236

اٹارنی جنرل کا استعفیٰ

جدید ریاستی نظام کے بنیادی طور پر تین ستون ہوتے ہیں، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ۔ جن کی مدد سے پورا نظام چلتا ہے۔ اگرچہ سارے قومی ادارے محترم ہوتے ہیں لیکن عدلیہ کا وقار اس لحاظ سے زیادہ بلند اور قابلِ احترام ہوتا ہے کیونکہ اس کے کاندھوں پر آئین کی تشریح کی بھاری و حساس ذمہ داری ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی جب کبھی کوئی ادارہ انتظامی مسائل کا شکار ہوا یا کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو عدلیہ سے ہی رہنمائی کیلئے رجوع کیا جاتا رہا ہے۔ اس لئے عدالت اور منصفوں کا احترام ہر صورت برقرار رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اٹارنی جنرل کی جانب سے معزز ججوں کے حوالے سے غیر محتاط گفتگو کی ہر جانب سے مذمت کی گئی جس کا نتیجہ اٹارنی جنرل کے استعفیٰ کی صورت میں برآمد ہوا۔ اس معاملے میں دو موقف سامنے آرہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کا اٹارنی جنرل کے موقف سے اظہارِ لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہنا ہے کہ حکومت آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی اور عدلیہ کا احترام کرتی ہے، کہا گیا ہے کہ مذکورہ بیان حکومتی ہدایات کے بغیر دیا گیا لہٰذا اٹارنی جنرل منصور علی خان سے استعفیٰ طلب کر لیا گیا۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ انہوں نے بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ معاملے پر

پاکستان بار کونسل نے گزشتہ روز وزارتِ قانون و حکومتی عہدیداروں کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست بھی دائر کی تھی۔ بہرطور استعفیٰ دیا گیا یا لیا گیا، اس امر میں دو رائے نہیں کہ عدلیہ اور اس کے منصفوں کے حوالے سے انفرادی یا اجتماعی سطح پر کسی بھی قسم کی خیال آرائی کرتے ہوئے الفاظ کے چنائو میں احتیاط کا پہلو بہرصورت مقدم رہنا چاہئے۔ اعلیٰ عدلیہ دستور کی محافظ، شارح اور ملک و قوم کو درپیش آئینی الجھنوں کے سلجھائو کا قابلِ اعتبار ذریعہ ہے۔ اس کا احترام ہر صورت ملحوظ رکھا جانا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں