہے وہ اس کا کل خرچہ ہے جو اس میں سے نکال کر جو کچھ بچے گا وہ اس کا کل منافع ہوگا۔ ہماری اکثر آبادی اس وقت دیہاتوں میں آباد تھی اور ان کو معلوم نہیں تھا کہ جنگل سے اکٹھی کی گئی لکڑیوں پر اگرچہ کوئی لاگت نہیں آتی لیکن ان کو اکٹھا کرنے اور پھر مارکیٹ تک لانے میں جو محنت لگتی ہے وہ لکڑیوں پر آنے والے اخراجات تھے جو ان کی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔
ایک نئی سوچ:
ڈاکٹر مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو تبدیلی کا پیغام دیا اور ان کو یہ سمجھایا کہ وہ ان کا مقابلہ کن کن قوموں کے ساتھ ہے۔ ان کو یہ بھی سمجھایا کہ ضروری نہیں کہ ہم مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے ان کی نقل میں اپنا لباس، اقدار اور مذہب کو ترک دیں تو تب ہی ترقی کریں گے۔ یا ہم انگریزی سیکھ کر ان کی طرح بول کر ہی ایک بہترین قوم بن سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ وہ اپنی مذہبی تعلیمات پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے بھی ترقی کر سکتے تھے اور پھر بحیثیت قوم ملائیشیاکے عوام نے ایساکر دکھا دیا۔ ان کے مطابق ملائیشیا کے عوام نے اس تاثر کو زائل کر دیا کہ اسلام ساتویں صدی کا دین تھا بلکہ انہوں نے اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت کو ثابت کیا جس سے وہ اپنی مذہب اور سماجی اقدار سے جڑے رہے اور ان کا خاندانی نظام مزید مستحکم ہو گیا۔اس کے ساتھ جب معاشی تبدیلی بھی آئی تو لوگ فارغ البال ہو گئے اور انہوں نے ایک متحرک اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد رکھی۔
وژن 2020کے اہم نکات:
ڈاکٹر مہاتیر محمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اپنی قوم میں نمایاں تبدیلی کے بعد ہم نے ملک کی اقتصادی ترقی کے لئے پانچ سالہ ، دس سالہ اور پندر ہ سالہ منصوبہ بنا یا جس کا آغاز 1960سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ ان پالیسیوؤں نے ترقی کے مقاصد اور منازل مقرر کیں جن کو ہم نے آنے والوں سالوں میں حاصل کرنا تھا ۔چنانچہ ہماری اقتصادی ترقی میں جس پلان کو ستون کی حیثیت حاصل ہے وہ وژن 2020ہے جس کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ اقتصادی ترقی کے لئے سماجی ڈھانچے کی ترقی۔
۲۔ ہر سمت میں یکساں ترقی ۔ مثال سیاست، معیشت، روحانیت، نفسیات، تہذیب وتمدن
۳۔ ایک متحدہ ملائشیا کی تعمیر۔
۴۔ نفسیاتی طور پر آزاد اور پر اعتماد معاشرے کا قیام۔
۵۔ مضبوط اخلاقی اقدار کی حامل سوسائٹی۔
۶۔ جمہوری معاشرے کا قیام۔
۷۔ قوت برداشت، لبرل، اور بھائی چارے پر مبنی معاشرے کا قیام۔
۸۔ جدید اور سائنسی سوسائٹی کا قیام۔
۹۔ ایسا سوشل سسٹم جو افراد یا ریاست کی بھلائی پر مشتمل نہ ہو بلکہ مضبوط فلاحی معاشرے اور توانا فیملی سسٹم پر مشتمل ہو۔
۱۰۔ ملک میں معاشی مساوات کاقیام جن میں رنگ، نسل اور مذہب کا کوئی امتیاز نہ ہو ۔ جہاں سب لوگ برابر ہوں۔
۱۱۔ مضبوط معیشت جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا مقابلہ کر سکے۔
وژن 2020کے آغاز کے ساتھ ہی ہمارا سب سے پہلا قدم مضبوط معیشت کا قیام تھا ۔ 2020تک ہم نے اپنی سالانہ ترقی کی شرح 7فیصد سالانہ مقرر کی جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر دس سال بعد ہماری جی ڈی پی دو گنا بڑھ جائے گی۔ 90کی دھائی میں ہم نے
8.6فیصد سالانہ ترقی کی جس سے ملک میں ایک بھی جوان بے روزگار نہ رہا اور لوگوں کا میعار زندگی مغربی ممالک کے کئی ممالک سے بھی آگے بڑھ گیا جس سے ملائیشیا کا ہر بچہ سکول جانے لگا اور شرح تعلیم 100فیصد ہو گئی۔
ایشیائی انداز کی جمہوریت:
1960 کے بعد مشرقی ایشیا کے ممالک میں ایک نمایاں تبدیلی آچکی تھی۔ مشرقی ممالک میں ترقی اور آسائشات کی وجہ سے ان ممالک کے لوگ نہ صرف خوشحال ہوچکے تھے بلکہ ان ممالک کے لوگوں کی اوسط عمروں میں بھی اضافہ ہوا۔ دوسری طرف مشرقی ممالک میں ڈکٹیٹر شپ کی جگہ جمہوریت نے لی اور ایشیائی ممالک میں آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی تھی ۔ مغربی ممالک بجائے ہماری مدد کرنے کے ہم پر تنقید کرتے رہے اور ہمیں نقصان پہچانے کی پوری پوری کوششیں کر رہے تھے۔ یوں ہمیں دو مشکلات کا سامنا تھا ایک اندرونی محاذ پر ان لوگوں کو شکست فاش دینا جو ترقی کو صرف اس وجہ سے نہیں برداشت کر رہے تھے تا کہ کریڈٹ ان کے مخالفین کو نہ مل جائے اور دوسرا ان بیرونی قوتوں کو جن کوہماری ترقی ہضم نہیں ہو پا رہی تھی ا ور وہ سمجھتے تھے کہ عنقریب مشرقی ممالک سے ان کی اجارہ داری کا جنازہ نکل جائے گا۔

Key-6 ۔1997 کا معاشی بحران :
ڈاکٹر مہاتیر محمد ملائیشیا کی اقتصادی ترقی ، اس کی وجوہات اور ملک کو متحد کرنے کے تمام مراحل بتانے کے بعد اس بات پر سیر حاصل تبصرہ کرتے ہیں کہ 1997میں ملائشیا اور اس کے پڑوسی ممالک معجزاتی ترقی کر رہے تھے کہ اچانک ہمارے پڑوسی ممالک کی سٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں اور ان کے کریش سے پہلے مبینہ طور پر کچھ نامعلوم دشمنوں نے کریش کی افواہیں پھیلانا شروع کر دی تھیں ۔ پہلے تو ہم نے ان افواہوں پر کان نہ دھرے لیکن جب تھائی لینڈ کی کرنسی میں حیرت انگیز افراط زر دیکھنے میں آئی۔ کرنسی کے تاجروں نے تھائی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ کرنسی پرکنٹرول ختم کر ے۔ جیسے ہی حکومت نے کرنسی پر اپنا کنٹرول ختم کیا ملک میں افراط زر کا آغاز ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں مہنگائی ہو گئی ۔ اس کے بعد مشرقی ایشیا کے پورے خطے کی کرنسیوں پر حملہ کیا گیا اور ایسے اقدامات کئے گئے جن سے تمام ممالک میں مہنگائی ہو گئی اورسرمایہ کاری ختم ہوگئی۔ سرمایہ کار وں نے چپکے سے اپنا سرمایہ نکال دیا ڈ اکٹر مہاتیر محمد نے تھائی حکومت کو بحران سے نکالنے کے لئے قرض دیا جس سے صورت حال میں کچھ سنبھالا آیا ۔ جلد ہی کرنسی سٹہ بازوں نے ایشیائی کرنسی کو بیچنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے کرنسیوں کی قیمتیں بڑی تیزی سے کمی ہونے لگیں اور اس سے ملک کی معیشت میں شدید بحران پیدا ہوگیا۔ امریکہ کا کردار اس معاملے میں مشکوک رہا۔ جیسے ہی بحران شروع ہوا امریکہ نے کوئی مدد نہ کی اور خاموش تماشائی بن کر سب کچھ دیکھتا رہا لیکن جیسے بحران شدت اختیار کر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ اور آئی ایم ایف ہماری مدد کو دوڑے اور ہمیں بیل آؤٹ پیکیج دیا جس کی مالیت 17بلین ڈالرتھی۔ ملائیشیا کی کرنسی میں چھ ماہ کی مدت میں 40فیصد ، تھائی لینڈ کی کرنسی میں 55 فیصد اور انڈونیشیا کی کرنسی میں60فیصد کمی واقع ہوئی جس سےہماری معیشت بیٹھ گئی۔ اسی طرح کولاالمپور کی سٹاک ایکسچینج کی ساکھ میں 63فیصد کمی دیکھنے میں آئی جس سے ہمارا کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔
ایک خفیہ ایجنڈا:
مغربی ممالک کے رویوں کو دیکھتے ہوئے مشرقی ممالک میں یہ خیال راسخ ہو گیا کہ ہماری کرنسیوں پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ لیکن سوال یہ تھا کہ یہ حملہ کیا کس نے تھا؟ اور اس کے پیچھے کون کون سے ممالک تھے؟ بلاشبہ یہ ایشئین ٹائیگرز کو کمزور کرنے کی کوشش تھی۔ اس کا آسان جواب یہ ہے کہ مشرقی ممالک کی اگر وہ رفتار برقرار رہتی تو وہ دن دور نہیں تھا جب ایشیائی مارکیٹ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ بن جاتی اور مغرب کو ہم پر انحصار کرنا پڑتا۔ اس کے پیچھے امریکہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اور وہ یہودی شامل تھے جنہوں نے اپنی اجارہ داری قائم کرنے اور مشرقی ممالک کو قرضوں کے جال میں جکڑ کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا۔ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ خطے میں چھوٹے چھوٹے اور بھی کئی جاپان پیدا ہوجائیں اور اس کی اجارہ داری کو چیلنج کریں۔
معاشی سامراج کا عفریت:
ڈاکٹر مہاتیر محمد مشرقی ایشیائی ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہماری اقتصادی حالت جلد درست نہ ہوئی ان ممالک کا مستقبل مخدوش بھی ہو سکتا ہے۔ اب جب کہ ملائشیا کی کرنسی کافی حد تک گر چکی ہے کرنسی کے بیوپاری ہماری کرنسی پر ایک مرتبہ پھر حملہ کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ اب دوسرے ممالک پر فوج کشی کا زمانہ گیا۔ اب معاشی استحصال کا دور آگیا ہے ۔ یعنی پہلے کسی ملک کی معیشت تباہ کرو ، اس کے بعد اس کے لئے بیل آؤٹ پیکیج لے کر آؤ اور اس کے اندرونی معاملات میں پھر مداخلت کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دو۔
ایشیائی اقدار:
ڈاکٹر مہاتیر محمد بھرپور دلائل کے ساتھ اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ایشیا کی اپنی سماجی، سیاسی ، مذہبی اور معاشی اقدار ہیں جن پر کسی صورت میں سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مغربی ممالک صرف اپنی اقدار کو ہی ترقی کامعیار سمجھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایشیا کے حکمران اپنے جبر و استبداد، ڈکٹیٹر شپ اور ظلم کو ایشیا کا رنگ دے کر اہل مغرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تا کہ وہ اہل مغرب کی سچی بات کی بھی نفی کر سکیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ مہاتیر محمد یہ سمجھتے ہیں کہ اہل مغرب کو صرف وہی کچھ اچھا لگتا ہے جو ان کا اپناہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں ان کو خود پسند مشرقیت پسند اور جانے کیا خطابات دئیے ہوئے ہیں لیکن ان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
آزادی صحافت:
ڈاکٹر مہاتیر محمد کے مطابق جب کبھی مشرق میں آزادی کامفہوم بیان کیا جائے تو اس پر ایک طویل بحث چھڑ جاتی ہے اور مجھے خاص طورپر صحافت کا مخالف سمجھا جاتا ہے اور مجھے آزادی صحافت کے شدید مخالف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایسی بات نہیں لیکن اس صحافت کا کیا کہنا جس سے دوسروں کے حقوق مجروح ہو رہے ہوں۔ میں اس صحافت کا مخالف ہوں جو تفرقہ بازی کو ہوا دے، جس میں صحافی کسی پارٹی یا شخص کی آواز بن کر کسی کی پگڑی اچھالتے رہیں۔
امریکی اقدار بمقابلہ ایشیائی اقدار:
ڈاکٹر مہاتیر محمد نے مدلل انداز میں امریکی اور ایشیائی اقدار کا آپس میں موازنہ پیش کیا ہے تا کہ اپنے مخالفین کو منہ توڑ جواب دے سکیں اور اہل مشرق پر بھی اپنی بات واضح کر سکیں۔ان کے مطابق امریکی اقدار یہ ہیں:
۱۔ آزادی اظہار
۲۔ فرد کے انفردای حقوق
۳۔ ذاتی آزادی
۴۔ کھلی بحث
۵۔ ذاتی حقوق کی حفاظت
۶۔ پبلک آفس ہولڈرز کاکڑا احتساب
ایشیائی اقدار :
ایشیائی اقدار یہ ہیں:
۱۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی
۲۔ حصول علم
۳۔ بڑوں کا احترام
۴۔ مضبوط فیلی سسٹم
۵۔ مذہب سے لگاؤ
۶۔ مشترکہ خاندانی نظام
ایشیائی اقدار کا مستقبل:
ڈاکٹر مہاتیر محمد کا خیال ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ایشیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں اور بہت سے ممالک میں کئی رسم و رواج ختم ہو جائیں گے اور کئی نئے رسم و رواج کو فروغ حاصل ہو گا۔ اس وقت کئی ممالک میں مذہب سے بیزاری فروغ پا رہی ہے اور کئی ممالک میں مادہ پرستی سے نفرت بڑھ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں مشرق میں کافی معاشی اور معاشرتی تبدیلیا ں رونما ہوں گی جن میں انفرادی حقوق کا تحفظ ، انصاف کا بول بالا۔، کرپشن کا خاتمہ اور سماجی اونچ نیچ کا قلع قمع شامل ہیں۔
Key-7۔مشرق پر ایک نظر:
ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی کتاب ایشیا کا مقدمہ میں پورا ایک باب جاپان کو دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب جاپان کو ماڈل سمجھتے ہیں وہ کہتے
ہیں کہ وہ 1961میں پہلی مرتبہ جاپان گئے جہاں انہوں نے پندرہ دن تک قیام کیا اور اس دوران انہوں نے دیکھا کہ جاپانی اپنے کام کو پوری یکسوئی اور محنت سے کرتے تھے اور جھوٹ نہیں بولتے اور نہ کام چوری کرتے تھے۔ مہاتیر محمد کہتے ہیں کہ 1961میں جاپان جنگ کی تباہی سے سنبھل کر تعمیر و ترقی کی راہ پر چل چکا تھا۔ اس زمانے میں دنیا کو یہ علم نہیں تھا کہ جاپان ایشیا کا ٹائیگر بننے والا ہے اور لیکن وہ اس وقت ہی سمجھ گئے تھے ۔ جاپان چند ہی سالوں میں دنیا کی دوسری بڑی اکانومی بن گیا ۔اس کی جی ڈی پی کا حجم امریکہ کے بعد سب سے بڑا تھا۔ 80کی دھائی میں جاپان دنیا کے کئی ممالک کو قرض دینے لگ گیا تھا۔ انہوں نے جب ملائیشیا میں اقتدار سنبھالا تو جاپان کی اقتصادی ترقی کے ماڈل کو اپنا کر ملائیشیانے اسی طرح کی تیز رفتار ترقی شروع کر دی۔ جاپان میں صرف ایک ہی مسئلہ ہے کہ وہاں قیادت کا فقدان ہے اور آئے دن حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں۔ اگر جاپانی اس صورت حال پر قابو پا لیں تو وہ اپنی ترقی کی رفتا ر کو برقرار رکھ سکیں گے۔اس کے علاوہ جاپانی عوام کو چاہیے کہ وہ خود کو مشرقیت سے جوڑیں نہ کہ خود کو مغرب کا حصہ سمجھیں۔
Key-8۔نئے میلینئم کے لئے مشرقی ایشیا کی ترقی:
مہاتیر محمد کے مطابق ایشیائی عوام کے سامنے ایک عظیم چیلنج ہے۔ بے شک ہم لوگ روایتی جنگ کی تباہ کاریوں سے تو بچ چکے ہیں لیکن کسی بگڑی ہوئی معیشت کی تعمیر ،جنگ کے بعد حالات پر قابو پانے سے مختلف نہیں ہوتی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگ کے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا دشمن کون تھا لیکن معیشت کے دشمن ہمیشہ خفیہ ہوتے ہیں اور ہمیں ان کے خطرناک ارادوں کا علم نہیں ہوتا۔ نئی صدی کے خدو خال یہ ہیں کہ یہ صدی انٹرنیٹ کی یلغار کی صدی ہے اور ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر ہی مغرب کے برابر پہنچ جائیں۔ اس ضمن میں ترقی یافتہ ایشیائی ممالک جیسا کہ جاپان اور چین کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غریب ہمسایوں کا خیا ل رکھیں اور ان کو سرمایہ فراہم کر یں تا کہ غریب ممالک بھی ان کے ہم پلہ ہو جائیں۔ مہاتیر محمد کے خیال میں بیشتر ایشیائی ممالک کامشترکہ مسئلہ کثرت آبادی، ناخواندگی ، جہالت اور افلاس ہیں۔ ظاہر ہے یہ مسائل اسی وقت ختم ہو سکتے ہیں جب تمام ممالک ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دوسرے کی تجارت کو فروغ دیں۔ اس کے علاوہ انہیں خیال رکھنا چاہیے کہ مغربی ممالک کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ مشرقی ممالک ان کو چیلنج کر یں اور ان کی اجارہ داری ختم کریں ۔ان حالات میں مشرقی ممالک کو تیار رہنا ہو گا کہ وہ کس طرح آئی ایم ایف ، امریکہ اور ورلڈ بینک کے قرض کے جال سے خود کو بچا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں چین اور جاپان دونوں ممالک ان ممالک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اکیسویں صدی ایشیا کی صدی:
مہاتیر محمد نے اپنی کتا ب میں اکیسویں صدی کو ایشیا کی صدی قرار دیا ہے۔ اس کی بڑی بڑی وجوہات میں سے چند ایک یہ ہیں:
۱۔ ایشیا کے عوام میں غلامی سے نکل کر آزادی اور ترقی ایک بڑا خواب تھا جو اب پورا ہو چکا ہے۔
۲۔ ایشیا کے عوام محنتی اور جفا کش ہیں۔
۳۔ ایشیا میں آبادی زیادہ ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
۴۔ ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔
۵۔ چین اور جاپان دو ایسی طاقتیں ہیں جو عنقریب ایشیا کو دنیا کا ستارا بنا دیں گی۔
۶۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کی نظر میں ایشیا کے لوگ کبھی بھی یورپ پر تسلط قائم نہیں کریں گے اور نہ کسی ملک کو اپنی کالونی بنائیں گے کیونکہ انہوں نے خود غلامی اور ظلم و استبداد سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
۷۔ 1997کی مشرقی ممالک میں مندی سے اہل مغرب نے یہ باور کر لیا کہ ایشیا کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک دیا گیا ہے اور ایشیا کی ترقی رک گئی ہے لیکن یہ بات درست نہیں کیوں کہ ایشیا میں اب صنعتی انقلاب آچکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال چین کی ہے جو ایک سوئے ہوئے دیو کی مانند تھا جو اب جاگ گیا ہے اور مغرب کی چھوٹی چھوٹی معیشتوں کو ہڑپ کر جائے گا۔
۸۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد کے خیال میں اکیسویں صدی بین الاقوامی صد ی ہوگی جس میں تمام اقوام مل جل کر رہیں گی اور تمام ممالک کو ترقی کرنے کے ایک جیسے مواقع میسر ہوں گے۔

کتاب کا خلا صہ:

کتاب کے آخر میں ڈاکٹر مہاتیر محمد بڑے نپے تلے اندازمیں بین الاقوامی سیاست کا جائزہ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مغربی اقوام طبیعت اور عزائم کے لحاظ سے جھگڑالو اور استحصال پسند واقع ہوئی ہیں ۔انہوں نے اسلحہ کے بل بوتے پر ایشیائی اور افریقی اقوام کوغلام بنایا اور ان کے وسائل کو اپنے تصرف میں لا کر خوب ترقی کی۔ گویا یہ ترقی غریب اور بے بس عوام کا خون چوس کر حاصل کی گئی اور جیسے ہی ان بے بس اقوام میں شعور بیدار ہوا انہوں نے مغربی استعماریت کو چیلنج کیا اور استعماری طاقتوں کو اپنے ملک سے باہر نکال دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ مشرقی ممالک کے وسائل میں اضافہ ہوتاگیا۔ انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کی مدد سے اپنی ٹیکنالوجی اور انفراسٹر یکچر کو فروغ دیا اور اس مقام پر پہنچ گئے کہ انہوں نے اپنے سابقہ آقاؤں کو چیلنج کرنا شروع کردیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مغربی ممالک نے مشرقی ممالک کی شرح ترقی کودیکھ کر یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا کہ آئندہ صدی یعنی اکیسویں صدی ایشیا کی صدی ہوگی۔
زیر نظر کتاب میں مصنف نے نہایت جامعیت کے ساتھ اپنے ملک کے مسائل اور پھر قومی سطح پر کی جانے والی کوششوں جن میں قوم کو متحد کرنا، انکے لئے ایک منزل کا تعین کرنا اور پھر ملک کو اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالنا شامل ہے۔ مصنف نے آزادی کے بعد کے
پسماندہ ملائیشیا کے حالات سے لیکر اقتصادی لحاظ سے ایشیا کا ٹائیگر کہلانے والے ملائیشیا میں جد وجہد کو زبردست اندازمیں اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لئے بہت مفید ہے جو اپنے ملک کے لئے درد دل رکھتے ہیں۔

RELATED BOOKS

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں