25

آئی ایم ایف کے پانچ مطالبات!

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین نے منگل کے روز منعقدہ تقریب میں صحافیوں سے گفتگو میں ایک بار پھر یہ امید ظاہر کی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ڈیل جلد ہو جائے گی۔ اسلام آباد میں ’’کارپوریٹ انسان دوستی سروے‘‘ کی لانچنگ کے موقع پر سوالات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام امور طے ہو چکے ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان کو پانچ پیشگی اقدامات کی فہرست دی گئی ہے تاکہ ان کی تکمیل پر پاکستان کے لئے توسیعی فنڈ کی سہولت بحال کرنے کے سلسلے میں آئی ایم ایف بورڈ کا اجلاس بلایا جا سکے۔ مشیر خزانہ کے بیان کے بموجب پاکستان نے آئی ایم ایف کے پانچ میں سے تین مطالبات پورے کر دیے ہیں۔ ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے اور اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے بل تیار کر لیے گئے ہیں جنہیں وزارتِ قانون میں حتمی شکل دیے جانے کے بعد وزیراعظم کے منظوری سے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔ بجلی کے نرخوں میں 1.39روپے فی یونٹ کا حال ہی میں اضافہ کیا جا چکا ہے جبکہ شرح سود میں اضافہ اور شرح مبادلہ میں توازن اسٹیٹ بینک کا دائرہ کار ہے۔ مشیر خزانہ کے بیان سے اگرچہ یہ واضح نہیں کہ شرح مبادلہ اور شرح سود کے حوالے سے آئی ایم ایف کا ادارہ حکومت پاکستان سے کن اعدادو شمار کی توقع رکھتا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ زری پالیسی میں 75سے 100بیسز پوائنٹس اضافہ کرکے اسے 7.2فیصد سے اوپر لاکر 8یا 8.25فیصدکرنا ہوگا۔ اس پیشگی شرط کے حوالےسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی زری پالیسی کمیٹی (ایم بی سی) کا اجلاس 26نومبر کی بجائے جمعہ 19نومبر کو طلب کرلیا ہے۔ شرح سود میں اضافے کے برآمدات سمیت معیشت پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ یہ یقیناً ایک قابلِ توجہ پہلو ہے مگر پاکستان کو اس سال اپریل سے معطل 6ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی بحالی کیلئے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ جن کے بعد اسے باقی ماندہ قرضے کے ڈالر مل سکیں گے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے مہنگائی کے حوالے سے جو بریفنگ دی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث مہنگائی اور افراط زر کی نئی لہر آسکتی ہے اس لئے حکومت کی کوشش ہے کہ ایسے اقدامات بروئے کار لائے جائیں جن سے معیشت کچھ عرصے کے لئے سست رو ہو جائے۔ دوسری جانب وزارت خزانہ و محصولات کے ترجمان مزمل اسلم کا خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ تین برسوں کے دوران اختیار کی گئی دوررس پالیسیوں کی بدولت ملک کو اقتصادی طورپر اپنے پائوں پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہ یقیناً خوش آئند بات ہے مگر اس حقیقت کو بہرطور ملحوظ رکھنا ہوگا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے جہاں برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے وہاں بعض درآمدات کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں جس کے لئے ڈالروں کی شدید ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی معاونت کی ہے مگر وجوہ کچھ بھی ہوں موجودہ حکومت کے لئے ڈالروں کی کمی ایک بڑا مسئلہ رہی اور اب بھی ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ رکھی جانی چاہئے کہ بین الاقوامی ادارے قرضہ دیتے وقت اس کی واپسی یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حکومت کو اس مشکل کیفیت کے درمیان رہتے ہوئے ہی ملکی صنعت و برآمدات بڑھانے کی تدابیر کرنا ہوں گی۔ اس قسم کی صورتحال میں تجارت کیلئے مقامی کرنسی میں ادائیگی یا مال کے بدلے مال کے سمجھوتوں اور زرمبادلہ کے حصول کیلئے سیاحت کے فروغ سمیت کئی جہتوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں