156

ایران سعودی عرب تعلقات کی بحالی

ایران سعودی عرب تعلقات کی بحالی
تحریر مفتی گلزار احمد نعیمی
اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب عالم اسلام کے دو اہم ترین ممالک ہیں۔ان ہردو ممالک کے ساتھ پورا عالم اسلام کسی نہ کسی طرح مربوط ہے۔جنوبی ایشیاکی سیاست میں دونوں ممالک کا ہمیشہ سے بڑا نمایاں کردار رہا ہے۔انقلاب اسلامی کے بعد ایران بہت حد تک تنہائی میں چلا گیا۔استعماری قوتوں نے اسکی معیشت، معاشرت اور سیاست کو تباہ کرنے کی مکمل ٹھان رکھی تھی۔بہت ناجائر اور ظالمانہ معاشی پابندیوں کے ذریعے ایران کو بے دست و پا کرنے کی مذموم کوشش کی۔ استعمار نے اسےمزید کمزور کرنے کے لیے اپنے صیہونی ناجائر بچے اسرائیل کو بنیادی ذمہ داری سونپی اور عرب ممالک کو اسکا معاون بنایا۔دنیا جانتی ہے کہ عراق نے ایران پر بہت ہی ناجائز جنگ مسلط کی۔یہ سب کچھ عراقی فرمانرواؤں نے امریکہ اور استعمار کو خوش کرنے کے لیے کیا۔مگر بعد میں صدر صدام کو امریکہ نے جس تاریخی اور بھیانک انجام سے دوچار کیا اس سے صرف صدام کی ہی نہیں پوری ملت اسلامیہ کی رسوائی ہوئی۔لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ صدام کے رسوا کن انجام سے عربوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور بدستور اسلام مخالف قوتوں کے ساتھ کھڑے رہے اور مشرق وسطی میں امریکی مفادات کا تحفظ بھی کرتے رہے اور اسکی ترجمانی بھی۔ان عرب ممالک کی امریکی غلامی کی وجہ سے عالم اسلام کو اربوں ڈالرز کا مالی اور لاکھوں معصوم جانوں کی ہلاکت کا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔اس سب صورت حال کا براہ راست ذمہ دار سعودی عرب ہے جس نے تمام عرب ممالک کو امریکہ کے ساتھ ناجائز تعاون پر آمادہ کیا۔لیکن جب ایک غیر محتاط مسخرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودیہ کو دودھ دینے والی گائے کہا اور سعودی عرب اور آل سعود کی بادشاہت کو بڑے توہین آمیز انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا تو اس وقت سعودی امریکہ تعلقات نے پہلی دفعہ پہلو بدلا اور سعودی عرب نے ایک مجبور محض کی کیفیت سے نکلنے کے لیے سوچنا شروع کیا۔پھر جب روس یوکرین جنگ شروع ہوئی اور روس پر پابندیاں لگیں ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔اس پر امریکہ نے سعودی عرب کو تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے کہا تو سعودی عرب نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔امریکہ کی بات نہ مان کر پہلی دفعہ سعودی عرب نے کھلی اور واضح “نافرمانی کا ارتکاب” کیا۔اس کے بعد پھر سعودی عرب کا چین کی طرف میلان بڑھتا گیا۔دوسری طرف ایران امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی کامیاب اور دور اندیش خارجہ پالیسی کی وجہ سے پہلے ہی چین کے بہت قرب میں جاچکا تھا۔
چین اور روس اس خطے سے امریکی اثر و رسوخ ختم کرنے یا کم سے کم کرنے کے حوالہ سے بہت کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔روس اور چائنہ کے ساتھ عرب ممالک اور بالخصوص سعودیہ کے مضبوط کاروباری تعلقات پہلے ہی موجود ہیں اور اب انہوں نے امریکہ کو خطے سے فارغ کرنے کے لیے ان تعلقات کو تزویراتی کامیابیوں کے حصول کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔اس مقصد کے لیے ان کے راستے کی دو بڑی رکاوٹیں تھیں ایک سعودی عرب کی امریکی غلامی اور دوسری سعودی عرب کی ایران دشمنی۔میری دانست میں ان دونوں رکاوٹوں کو دور کرنے کا وقت بہت قریب پہنچ چکا ہے۔سعودی عرب نے اپنے بین الاقوامی دوستی کے دروازے روس اور چین کے لیے بھی کھول دیے ہیں اور ایرانی دشمنی سے بھی وہ باز رہنے کا ارادہ کر چکا ہے۔سعودی عرب نے ایران سےمخاصمانہ کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کافی سنجیدگی کا اظہار کیا۔
میری دانست میں یہ فیصلے سعودی عرب کو بہت پہلے کر لینے چاہیے تھے تاہم اگرچہ یہ بہت مؤخر فیصلے ہیں مگر درست ہیں۔ایران سعودی مخالفت پر پورا عالم اسلام بہت پریشان ہے۔ان دو ملکوں کی باہمی رقابت نے عالم اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا ہے۔انکی باہمی مخالفت کی وجہ سے دنیائے اسلام امریکی استعمار اور صیہونیت کی چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔انکی باہمی مخالفت کی وجہ سے عالم اسلام کے وسائل کو لوٹا جارہا ہے۔پورا عالم اسلام میدان جنگ بنا ہوا ہے اور لاکھوں بے قصور مسلمان دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ اسلام مخالف قوتوں نے ان دو ممالک کو آپس میں دست و گریبان کیا اور پوری دنیائے اسلام کو بارود کی آگ میں جھونک دیا۔
ہم شکرگزار ہیں عوامی جمہوریہ چین اور مسلسل تیسری دفعہ منتخب ہونے والے چینی صدر جناب ژی جن پنک کے جنہوں نے عالم اسلام کے دو بڑے اور اہم ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا اور سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے نہایت اخلاص کے ساتھ جدو جہد کی۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایران کے نمائندہ جناب ایڈمرل علی شمخانی سربراہ سپریم سلامتی کونسل اور ان کے ہم منصب سعودی عرب کے جو مذاکراتی ٹیبل پر بیٹھے اور صلح کا تاریخی معاہد طے پایا۔اس معاہدہ کے تحت ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بحال ہوجائیں گے جو 2016 سے منقطع تھے۔اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارت خانے دوبارہ سے کھولیں گے اور باہمی تعلقات کو فروغ دیں گے۔اس معاہدہ کے تحت اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف ہونے والے منفی پروپگنڈے کو بھی روکیں گے۔ایک دوسرے کے اندرونی تعلقات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
مجھے یقین ہے کہ اس معاہدے سے مشرق وسطی اور پورے جنوبی ایشیا پر اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہونگے۔عالم اسلام کے وسائل ضائع ہونے سے بچ جائیں گے اور انہیں مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔قدرت نے ہر کام کا وقت اور جگہ معین کی ہوئی ہے ہمارا اس پر بہت مضبوط ایمان ہے۔پاکستان نے ثالثی کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکا،اسی طرح عراق نے بھی ایران سعودی تعلقات کی بحالی میں بہت کوشش کی۔ عراق میں مذاکرات کے تقریبا پانچ ادوار ہوئے برف کافی حد تک پگھلی مگر اللہ تعالی نے یہ تاریخی کامیابی چین کے نام لکھی تھی۔ اس پر ہمیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ مگر ساتھ ساتھ کچھ افسوس بھی ہوا کہ اے کاش ! ان تعلقات کی بحالی میں ترکیہ، پاکستان مصر یا کوئی دوسرا اسلامی ملک ثالث ہوتا۔
آج پوری دنیا انگشت بدنداں ہے کہ امریکہ جو اپنے آپ کو پوری دنیا کا بلا شرکت غیر مالک سمجھتا ہے وہ اس تاریخی معاہدے میں کہیں نظر نہیں آتا۔لیکن چائنہ جو بین الاقوامی سیاست میں بہت کم دخیل ہے آج دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو سفارت کاری کے محاذ پر پیچھے چھوڑ کر سب سے اونچے مقام پر جا پہنچا ہے۔یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ طاقت اور اسلحہ کے زور پر کسی کو جھکانا ممکن نہیں ہوتا ۔کامیاب حکمت عملی ہی کامیابیوں کا زینہ بن سکتی ہے۔پاکستان میں امریکہ نواز لابی خاموش ہے لیکن ہم جیسے غریب لوگ جو اس ملک میں اتحاد و یگانگت کے لیے کوشاں ہیں انہیں یہ معاہدہ ہوا کا تازہ جھونکا محسوس ہوا ہے۔اگر اس میں پیش رفت ہوئی تو یقینا عالم اسلام کے بہت سے مسائل حل ہونگے۔ اس معاہدہ کے اعلان کے بعد اسرائیل میں صف ماتم بچھ گئی ہے اور ایسا ہونا ہی تھا۔وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ان شاء اللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں