43

انڈین فوجی اہلکاروں کی خودکشیاں

یہ کس طرح ممکن ہے کہ اسلامیان جموں و کشمیر پرمظالم کے پہاڑ ٹوڑنے والی قابض بھارتی فوج مکافات عمل کا شکار نہ ہو۔ 14 اکتوبر 2021ء جمعرات کو 43 سالہ خاتون لیفٹیننٹ کرنل نے ملٹری انٹیلی جنس ٹریننگ سکول میں خودکشی کرلی۔ خاتون لیفٹیننٹ کرنل کی لاش ٹریننگ سکول کے کمرے سے برآمد ہوئی ۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے25 سالہ خاتون فوجی آفیسر ششمیتا چکرورتی نے مقبوضہ کشمیرکے ادھم پور فوجی ہیڈکواٹر میں خودکشی کی تھی جو اس بات کا ذکر اپنے ساتھیوں سے کرچکی تھی کہ وہ اس نوکری کو عذاب تصور کرتی ہے، لیکن اس جال سے نکلنا اس کے بس میں نہیں ہے۔ مقبوضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی خوکشیوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ لگاتار جاری ہے اور7 اکتوبر2021ء جمعرات کو ایک اور اہلکار نے ذہنی تناؤ کے باعث اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا، قابض فوج کے اہلکار نے ضلع جموں میں آرمی کیمپ کے اندر خود کو پھندا لگاکر خودکشی کی۔ 16اکتوبر2021ء ہفتے کو ضلع کپواڑہ میں قابض بھارتی فوج کے ایک اوراہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کرلیا ۔ اس سے ایک روز قبل کپوارڑہ ضلع میں ایک فوجی اہلکار نے خود کو سرکاری رائفل سے گولیاں مار کر خودکشی کرلی تھی اس طرح ایک ہفتے کے دوران خود کشی کرنے والے بھارتی فوجی اہلکاروں کی تعداد 4 ہوگئی۔واضح رہے کہ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر تین دن میں ایک فوجی خود کشی جیسے انتہائی قدم اٹھا رہا ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران گیارہ سو سے زائد جوانوں نے خود اپنی جان لے لی لیکن اس ہفتے خودکشی کرنے والے قابض بھارتی اہلکاروں کی تعدادمیں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں خودکشی کرنے والے قابض بھارتی فوجی اہلکاروں کی شرح سب سے زیادہ ہے اور ذہنی امراض اوراعصابی تناؤ کے شکار اب تک سیکڑوں فوجی اہلکار خودکشی کرچکے ہیں۔شدید ذہنی دبا ئوکے شکار بھارتی فوجی اہلکار اپنے ہی پیٹی بندساتھیوں کو قتل یا زخمی کردیتے ہیں یا پھر خودکشی کرلیتے ہیں، بھارتی فوج میں افسر اور جوانوں کے درمیان جھگڑوں اور لڑائیوں کے واقعات بھی روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ہر سال خودکشی کرنیوالے بھارتی فوجیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے حالانکہ فوجی قیادت ان خودکشیوں کو روکنے اور فوجیوں کو ذہنی دبا ئوسے نکالنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔لیکن مرض بڑھتاگیاجوں جوں دواکی کے مصداق بزدل بھارتی فوجی اہلکارکی خود کشیوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ بھارت کی ملٹری انٹیلی جنس کی ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق کشمیر اوربھارت کی شمالی مشرقی ریاستوں میں تعینات بھارتی فوجیوں کی خودکشی کارحجان بڑھ رہا ہے۔کشمیر ی مجاہدین اور بھارت کی شمالی ریاستوں میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ مقابلہ آرائی کی باعث بھارتی فوج کا مورال گرچکا ہے۔ صورتحال سے تنگ آکر ہفتے میں کم از کم ایک فوجی اہلکار خودکشی رہا ہے۔ بھارت کی ملٹری انٹیلی جنس نے بھارتی فوج کی قیادت کو فوجیوں میں خودکشی کا رجحان رکوانے کیلئے اقدامات اٹھانے کوکہاہے۔لیکن کئی اقدام اٹھانے کے باوجود اس سنگین معاملے میں بھارتی فوج کی قیادت کو مسلسل ناکامی کامنہ دیکھنا پڑرہا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق خودکشی کرنے والے 80 فیصد اہلکاروں کا تعلق زمینی فوج سے ہے جب کہ دیگر20 فیصدکاتعلق بھارت کی بحری فوج ہے۔ بھارت کی ملٹری انٹیلی جنس کی خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خودکشی کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد ان اہلکاروں کی ہوتی ہے جو عرصہ دراز سے مقبوضہ کشمیر میں تعینات تھے جنہوں نے ذہنی تنا ئوکے باعث زندگی سے تنگ آکر موت کو گلے لگا لینابہتر سمجھا۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوںکے خود کشی واقعات سے یہ امرواشگاف ہے کہ بھارتی فوجی اہلکاروںکوکشمیر اوربھارت کی شمالی مشرقی ریاستوں میںہروقت موت کے خوف اوراچانک حملوں کے ڈر کا سامنا رہتا ہے ۔ بھارت کے کثیر الاشاعت انگلش اخبار ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہر سال سینکڑوں فوجی اہلکار جنگ کے بغیر ہی مارے جاتے ہیں اور کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دستوں کے حوصلے پست ہوتے جارہے ہیں ، بھارتی اخبار میں بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں کی وجوہات بیان کی ہیں جن میں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ہلاکتیں، ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے اس کے علاوہ ، گھراوراپنے بال بچوں سے دوری ، فوجی افسروں کا جوانوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اورچھٹیوں کی درخواستوں کا مسترد کیاجانا بھی بھارتی فوجیوں کی حوصلہ شکنی کے اسباب ہیں۔ انھیں بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا بھی ہے اور ان کی قیادت بھی ایسی ہے کہ افسران جب جوانوں کو گالیاں بکتے ہیں تو ان کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے۔ انکے پاس ایسے افسر پر جھپٹ پڑنے یا پھر خود کشی کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ بھارتی میڈیا میں بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں پررپوٹس جاری ہوتی رہی ہیں ایسی ہی ایک رپورٹ میں بتایاگیاکہ بھارتی فوج بارڈر سیکیورٹی فورسز ’’BSF‘‘کے ایک کمانڈنٹ کے کے شرما نے 2016ء میں یہ اعتراف کیا تھا کہ فوجیوں کی خود کشیوں کے کئی عوامل سامنے آرہے ہیںجن میں سے سب سے اہم سبب فوجیوں کے ذہنی مسائل ہیں ۔ اس کاکہنا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوجی ذہنی مریض بن رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں، خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعدادسالانہ سیکڑوںتک پہنچ چکی ہے ۔خودکشی کرنے والوں میںخواتین اہلکار بھی شامل ہیںجنہیں افسروں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا سامناہے ۔بھارتی فوجیوں کو اپنے علاقوں سے بہت دور علاقوں میں تعینات کیا جاتاہے، ان کے خاندان بدترین مسائل سے دو چار ہوتے ہیں، اکثریت جائیدادوں کے جھگڑوںمیں الجھی ہوتی ہے، بعض فوجیوں کے خاندانوں کو جرائم پیشہ گروہوں کے ظلم واستحصال کا سامنا بھی ہے۔ بھارتی وزارت دفاع کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں بھارتی فوج میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد سیکڑوںہوچکی ہے۔ یہ رپورٹ راجیہ سبھا میں پیش کی گئی جس میں وزارت دفاع نے اعتراف کیا کہ حکومت فوجیوں کو بہتر ماحول دینے کے لئے مختلف اقدامات کرچکی ہے تاکہ وہ اپنے فرائض بغیر کسی ذہنی دبائو کے سرانجام دیں۔ان کی رہائشی اور کام کرنے کا ماحول بہتر بنایا، اچھا انفراسٹرکچر دیا، سہولیات کو مزید بہتر کیا، انھیں فیملی اکاموڈیشن بھی فراہم کی، چھٹیاں بھی زیادہ سہولت سے دیں، ان کی نفسیاتی کونسلنگ کی گئی، بٹالین اور یونٹ کے معمولات میں یوگا بھی شامل کرائے گئے تاہم آج تک یہ ساری کوششیں بے کار اوراکارت ثابت ہوئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں