mazhar-barlas articles 107

اٹھارہویں ترمیم کا انجام. مظہر برلاس

برادر عزیز ارشاد بھٹی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ گفتگو اور تحریر میں جب اردو سے بات نہ بن پائے تو وہ چوہدری غلام حسین کی طرح پنجابی کا استعمال شروع کر دیتے ہیں مگر چھکے چوکے لگانے سے باز نہیں آتے۔

حال ہی میں انہوں نے ایک ٹویٹ کیا ہے کہ ’’جنرل عاصم باجوہ تو تحریک انصاف میں سیاست کرنے آئے ہیں جبکہ جنرل بٹ، جنرل ناصر جنجوعہ اور جنرل عبدالقیوم (ن)لیگ میں تراویح پڑھانے آئے‘‘۔

ارشاد بھٹی ایک اور سینیٹر کا نام بھول گئے۔ (ن)لیگ کے سینیٹر جنرل صلاح الدین ترمذی بھی سیاست ہی کر رہے ہیں۔ ویسے تو (ن) لیگ نے اپنے مرکز لاہور میں ایک کرنل کو میئر بنایا تھا۔

بات لمبی ہو جائے گی۔ اتنے نام گنوانے کی کیا ضرورت ہے۔ بس جنرل ضیاء کی چھتری کو یاد کر لیں پھر اس کے مشن کو جاری رکھنے والی ’’جمہوری سوچ‘‘ پر غور کر لیں تو ساری صورتحال واضح ہو جائے گی۔

جہاں تک جنرل عاصم سلیم باجوہ کی بات ہے تو انہوں نے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کو بامِ عروج پر پہنچایا یعنی آئی ایس پی آر کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کیا۔

انہوں نے مشہورِ زمانہ ٹرپل ون بریگیڈ بنائی۔ وہ کور کمانڈر سدرن کمانڈ بھی رہے۔ ان کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا ہے۔ اس واقعہ سے آپ کو میاں نواز شریف کی سوچ کا اندازہ بھی ہو جائے گا۔

اس زمانے میں جنرل راحیل شریف آرمی چیف تھے جبکہ ملک کے وزیراعظم میاں نواز شریف۔ گوادر میں ایک تقریب تھی۔ مجھے آئی ایس پی آر والے لے کر گئے تھے۔ جب نواز شریف آئے تو ان کے دو تین چہیتے صحافی بھی ان کے ساتھ تھے مگر وہ لنچ کے وقت کھانے کی مرکزی ٹیبل پر نظر نہ آئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنےارد گرد محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمٰن اور میر حاصل بزنجو کو بٹھا لیا۔ آرمی چیف بھی ساتھ ہی بیٹھے تھے۔ مرکزی میز پر دیگر سول و عسکری حکام بھی تشریف فرما تھے۔

اس میز کے ایک کونے پر کور کمانڈر جنرل عامر ریاض اور یہ خاکسار محوِ گفتگو تھے۔ اتنے میں جنرل عاصم سلیم باجوہ آ گئے اور انہوں نے اونچی آواز میں میرا نام لیا اور کہنے لگے ’’ہم آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں‘‘، اس جملے کے بعد میاں نواز شریف نے میری شکل پر ٹکٹکی باندھ لی۔ کھانا ختم ہوا تو الگ جہازوں میں سب روانہ ہو گئے۔

اس سے اگلے دن میاں نواز شریف اپنے ایک خاص آدمی کو ملے اور کہنے لگے ’’میں تو اسے زرداری کا دوست سمجھتا رہا مگر کل گوادر میں جرنیل اس سے بڑی محبت کا مظاہرہ کر رہے تھے، یہ شاید پنڈی کا آدمی ہے‘‘۔

مجھے جب اس بات کا پتا چلا تو میں نے جواباً پیغام بھجوایا کہ میاں نواز شریف کو بتا دیجئے کہ یہاں کوئی پنڈی، لاہور، ملتان یا کراچی کا نہیں، نہ ہی کوئی پشاور، کوئٹہ یا نواب شاہ کا ہے، ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم سب کی محبت پاکستان سے ہے۔ ایک مشکل وقت میں آصف زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر بہت اچھا کام کیا تھا۔

پاکستان کے لیے جو بھی اچھا کام کرے گا، ہم اسے پسند بھی کریں گے، اسے سراہیں گے بھی، ہماری اس پاک وطن کے لیے جان حاضر ہے، ہم شخصیات سے نہیں، وطن سے محبت کرتے ہیں۔ جہاں تک جمہوریت کا سوال ہے ہم نے نوابزادہ نصراللہ کی قیادت میں یہ جنگ لڑی، اس جنگ میں پوری پیپلز پارٹی تھی۔

جاوید ہاشمی، بیگم کلثوم نواز شریف کے علاوہ (ن)لیگ کے چند افراد بھی تھے۔ ہاں میاں صاحب کے چہیتوں نے جنگ نہیں لڑی، کوئی ان کا چہیتا دبئی میں تھا تو کوئی مدینے میں اور کوئی فیض آباد کے پاس گھر میں تھا۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ سے پہلے اطلاعات کی معاون ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان تھیں، وہ ہماری فیملی ممبر کی طرح ہیں، انہوں نے عورت ہو کر بھی مردانہ وار جنگ لڑی، انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور وہ اب بھی تحریک انصاف کی سیاست میں پوری طرح سرگرم ہیں۔

بدھ کے روز بھی وہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ سیالکوٹ میں ایک فنکشن میں نظر آئیں۔ غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ غلط فہمیاں دلوں میں کدورتیں پیدا کرتی ہیں۔

فردوس عاشق اعوان کا تو نام بھی ایک ملنگ درویش سائیں فردوس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ ملنگ اکثر ان کی حویلی میں بیٹھا رہتا تھا۔

ڈاکٹر فردوس کے والد ملک عاشق اعوان بھی سیاست کرتے تھے۔ خود ڈاکٹر صاحبہ نے زمانہ طالب علمی سے سیاست کا آغاز کر دیا تھا۔ سیاست بھی عروج و زوال کی داستان ہے۔ اس میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔

یاد رہے کہ سیاست عہدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ دنیا والوں کی عجیب رسم ہے، جانے والوں پر الزامات کی بارش اور آنے والوں پر پھول نچھاور کرتے ہیں۔

خواتین و حضرات! واقعات کالم کھا گئے، ورنہ آج بودی شاہ کی باتیں بیان کرنا تھیں۔ اب بس تھوڑی سی باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ آپ کو پتا تو ہے کہ وہ نخریلا ہے۔ جب بھی آتا ہے تو اس کے کئی بے تکے نخرے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

گزشتہ روز بھی اس کے کئی نخرے برداشت کیے اور پھر وہ بولا ’’تمہیں پتا ہے کہ جو بہت سے لوگوں کو رہائیاں ملی تھیں وہ لین دین کے نتیجے میں ملی تھیں، خاموشی بھی اسی کا ثمر ہے، جو کچھ ہونے جا رہا ہے یہ پہلے طے ہو گیا تھا، بس کورونا اسے بالکل سامنے لے آیا ہے۔

تمہیں پتا ہے کہ گزشتہ دس سالہ حکمرانی میں 24ہزار ارب قرضہ لیا گیا تھا، اتنا ہی قرضہ ساٹھ برسوں میں لیا گیا تھا، تمہیں پتا ہے نا کہ نیب سے کئی لوگ تنگ ہیں، اب نیب قوانین بھی بدلے جا رہے ہیں، اٹھارہویں ترمیم میں بھی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، بس سمجھو کہ یہ ترمیم تقریباً ختم ہی کی جا رہی ہے اور اپوزیشن کی ایک بڑی پارٹی کے مطالبے پر اٹھاون ٹو بی کی شق بھی بحال کی جا رہی ہے۔

اس سے صدر مملکت کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار مل جائے گا‘‘۔باتیں تو بودی شاہ نے اور بھی بتائی ہیں مگر آپ فی الحال رئیس امروہوی کے شعر سے لطف اُٹھایئے۔

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں