77

اپنےدو ہزار کو عزت دو آصف محمود

اپنےدو ہزار کو عزت دو آصف محمود
حاتم طائی زندہ ہو جائے تو اسے معلوم ہو کہ اس کا نام تو برائے وزن بیت ہی ہے، یہ تو پاکستان کے حکمران ہیں جنہوں نے سخاوتوں کوگہر ساز کر دیا ہے۔
اقتدار کا مورچہ تو فتح ہو چکا، لیکن پی ڈی ایم کا مقابلہ اب عمران خان سے نہیں، حاتم طائی سے ہے۔
رعایا کے دست سوال پر پورے دو ہزار رکھ دیے گئے ہیں اور یہ ارشاد اومنی بسوں کے روٹ کی طرح ہمراہ ہے کہ آپ پر کوئی پابندی نہیں، اس خزانے کو جیسے مرضی خرچ کریں۔
جی چاہے تو بسوں کا کرایہ دیں اور مناسب سمجھیں تو بچوں کی فیس ادا کر لیں، پھر بھی کچھ بچ جائے تو عمر رسیدہ اہلیہ کو لے کر سوئٹزر لینڈ کی وادیوں میں ہنی مون منانے چلے جائیں کہ جس عمر میں دولت ہاتھ آئے، محرومیوں کا کفارہ اسی عمر میں ادا کرلینا چاہیے۔
حاتم طائی زندہ ہو جائے تو اسے معلوم ہو کہ اس کا نام تو برائے وزن بیت ہی ہے، یہ تو پاکستان کے حکمران ہیں جنہوں نے سخاوتوں کوگہر ساز کر دیا ہے۔
’جس کی تنخواہ چالیس ہزار روپے سے کم ہے، حکومت اسے دو ہزار روپیہ دے رہی ہے‘۔ یہ اعلان فرما کر وزیر اطلاعات ایک لمحے کو رک گئیں اور پھر اسی بے ادائی سے بات کو حق الیقین تک پہنچاتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ حکومت ’اپنا‘ دو ہزار روپیہ دے رہی ہے۔
اب یہ سیاسیات کے طالب علموں کی جستجو کا میدان ہے کہ و ہ معلوم کریں یہ ’حکومت کا اپنا‘ دو ہزار کیا ہوتا ہے؟
ایک جمہوری حکومت عوام کی نمائندہ ہوتی ہے اور اس کا خزانہ اسی عوام کی امانت ہوتا ہے۔ اس میں ’اپنا‘ کے اس حرف اضافی کی معنویت کیا ہے؟
کیا پی ڈی ایم کے تمام اکابرین نے، جو اقتدار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اس مشکل وقت میں اپنی آدھی جائیداد بیچ کر قومی خزانے میں جمع کرا دی ہے جو اس سبسڈی کے ساتھ ’اپنا دو ہزار‘ کا لاحقہ لگانا بھی ضروری خیال کیا گیا؟
ریاست کا بنیادی وظیفہ کیا ہے؟ اپنے غریب شہریوں کو مختلف شکلوں میں بھیک دیتے رہنا اور اور انہیں لاشعوری طور پر بھکاری نفسیات کا اسیر کر دینا؟ یا ان کی ضروریات زندگی کا خیال رکھتے ہوئے باوقار انداز میں کوئی ایسا منصوبہ سامنے لانا جس سے ان کی کفالت کے امکانات بھی پیدا ہوں لیکن وہ بھکاری بن کر نہ رہ جائیں؟
دو دو ہزار کی یہ تقسیم ایک ایسی مشق ہے جس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ اس سے پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی عملا ’بھکاری بناؤ‘ مہم کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ایسی رقوم اگر کسی اجتماعی پروگرام میں ڈھل جائیں جہاں سے کسی ایک طبقے کے باعزت روزگار کے امکان پیدا ہو سکیں اور وہ اس پروجیکٹ کے ذریعے چند ماہ یا سال کے بعد با عزت روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں تو یہ اس سے بہت بہتر ہے کہ ہر ماہ لوگ بھیک کے لیے لائن میں لگے ہوں اور انہیں خیرات میں ’اپنے دو ہزار‘ روپے دیے جائیں۔
سوال اب یہ ہے کہ حکومتیں ایسے سطحی اقدامات کیوں کرتی ہیں جو آخری تجزیے میں قوم کی تعمیر کی بجائے اس کی تذلیل ثابت ہوں؟
یہ نیم خواندہ سماج کے اہل سیاست کی نفسیاتی پیچیدگی ہے جسے اس کے سیاق و سباق میں سمجھا جانا چاہیے۔برصغیر میں بادشاہوں، راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کی حکمرانی رہی۔ یہاں شہری کا تصور پیدا نہیں ہو سکا۔ یہاں رعایا ہے جو ہر پہر ایک بادشاہ مانگتی ہے۔
چنانچہ اہل سیاست اسی طرز حکومت کے تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ لوگوں کو باعزت روزگار ملتا جائے اور وہ حکومتوں کے انتظامی شکنجے سے آزاد ہو جائیں تو اہل سیاست کے ڈیرے ویران ہو جائیں۔ان کی بادشاہت ختم ہو جائے۔ رعایا خود کو شہری سمجھنا شروع کر دے۔
انکم سپورٹ ہو یا س طرح کا کوئی اور خیراتی پروگرام، یہ اصل میں سیاسی ڈیروں کی آباد کاری کی مہم ہے۔ انصاف کے نظام میں با معنی اصلاح کی بجائے کھلی کچہریوں کا تماشا بھی اسی نفسیات کا اظہار ہے کہ ادارہ سازی سے انصاف نہیں مل سکتا، بادشاہ سلامت البتہ کھلی کچہری میں رعایا کی فریاد سن کر موقع پر حکم صادر فرماسکتے ہیں۔
آپ غور فرمائیں، اس ملک میں آج تک سرکاری ملازمین کے تبادلوں کا کوئی واضح اور شفاف نظام وضع نہیں کیا جا سکا۔ خواتین اور مرد سالوں سفارش کی تلاش میں دھکے کھاتے ہیں کیونکہ یہاں تبادلوں پر اکثر پابندی رہتی ہے۔ اس پابندی کے پیچھے اس کے سوا کوئی حکمت نہیں کہ لوگوں کے جائز کام آسانی سے نہ ہونے پائیں بلکہ وہ ان معمولی معمولی کاموں کے لیے بھی اہل سیاست کے محتاج رہیں۔
چنانچہ تبادلہ کرانے کے لیے وزیر اعلی کا ڈائریکٹو چاہیے ہوتا ہے یا پھر کوئی تگڑی سفارش۔ جو سفارش کرتا ہے یا ڈائریکٹو لے کر دیتا ہے وہ اپنی غلامی کا طوق ممنونیت کی شکل میں اس سارے خاندان کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔
جو جائز کام کسی مہذب معاشرے میں معمول کے مطابق ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت ہو جاتے ہیں ان کاموں کے لیے وطن عزیز میں اہل سیاست اور ان کے کارندوں کے حضور حاضر ہونا پڑتا ہے جو کسی والی ریاست، کسی نواب، کسی مہاراجہ، کسی بادشاہ کی طرح لوگوں پر احسان فرماتے ہیں۔
یہ چند ہزاروں کی خیراتی سکیمیں، کسی بھی عنوان سے ہوں، حققیقت میں غلامی کا شکنجہ ہیں۔ دو ہزار کی اس خیرات کے اعلان کے ساتھ جب یہ اعلان بھی ہوتا ہے کہ یہ ’حکومت کے اپنے‘ دو ہزار روپے ہیں تو یہ گویا رعایا کو بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ شاہی خاندان نے آپ کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں، اب رعایا ظل الہی کے اقبال بلند ہونے کی دعائیں کرے۔
یہی اہتمام اس وقت بھی روا رکھا جاتا ہے جب قومی خزانے سے عوامی فلاح کا معمولی سا کام بھی کیا جاتا ہے تو اس پر راتوں رات شکریے کے بینرز سے شہر کو یوں بھر دیا جاتا ہے جیسے اہل سیاست آبا کی جاگیر بیچ کر یہ کام کروا رہے ہوں۔
قومی اسمبلی میں اراکین پارلیمان جو تحریک استحقاق پیش کرتے رہتے ہیں ان کا مطالعہ کر کے دیکھ لیجیے، ساری واردات سمجھ آ جائے گی۔ یہاں اس بات پر بھی تحریک استحقاق پیش کی جاتی ہے کہ میرے حلقے میں واپڈا نے ٹرانسفارمر لگایا لیکن مجھے اس موقع پر بلایا ہی نہیں گیا۔ یہ کام چونکہ میرے ہاتھوں نہیں کروایا گیا اس لیے میرا استحقاق مجروح ہو گیا۔ میرے حلقے میں ڈاک خانہ کھولا گیا لیکن مجھے بتائے اور بلائے بغیر یہ کام محکمے نے خووہی کر دیا، اس سے میرا استحقاق مجروح ہو گیا۔
کبھی وقت ملے تو ریکارڈ اٹھا کر دیکھیے ان کا استحقاق کیسے کیسے مجروح ہو جاتا ہے۔ رعایا کے معمولی معمولی کام اگر ادارے کرنا شروع کر دیں تو نوابوں، والیوں، بادشاہوں کو رعایا پر اپنی گرفت کمزور ہو جانے کا ڈر لاحق ہو جاتا ہے۔جیسے ہی یہ گرفت کمزور ہونے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، ان کا استحقاق مجروح ہوجاتا ہے۔
یہی خوف پھر رعایا کو سمجھاتا ہے کہ حکومت نے ’اپنے‘ دو ہزار آپ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے ’حکومت کے اپنے نوٹ کو عزت دو۔‘
چنانچہ یہ ایسی امدادی اور خیراتی سکیمیں جاری کرتے ہیں۔ اپنے اپنے حلقے کے لوگوں کی فہرستیں بنتی ہیں، اپنے گروہ کو نوازا جاتا ہے، پھر جب انہیں خیرات دی جاتی ہے تو یہ گویا نواب صاحب، مہاراجہ صاحب، بادشاہ صاحب کی کرم نوازی کا ایک ثبوت ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں