36

آپشنز کیا رہ گئے؟ وزیراعظم نے قانونی مشیروں کو آج طلب کرلیا

اسلام آباد (نیوز) کیا آپشنز رہ گئے؟ وزیراعظم نے قانونی مشیروں کو آج (جمعہ کو) طلب کرلیا ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 6کو استعمال کرنے سمیت ان کے پاس دستیاب آپشنز پر ان کی رائے طلب کریں گے جبکہ وزیراعظم کی لیگل ٹیم تعزیرات پاکستان کی دفعات کا جائزہ لے رہی ہیں ۔ وزیراعظم کے اعلیٰ قانونی معاون نے بتایا کہ ملک میں یہ نظیر موجود ہے کہ جسے اس مخصوص کیس میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ غیرملکی معاونت اور سازش کومنتخب وزیراعظم کو بےدخل کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے آج (جمعہ کو) اپنے قانونی مشیروں کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں ان کی حکومت کو ہٹانے کی مبینہ غیر ملکی سازش کو ناکام بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل 6کو استعمال کرنے سمیت ان کے پاس دستیاب آپشنز پر ان کی رائے طلب کریں گے۔ مبینہ سازش کا اصل ثبوت اس مراسلے میں موجود ہے جو وزیر اعظم کو ایک سفیر سے ملا تھا، جس نے بیرونی ملک میں پالیسی سازوں کے ساتھ ان کی گفتگو کے نوٹس فراہم کئے تھے۔ وزیر اعظم خان نے جمعرات کو قوم سے اپنے خطاب میں امریکا کا نام لیا لیکن فوری طور پر نام واپس لے لیا اور ʼغیر ملکی ملک کا حوالہ دیا۔ خط کے مندرجات کو جمعرات کو قومی سلامتی کونسل میں شیئر کیا گیا، جس میں اسے ’’پاکستان کے اندرونی معاملات میں صریح مداخلت‘‘ قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم خان کے بیانیے کے مطابق بیرون ملک سے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی میں مدد کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کیلئے غیر ملکی فنڈنگ کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی لیگل ٹیم تعزیرات پاکستان کی دفعات کا جائزہ لے رہی ہیں ، جس سے اس مبینہ سازش سے نمٹنے کے لیے حکومت کے آئندہ لائحہ عمل کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔ریاست کے خلاف جرائم کے حوالے سے تعزیرات پاکستان میں دفعات موجود ہیں۔ جرائم کا ارتکاب کرنے کی سازش دفعہ 121 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ دفعہ میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی پاکستان یا اس کے بغیر کسی جرم کی سازش کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ دفعہ 121 کے تحت قابل سزا جرم ہے ۔ یا پھر پاکستانی حدود یا اس کے کسی حصے کی خودمختاری سے محروم کیا جائے یا حد سے تجاوز وہ اس طرح کہ زبردستی جرم یا جبری جرم کے اظہار کے ذریعے ، وفاقی حکومت یا کسی بھی صوبائی حکومت کے حوالے سے ہو تو اس کی سزا عمر قید یا پھر دس برس تک کی سزا اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ جب کہ دیگر دفعات بغاوت، جنگ کی نیت سے اسلحہ جمع کرنا ، جنگ میں سہولت کاری کے لیے چھپانا ، ریاست کے قیام پر تنقید یا ریاست کی خودمختاری ختم کرنے کی وکالت کرنا ۔ وزیراعظم کے اعلیٰ قانونی معاون نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق آمر جنرل مشرف کے خلاف بغاوت کے کیس کا حوالہ دیا جس نے عدلیہ کے نظام میں مداخلت کی تھی اور ایمرجنسی کا نفاذ کرکے ججوں کو ہٹایا تھا۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں یہ نظیر موجود ہے کہ جسے اس مخصوص کیس میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیوں کہ غیرملکی معاونت اور سازش کومنتخب وزیراعظم کو بےدخل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ معاون نے کہا کہ فیصلہ سازی کے دو اعلیٰ فورمز نے اس بیان کو ملک کے اندرونی معاملے میں مداخلت قرار دیا ہے اور زبان کو غیر سفارتی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان انہیں موجودہ صورتحال سے بچانے کیلئے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں