207

ایران کی علمی ترقی

1979 میں اسلامی انقلاب کے فورا بعد جب امریکا اور مغربی ممالک نے ایران کے ساتھ تمام تر سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعلقات کو ختم کردئیے اور نوزائیدہ انقلاب کی بساط لپیٹنے کےلئے عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کے ذریعے جنگ مسلط کردی، اس جنگ میں امریکا اور مغرب نے اسلحہ خانوں کے دروازے جبکہ خلیجی ممالک نے اپنے خزانوں کا منہ صدام کےلئے کھول دیا۔ دوسری جانب دفاعی ساز وسامان یعنی کانٹہ دار تاریں، میزائل حملوں سے شہریوں کو بچانے کےلئے ریڈار اور انسانی جان بچانے والی ادویات تک ایران کو دینے سے انکار کردیا۔ اس پس منظر میں امام خمینی(رح) نے عوام سے براہ راست خطاب میں
یہ تاریخی جملہ بیان فرمایا ” اگر پوری دنیا کے دروازے ہم پر بند کردئیے جائیں ، اللہ کی رحمت کا دروازہ ہمارے لئے ہمیشہ کھلا ہے ”
امام خمینی کو اپنے پروردگار کے وعدوں اور اپنی قوم کی استعداد پر کتنا یقین تھا اور اسلامی انقلاب نے اس یقین کو عملی لبادہ کیسے پہنایا اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگانا ممکن ہے کہ آج دنیا کی طاقتور ترین فوجی طاقت روس جیسا ملک میدان حرب میں ایران کی ڈرون، میزائل اور لیزر ٹیکنالوجی کا محتاج دیکھائی دے رہا ہے۔ لاطینی امریکہ، خلیج کے شیخ نشین اور کئی ممالک کے لوگ پیچیدہ بیماریوں کے علاج کےلئے تہران کا رخ کرتے ہیں اور میڈیکل کے شعبے کی ضروریات بھی ایران سے ہی درآمد کررہےہیں، کئی ممالک زراعت ، لائیو سٹاک اور ڈیری مصنوعات کےلئے ایران پر انحصار کرتے ہیں جبکہ ایران کے مجموعی رقبے کا صرف 24 فیصد قابل کاشت ہے !
نانو ٹیکنالوجی، خلائی تحقیقات سمیت 20 سے زائد جدید سائنسی تحقیقاتی شعبوں میں ایران کا شمار دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں ہوتا ہے، بین القوامی سطح پر علمی اور تحقیقی مقالات کی رینکنگ میں ایران کا مقابلہ تیسری دنیا اور ترقی پذیر ملکوں سے نہیں بلکہ براہ راست امریکا اور یورپ کے ساتھ ہے !
مغربی ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کے برخلاف ایران میں سماجی بہبود اور عوامی سیاسی شراکت داری کا تناسب تمام ترقی پذیر اور اکثر مغربی ممالک کی نسبت زیادہ ہے، 1979 سے ابتک منعقد ہونے والے انتخابات میں ووٹر کی شرکت کا اوسط تناسب 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے اعداد و شمار اور حقائق بھی مغربی ذرائع ابلاغ کے جھوٹے پروپگنڈوں کے برخلاف حیران کن ہیں۔ اعلی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبا میں خواتین کا حصہ 62 فیصد اور کئی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خواتین کا تناسب مردوں سے زیادہ ہے۔ اولمپک اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل حاصل کرنے والی ایرانی خواتین کی تعداد دیگر اسلامی ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت اور عدم ہراسمنٹ کے اعتبار سے تمام ہمسایہ ممالک اور خلیجی ملکوں کی نسبت ایران کا ریکارڈ شاندار ہے۔ہر طبقہ زندگی میں خواتین آزاد ہیں البتہ حقوق نسواں اور آزادی کا جو درس مغربی میڈیا ہمیں پڑھانے میں مشغول ہے اور ہمارے مغرب زدہ دانشور بھی اسی بیانیے کو لیکر آزادی کے جس مادر پدر آزاد تصور کو پرموٹ کررہے ہیں اس کا منطقی نتیجہ ” میرا جسم میری مرضی” کی صورت میں سامنے آتا ہے، فی الحال ایرانی خواتین کو ایسی آزادی میسر نہیں ہے اور آزادی نسواں کے آڑ میں مغربی تہذیب کے پروردہ عناصر کا رونا دھونا در اصل اسی ایک وجہ سے ہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں