16

ان نعمتوں کی قدر کریں – سید قاسم علی شاہ

رزق کا لفظ جب بھی سننے یا بولنے میں آتا ہے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ کھانے پینے اور مال د ولت کا نام ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ رزق صرف پیسے یا کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کوجتنی بھی نعمتوں سے نوازا ہے، وہ سب رزق کے زمرے میں آتی ہیں۔ مثال کے طورپرصحت، ایمان، عزت، رشتے ـ، علم وہنر، اختیار اور کسی کی نیک تمنائیں و دعائیں، یہ سب رزق کی اقسام ہیں اوریہ تقریباً تمام انسانوں کو یہ نعمتیں میسر ہیں۔

ہر انسان پر اللہ کی نعمتوں کا سلسلہ لا محدود ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے اور رب وہی ہوتاہے جس کے خزانوں میں نعمتوں کی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ رب العالمین کی تعریف ہی یہ ہے کہ جس انسان کو جس طرح کارزق چاہیے وہ اس کو فراہم کرتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچے کو خون کی صورت میں ہر طرح کی خوراک دیتا ہے اور جب بچہ تیار ہوکر دنیا میں آتا ہے تو اس کے جسمانی تقاضوں کے مطابق رزق دیتا ہے۔جبکہ انسانی سوچ کے مطابق رزق صرف پیسے کانام ہے او ر اسی بنیاد پرلوگوں کے پاس جب کچھ مال و دولت آجاتی ہے تو وہ گھر کے باہر ہٰذا من فضل ربی لکھوالیتے ہیں، حالانکہ اگر غور کیا جائے تو فضل اس انسان پر بھی ہے جس کے پاس اگر چہ مال و دولت نہیں ہے، مگر صحت، تندرستی اورایمان کی صورت میں ایک بیش قیمت دولت موجود ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کواگر گاڑی کا ٹکٹ نہ ملے تو وہ خو د کو بدقسمت سمجھتا ہے لیکن اس گاڑی حادثہ ہوجاتا ہے تو وہ جو کچھ دیر پہلے ٹکٹ نہ ملنے پر شکوہ کررہا تھا، اپنی سلامتی پر شکر ادا کررہا ہوتاہے، یعنی انسان اپنی عقل و علم اور فہم کے مطابق اپنے لیے مکمل درست فیصلہ نہیں کرسکتا۔یہ صرف رب کو پتہ ہے اور وہی اپنے بندوں کے لیے خیر کا فیصلہ کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
’’ممکن ہے تم جس چیز کو ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور جس کو تم پسند کرتے ہو وہ تمہارے لیے بہتر نہ ہو۔‘‘ (سورۃ البقرۃـ:216)

صحت:‘‘
اگر زندگی سے صحت کی نعمت نکال دی جائے، اس کے بعد انسان کھرب پتی بھی ہو تو ا س کی زندگی کیا زندگی ہوگی۔پیسے کی ریل پیل ہو مگر ساتھ میں کینسر بھی ہو، تو ایسے مال ودولت کا کیا فائدہ؟

عزت:‘‘

رزق کی جو تفصیل ہم نے ابتدا میں بیان کی یہ سب اقسام مختلف طرح کی چیزوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اگر انسان کے پاس عزت ہو تو پیسہ ویسے ہی اس کے پاس آجاتاہے۔لیکن یہی عزت اگر اس کی زندگی سے نکال دی جائے تو باوجود اختیار، عہدہ، مال ودولت، دوست احباب اور تعلقات کے سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔

اولاد:‘‘

اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔جو انسان اس نعمت سے محروم ہے، وہ اس کو پانے کے لیے ہر قیمت دینے کو تیار ہے۔ جس کے پا س ہے اس کو اس قدر محبوب ہے کہ اگروہ خودشاید مرنے کو تیار ہوجائے مگر اولاد کو مرنے نہیں دیتا۔

رشتے:‘‘

جو انسان کے خوشی اور غمی میں ساتھ ہوتے ہیں۔ اگر انسان پر کوئی مصیبت آجائے اورکندھے پر ہاتھ رکھنے والا کوئی نہ ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس دکھ سے خود مرجائے۔

علم وہنر:‘‘

ہم میں سے ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر موجود ہے۔اس ہنر کو اللہ کتنی ساری چیزوں میں بدل دیتا ہے جس کی بدولت ہمیں رزق ملتا ہے، جان پہچان ملتی ہے، نئے مواقع ملتے ہیں، عزت ملتی ہے اور سب سے اہم چیز پیسے ملتے ہیں، جن سے ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ اگر یہ ایک نعمت اللہ ہم سے واپس لے لے تو سوچ لیں اس کے بعد ہماری زندگی کیسے ہوگی؟

اختیار:‘‘

ہم اپنی مرضی سے اپنے ہاتھ پائوں کا استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس اختیار ہے۔جن لوگوں کے ہاتھ پائوں نہیں ہیںیاموجود تو ہیں مگر مفلوج ہیں توسوچیں کہ وہ کس قدر بے بس اوردوسروں کے محتاج ہیں۔ اختیار اگر ایک انگلی ہلانے کا بھی ہے تو یہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔

انرجی:‘‘

رزق کی ایک اور تعریف بھی ہے جس کو انرجی(توانائی) کہا جاتاہے۔انرجی ہی اصل میں رزق ہے جس کی بدولت انسان ہنر اور صلاحیت حاصل کرتاہے اور اس ہنر سے وہ شہرت، دولت، عزت اور لامحدود نعمتیں حاصل کرتاہے۔

اللہ کے نظام میں رزق کو محدود سوچنے والا خسارے میں ہے، کیونکہ رزق محدود ہو ہی نہیں سکتا۔ اگرلوگوں کا یہ تاثر ہے کہ آپ ایک شریف النفس انسان ہیں تو یہ آ پ کے لیے بہت بڑا رزق ہے کہ اسی نیک نامی کے بدلے میں آپ معاشرے میں خوش حال زندگی بسرکرتے ہیں۔ انسان جب رزق کو اتنے سارے حوالوں سے سوچتا ہے تو پھرشکر کے احساس سے بھر جاتاہے اور اس کے ساتھ اس کی امید بھی بڑھ جاتی ہے۔انسان کی زندگی کا کچھ بھی سیکھا ہوا ضائع نہیں جاتا۔وہ اپنے مقررہ وقت پر کسی نہ کسی شکل میں منتقل ہوکر اس کو فائدہ ضرور دیتاہے۔محدود سوچ کا مالک انسان ہر چیز کو پیسوں کے ترازو میں تولتا ہے اور کہتا ہے ’’یہ چیز پیسے میں منتقل نہیں ہوئی۔‘‘ حالانکہ ہر چیز پیسے میں منتقل نہیں ہوتی بلکہ وہ عزت، خوشحالی، صحت اور اچھے دوستوں کی صورت میں بھی آسکتی ہے۔

آپ کا ہنر رزق میں منتقل ہوتا ہے، محترم اشفاق احمد اور بانو آپا کی زندگی سے اس کی بہترین مثال ملتی ہے جب ان کوگھر یلو اشیاء کی ضرورت ہوتی وہ کوئی اچھی تحریر لکھ لیتے، اس کے بدلے میں پیسے ملتے اور گھرکے لیے فرنیچر اور صوفے بھی آجاتے۔انسان کا ہنر ہی اس کے لیے عزت، پیسہ اور روٹی کا سبب بنتاہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنے پیشے میں عزت دار رہنا چاہیے۔ آپ جس بھی پیشے سے منسلک ہیں، آپ اس میں اس قدر بااعتماد ہوں کہ لوگ آپ کے بارے میں یہ رائے دیں کہ ’’یہ بندہ کسی کا نقصان نہیں کرسکتا، یہ وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتاہے۔ اس نے اس پیشے میں آکر اس کو مضبوط کیا ہے۔یہ موقع آنے پراپنا نقصان کروالیتا ہے مگر دوسرے کا نہیں ہونے دیتااور یہ ہمیشہ دوسروں کو فائدہ دیتا ہے۔‘‘

اس پیشے کے کسی مستردشخص نے بھی اگر آپ کے بارے میں یہ کہہ دیا تو یہ آپ کے سند کے لیے کافی ہے، کیونکہ بے ضرر سے لے کر منفعت بخش تک کے سفر کا نام درویشی ہے۔

جب آپ کے بارے میں یہ رائے بن گئی تو سمجھ لیں کہ آپ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ اخلاقیات کی انتہاء بھی یہ ہے کہ انسان عزت دار ہو اور وہ دوسروں کے لیے بہترین چیز کا انتخاب کرے۔ ایک بات یاد رکھیں کہ جس انسان پر زوال آتاہے تو سب سے پہلے اس کی یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔ آپ کبھی زوال پذیر لوگوں، خاندانوں اور کمپنیوں پر تحقیق کریںتو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے زوال کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی تھی کہ ان کی اچھائی اور برائی کے درمیان پہچان ختم ہوگئی تھی۔انسان جب ایمان کی دولت سے نوازا جاتاہے تو دراصل یہ وہ ’’تمیزاور پہچان ‘‘ ہوتی ہے جس کی بدولت مومن ایمان و کفر میں فرق کرکے گمراہی سے بچتاہے۔شراب پینے سے اسی لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ قوتِ فیصلہ کو ختم کردیتا ہے اورپھر انسان اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا۔

اگر ہم سفید کاغذ پر ایک سیاہ دھبہ لگالیں اور پھر اس کی سو عدد فوٹو کاپیا ں نکلوائیں تودھبے کا نشان آخری کاپی تک لگا رہے گا۔ اسی طرح انسان کوئی بھی فعل کرتاہے تووہ اس کے قوتِ فیصلے کو متاثر کرتا ہے۔ جس کے بعد وہ درست چیزوں کو منتخب نہیں کرسکتا اور یوں ایک غلط فعل کی نحوست اس کے تمام اعمال پر پڑجاتی ہے۔ اسلام میں گناہ سے اسی لیے منع کیا گیا ہے کہ گناہ کے بعد اس کی نحوست کاجوبوجھ اٹھانا پڑتا ہے وہ اس کو نہ اٹھانا پڑے۔ توبہ کی ترغیب کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کا بوجھ ختم ہو اور وہ کوئی بھی پچھتاوا محسوس نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ تو یہاں تک ارشاد فرماتا ہے کہ اگر سچی توبہ کرلو تو ایسے ہوجائو گے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے نکلے ہو۔

رزق بڑھانے کے کئی سارے نسخے ہیں مگر اہم ترین نسخہ یہ ہے کہ انسان اپنی قابلیت اور ساکھ کو ہمیشہ برقرار رکھے۔ قابلیت کی بات آجائے تو لوگوں کی رائے ہو کہ یہ بندہ اپنی فیلڈ میں سب سے زیادہ قابل یا قابل ترین افراد کی لسٹ میں ہے۔ ساکھ کی بات آئے تو تمام لوگ کہیں کہ ’’کچھ بھی ہوجائے یہ بندہ اپنی ساکھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔‘‘ہم میں سے بیشتر لوگ اس وجہ سے اپنا رزق محدود کرلیتے ہیں کہ وہ اپنی ساکھ اور عزت خراب کرلیتے ہیں، ان کا اعتبار ختم ہوتاہے اورجب اعتبار ختم ہوجاتا ہے تو لوگ بھی دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

جب بھی آپ کی زندگی میںعزت، ہنر، صحت، اولاد اور اختیار بڑھے گا تو پھر اس کے پیچھے پیسہ خود بخود آئے گا۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم لوگ براہ راست پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں حالانکہ بھاگنا ان چیزوں کے پیچھے چاہیے تھا جو اصلی رزق ہیں۔پیسہ مکمل رزق نہیں ہے، انسان اگر اس کی پرواہ ختم کرلے تو اس کے بہت سارے مسائل ختم ہوجاتے ہیں۔ پیسے کابالکل نہ ہونا انسان کو فقیربنادیتا ہے اوربہت زیادہ ہونا دل میں مزید ہوس پیدا کردیتا ہے، جس سے انسان اللہ سے غافل ہوجاتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ زندگی میں پیسہ کتنا ہونا چاہیے ؟ اس کے کئی سارے جوابات ہیں:

(۱) آپ کے پاس زندگی میں پیسہ اتنے مقدار میں ہو کہ مزیدپیسے کی تمنا نہ رہے یعنی جو ہے، جتنا ہے اس پر راضی رہا جائے۔
(۲) آپ کے پاس اتنی کشادگی ہو کہ دوسرے کو دیتے ہوئے تنگی محسوس نہ ہو۔اگر کسی کو دیتے ہوئے آپ کا دل تنگ ہورہاہو تو سمجھ لینا کہ ابھی بھی پیسے کی ہوس موجود ہے۔
(۳)اتنا مال ہو کہ آپ کے لیے چھوڑ کر جانا آسان ہو۔انسان مررہا ہو اور اس کو یہ سوچ بھی ہلکان کررہا ہو کہ جس دولت کو میں نے ایک ایک پائی جوڑ کر جمع کیا ہے اور ابھی انجوائے بھی نہیں کیا، اس کو ساتھ لے کرکیسے جائوں تو یقین جانیں اس کے مرنے کی تکلیف مزید شدت اختیار کرجائے گی۔اگر مرض الموت میں انسان کو ایسے خیالات آئیں توسوچیں کہ یہ دولت کس قدر خطرناک چیز ہے جس نے اس حالت میں بھی انسان کوانتہائی حسرت والے احساسات دیے۔اسی غم وفکر میں کئی سارے کروڑ پتی لوگ کلمہ تک نہ پڑھ سکے۔

اگر کسی کمرے میں بیٹھے ہوئے کئی سارے لوگوں کو اچانک وہاں سے نکلنا پڑے تو ان میں سے وہی آسانی کے ساتھ نکل سکے گا جو بالکل خالی ہاتھ ہو جبکہ جس نے اپنے ساتھ میز، کرسی اور بیگ لے کرجانا ہو تو اس کے لیے نکلنا مشکل ہوگا۔دنیا کو مومن کے لیے قیدخانہ اسی لیے قرار دیا گیا ہے کہ یہاں سے نکلنا آسان ہو۔انسان کے لیے سب سے بڑ ا عذاب یہ ہے کہ اس کے دل میںدنیا میں ہمیشہ رہ جانے کی تمنا پیدا ہوجائے۔

آپ کے پاس پندرہ ارب روپے ہے، پندرہ لاکھ یا پندرہ ہزار، بس ایک چیز نہیں ہونی چاہیے جس کو لالچ کہاجاتاہے۔کیونکہ لالچ جب بھی آتی ہے تو انسان ظلم کرتا ہے۔ وہ اپنی دولت کو ضرب دینا چاہتا ہے اور ممکن ہے کہ اس اندھے پن میں وہ دوسرے انسان کا گلہ ہی کاٹ دے۔شراب کے نشے میں انسان اپنے بھائی کا گریبان پکڑلیتا ہے مگر لالچ کے نشے میں وہ اس کو قتل بھی کرسکتا ہے۔آپ تاریخ اٹھاکر دیکھیں کتنے بادشاہ اور راجے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے لالچ میں آکر اپنے ہی بھائی اور والد کو قتل کرڈالا، لہٰذاانسان کو لالچ سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔

نیک تمنائیں و دعائیں:‘‘

کسی دوسرے انسان کا آپ کے لیے دعا کرنا، رزق کی اقسام میں بہترین قسم ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو انسان کی تمام مشکل راہیںکھول دیتا ہے۔ دُور کے سفر پر جانے کے لیے کسی سے دعا ضرور لیجیے گا، کیا پتہ آپ کے سفر کے دشوار گزار اور کٹھن مراحل، کسی کی دعائوں کے طفیل آسان ہوجائیں اور۔۔ ۔ آپ خیر و عافیت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں