58

انڈین اور پاکستانی وزرائے خارجہ کا تقابلی جائزہ: ایس جے شنکر کے سامنے بلاول بھٹو کہاں کھڑے ہیں؟

سنہ 2004 میں جب منموہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس کی حکومت بنی تو راہل گاندھی کی عمر 34 سال تھی۔ تب سونیا گاندھی یو پی اے اتحاد اور کانگریس کی چیئرپرسن تھیں۔
راہل گاندھی چاہتے تو کوئی بھی وزارت لے سکتے تھے۔ منموہن سنگھ نے راہل سے بھی حکومت میں شامل ہونے کو کہا تھا۔
منموہن سنگھ 2004 سے مئی 2014 تک انڈیا کے وزیر اعظم رہے لیکن راہل گاندھی حکومت میں شامل نہیں ہوئے۔ تاہم وہ لوک سبھا کے رکن رہے۔ اب راہل گاندھی کی عمر 51 سال ہے اور کانگریس کے مرکز میں اقتدار میں واپسی کی کوئی امید نہیں ہے۔
پاکستان کے بھٹو خاندان کا موازنہ انڈیا کے نہرو گاندھی خاندان سے کیا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر راہل گاندھی اور بلاول بھٹو کا موازنہ کیا جارہا ہے۔
بلاول کی والدہ بے نظیر بھٹو کو ایک ریلی میں قتل کیا گیا اور راہل گاندھی کے والد راجیو گاندھی بھی خودکش بمبار کا نشانہ بنے۔
بلاول نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے جبکہ راہل گاندھی نے امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔
راہل نے اس ماہ 9 اپریل کو ایک کتاب کی رونمائی تقریب میں کہا تھا کہ وہ صاحب اقتدار خاندان میں پیدا ہوئے ہیں لیکن انہیں اقتدار میں بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے۔
2019 میں جب کانگریس کو عام انتخابات میں شکست ہوئی تو انھوں نے پارٹی کے صدر کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ راہل گاندھی کو اکثر تذبذب کا شکار سیاست دان کہا جاتا ہے۔
لیکن بلاول کو 19 سال میں پارٹی کا جانشین بنایا گیا اور بدھ کو 33 سال کی عمر میں وزیر خارجہ بھی بن گئے۔ انڈیا اور پاکستان کی سیاست میں سیاسی خاندانوں کا غلبہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
27 دسمبر 2007 کو بلاول بھٹو کو ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کی وفات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا جانشین قرار دیا گیا۔
اس وقت بلاول کی عمر صرف 19 سال تھی اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرائسٹ کالج سے تاریخ میں گریجویشن کر رہے تھے۔ اب جب بلاول کی عمر 33 سال ہے تو انہیں پاکستان کا وزیر خارجہ بنا دیا گیا ہے۔
2009 میں بلاول کو امریکہ پاکستان افغانستان سربراہی اجلاس میں پاکستانی وفد کا حصہ بنایا گیا۔ اس وقت بلاول کی عمر 21 سال تھی اور ان کے والد آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بین الاقوامی وفد کے علاوہ بلاول کو سفارتی معاملات کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ جب پاکستان بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے تو وزارت خارجہ کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے حوالے کر دی گئی ہے جس کا کوئی تجربہ نہیں۔
دوسری طرف انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ ایس جے شنکر کو سفارت کاری کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ چین، امریکہ اور روس جیسے بڑے ممالک میں انڈیا کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا خاندانی پس منظر بھی سفارت کاری سے وابستہ ہے۔ جے شنکر کے والد کے سبرامنیم کو انڈین سفارتکاری کا گرو کہا جاتا ہے۔
بلاول بھٹو کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی ماہر معاشیات قیصر بنگالی کہتے ہیں، ’بلاول عمر اور تجربے میں کمتر ہو سکتے ہیں لیکن ان کے پاس بصیرت ہے۔ وہ بہت باصلاحیت اور مہذب ہے۔ کوئی وزارت کسی ایک شخص کے ذریعے نہیں چلائی جاتی۔ اس کے پاس ایک ٹیم ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اس ٹیم میں کس کو رکھتے ہیں۔‘
قیصر بنگالی کہتے ہیں،’’دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہیں، جہاں نوجوانوں کی کمان ہے۔ ہم نوجوان ٹیلنٹ پر شک نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں بلاول اچھا کام کریں گے۔ جہاں تک انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا تعلق ہے، وہ ایک باصلاحیت شخصیت ہیں۔ میں ان کی باتیں سنتا رہتا ہوں۔ میں نے انہیں پاکستان میں بھی سنا ہے۔ اس کے پاس بہت علم ہے۔ وہ بین الاقوامی سیاست کی گہری سمجھ رکھتے ہیں۔‘
بلاول کی بطور وزیر خارجہ تقرری پر پاکستان کے انگریزی اخبار دی ڈان نے لکھا ہے کہ ’نوجوان بلاول کا موازنہ ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو سے کیا جا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1963 سے 66 تک پاکستان کے وزیر خارجہ بھی رہے۔ لیکن کیا نوجوان بلاول پاکستان کو وہ مقام دے سکیں گے جس کی اسے بین الاقوامی سیاست میں اشد ضرورت ہے؟‘
بعد میں ذوالفقار علی بھٹو 1971 سے 1977 تک پاکستان کے وزیر خارجہ رہے۔
ڈان نے لکھا، ’بلاول کی پرورش پاکستان کے ایک اہم سیاسی گھر میں ہوئی ہے اور یہ ان کے لیے کارآمد ثابت ہوگا۔ لیکن سفارت کاری میں تجربے کی کمی بھی تشویشناک ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ بلاول کے لیے موقع ہے کہ وہ اس عہدے کا فائدہ اٹھا کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام روشن کریں۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا، ’یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ بلاول ہر فیصلہ اپنے والد سے پوچھ کر کرتے ہیں۔ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ وہ اپنے والد سے کھل کر اختلاف کرتے ہیں۔ پارٹی میں اگر کوئی فیصلہ ہوتا ہے تو وہ رضامندی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بلاول کی صلاحیتوں سے آپ متاثر ہوں گے۔‘
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا خاندانی پس منظر ڈپلومیسی اور سکالر ہے۔ جے شنکر کے والد کے سبرامنیم کی انڈیا کی تمام سیاسی جماعتوں میں شہرت ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بلاول کے والد کی شناخت بہت متنازع ہے۔ شہباز شریف، جن کے دور میں بلاول بھٹو وزیر خارجہ بنے، انھوں نے بلاول کے والد آصف زرداری کو بھی کرپٹ لیڈر کہا۔
پاکستان میں کرپشن کیس میں آصف علی زرداری کو مسٹر 10 پرسنٹ کہا جاتا تھا۔ آصف زرداری بھی جیل میں رہے۔
دوسری طرف، سبرامنیم کو انڈیا کی سفارت کاری کا بھیشم پیتمہ کہا جاتا ہے۔ کئی حکومتوں نے اسے عزت دینے کی کوشش کی لیکن اس نے عزت کو ٹھکرا دیا۔
جے شنکر انگریزی، روسی، چینی کے ساتھ ساتھ ہندی اور تامل بولنا بھی جانتے ہیں۔ ان کے برعکس پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کئی بار بلاول کی اردو کا مذاق بھی اڑا چکے ہیں۔
گذشتہ ماہ پاکستان میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’آصف علی زرداری خدا کے لیے اپنے بیٹے کو اردو سکھائیں، میں نے دو سالوں میں انگریزوں کو اردو سیکھتے دیکھا ہے۔‘
بلاول بھٹو نے 2018 میں انڈیا ٹو ڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا کے وزیر اعظم کا امیج مثبت نہیں ہے۔
بلاول نے کہا تھا کہ ’گجرات کے فسادات کے بعد پاکستان میں ان کی شبیہ مثبت نہیں ہے۔ مودی پاکستان آئے تو یہ ایک اچھی علامت تھی۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں