mazhar-barlas 31

انہیں کام کرنے دو. مظہربرلاس

آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھانے والے عظیم پاکستانی پروفیسر عدیل ملک نے اپنے وطن اور ہم وطنوں کے لئے ’’آکسفورڈ پاکستان پروگرام‘‘ شروع کیا ہے۔پچھلے کالم میں اس کا تذکرہ کیا تو دنیا بھر سے پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ جو لوگ اپنی دھرتی کے لئے کام کرتے ہیں ان کا نہ صرف ذکر ہونا چاہئے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہئے۔ ایک سال پہلے المصطفیٰ آئی اسپتال کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ یہ اسپتال لوگوں کی بھرپور خدمت کر رہا ہے۔ المصطفیٰ ٹرسٹ کے سربراہ عبدالرزاق ساجدسارا سال سرگرم رہتے ہیں اور ان کے ہاں خدمت کا یہ جذبہ بھی سارا سال زندہ رہتا ہے۔ اسی طرح مسلم ہینڈز کے سربراہ پیرسیدلخت حسنین دنیا بھر کے مسلمان ملکوں میں متحرک نظر آتے ہیں، یہ کام پاکستان میں ان کے بھائی سید ضیاء النور انجام دیتے ہیں۔ ویسے تو انہوں نے پوری دنیا میں ادارے قائم کر رکھے ہیں مگر اپنے آبائی قصبے سوہدرہ میںبہت شاندار تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ یہ کام خالصتاً خدمت کے جذبے سے کیاگیا ہے۔ لاہور میں بزرگ شہریوں کے لئے کومل سلیم نے شاندار ادارہ بنایا ہے۔ الخدمت کی خدمت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کی خدمات کو یاد کئے بغیر خدمت کے سفر کی کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ چھیپا کی خدمات بھی شاندار ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کی سابق رکن فرخ عظیم شاہ کی تنظیم ’’ایمان پاکستان‘‘ پورے صوبہ بلوچستان میں فلاحی تعلیمی ادارے قائم کر رہی ہے۔ ان تعلیمی اداروں میں عالمی مستند اصولوں کےتحت ابتدائی تعلیم مادری زبانوں میں دی جائے گی۔ اس مقصد کے لئے انہیں ایک اور رکن اسمبلی ثمینہ سعید کا ساتھ بھی حاصل ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے استاد پروفیسر ڈاکٹر عبدالرشید بین الاقوامی روحانی کونسل کے سربراہ ہیں، وہ دنیا بھر میں انسانوں کی اصلاح کے لئے نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر روحوں کو تازہ بھی کر رہے ہیں۔ اسی طرح تھیلیسمیا میں مبتلا بچوں کے لئے کام کرنے والے ادارے ’’سندس فائونڈیشن‘‘کے سربراہ محمد یٰسین خان ہر وقت خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ زمرد خان نے یتیم بچوں کے لئے ’’ہوم سویٹ ہوم‘‘ بنا رکھا ہے۔ پیر ضیاء الحق نقشبندی نے غریب، نادار اور مستحق طلبا کی رہنمائی کے لئے خوبصورت ادارہ قائم کیا ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی خدمات سے کون واقف نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں بطور رکن طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے علامہ افتخار حسین نقوی دور دراز علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا بندوبست کر رہے ہیں جب انہوں نے پہلے پہل اس کا م کا آغا زکیا تو راجن پور میں لوگ سفید پانی دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے تھے۔

یہ تمام باتیں مجھے اس لئے یاد آرہی ہیں کہ حال ہی میں افضل چودھری کو پنجاب کی انسانی حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت نے خصوصی مشیر مقر رکیاہے۔ وہ دنیا کو آگاہ کریں گے کہ ہمارے ملک میں انسانی حقوق کا کس قدر پاس کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں کس قدر بین المذاہب ہم آہنگی موجود ہے۔ افضل چودھری بنیادی طور پر دانشور اور لکھاری ہیں، طویل عرصے سے مغربی دنیا میں بین المذاہب ہم آہنگی پر کام کر رہے ہیں۔ افضل چودھری اگرچہکئی کتابوں کے مصنف ہیں مگر ان کی مذہبی ہم آہنگی اور انسانیت پر لکھی جانے والی دو کتابیں ’’تلاش‘‘ اور ’’میں اور تم‘‘ خاصی شہرت کی حامل ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے علاوہ یونیسکو اور او آئی سی جیسے پلیٹ فارموں پر امن کے مسافر کی حیثیت سے درس دینے والے افضل چودھری برطانوی پارلیمنٹ میں بھی امن کےسفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا ادارہ سرچ پیس فائونڈیشن انسانیت، امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے سیمینارز اور تقاریب کروانے کے حوالے سے مشہور ہے۔

کام کوئی بھی کرسکتا ہے، میں عمران خان کے سیاسی کردار پر بات نہیں کر رہا مگر سماجی حوالوں سے یہ بات تو قابل تعریف ہے کہ عمران خان نے پاکستان جیسے ملک میں کینسر اسپتال بنایا۔ اسپتال کے ساتھ ساتھ انہوں نے میانوالی میں شاندار تعلیمی ادارہ بھی قائم کیا۔ جہاں مستحق طلبا وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کا وہ بھی تصور نہیں کرسکتےتھے۔

حکومتوں میں شامل بعض وزراء بہت کام کرتے ہیں اور بعض صرف مصروف نظر آتے ہیں۔ مذہبی امور کے وفاقی وزیر نور الحق قادری نے گزشتہ تین سالوں میں شاندار کام کیا ہے۔ انہوں نے جہاں حج، عمرہ اور زیارات پر جانے والوں کے لئے شاندار کام کیا، کربلا معلی میں پاکستان ہائوس قائم کیا، سفری آسانیاں پیدا کیں، اقلیتوں کے مقدس مقامات پر سہولیات کے لئے بھی بھرپور کام کیا۔ مسیحیوں، ہندوئوں کے تہواروں پر خدمات انجام دیں، سکھوں کے لئے بند دروازے کھول دیئے۔ اسی طرح بدھ ازم کے مقدس مقامات پر بھی سہولیات کو یقینی بنایا۔

اطلاعات کے وفاقی وزیر فواد چودھری اپنی وزارت میں جدت کی غرض سے کچھ منصوبے شروع کرنے والے ہیں مگروہ اصل خدمت جہلم کے لوگوں کی کر رہے ہیں۔ مصروفیات کے باعث انہوں نے ایسا اہتمام کر رکھا ہے کہ ان کے برادر عزیز فراز چودھری ہر وقت لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ جہلم میں انڈسٹری، سڑکیں اور ادارے بن رہے ہیں، اسلام آباد کے لئے علی اعوان بہترین کام کر رہے ہیں۔

اگر یہاں پنجاب کے انسانی حقوق اور اقلیتی امور کے وزیر اعجاز عالم آگسٹن کی بات نہ کی گئی تو بات ادھوری رہ جائے گی۔ انہوں نے کوشش کرکے ایچ ای سی سے پہلی مرتبہ تعلیمی اداروں میں اقلیتوں کے لئے دو فیصد کوٹہ مختص کروایا ہے۔ یوحنا آباد کو ماڈل ٹائون بنوا رہے ہیں۔

قارئین کرام! جو بھی اس وطن کے لئے کام کرے گا وہ لوگوں کی نظروں میں محترم ہو جائے گا۔ جو لوگ وطن کے لئے کام کر رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کیجئے، انہیں کام کرنے دیں کہ بقول پروفیسر سعید اکرم:

نگاہِ ناز، نگاہِ نیاز بن جائے

خیال و خواب کا کچھ تو جواز بن جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں