69

انڈیا کو تیل، ہتھیاروں سمیت سب چیزیں فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں جو وہ خریدنا چاہتا ہے: روس

انڈیا پر امریکہ اور یورپی ممالک کے شدید دباؤ کے درمیان روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس انڈیا کو تیل اور ہتھیار سمیت وہ تمام چیزیں فروخت کرنے کے لیے تیار ہے جو انڈیا اس سے خریدنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک پہلے سے ہی ڈالر اور یورو کی بجائے اپنی اپنی قومی کرنسی میں ادائیگی کرتے رہے ہیں، اس لیے پابندیوں کے باوجود لین دین میں کسی دقت کا سامنا نہیں ہو نا چاہیئے۔
سرگئی لاوروف چین کے دو روزہ دورے کے بعد دلی آئے ہیں۔ انھوں نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا روس کا ایک قریبی دوست ہے اور انڈیا نے یوکرین کے بارے میں جو ’غیر جانبدار‘ موقف اختیار کیا ہے روس اس کی ستائش کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’کسی دباؤ سے ہمارے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس انڈیا کو پٹرول، گیس اور ایس۔400 میزائلوں کی سپلائی کرے گا تو انھوں نے جواب دیا ’روس انڈیا کو ہر وہ چیز سپلائی کرے گا جو وہ خریدنا چاہتا ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپنی بات چیت میں تیل اور گیس سستے داموں پر فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خریداری کے لیے ادائیگی کے طریقۂ کار پر غور و خوض بھی کیا ہے۔ جے شنکر نے روسی رہنما سے ایس۔400 مزائل سسٹم کے سامان اور سپلائی پر بھی بات کی ہے۔
ایس جے شنکر نے کہا کہ یہ ملاقات انتہائی مشکل بین الاقوامی حالات میں ہو رہی ہے۔
روسی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب ان کے دلی پہنچنے سے ذرا پہلے امریکہ کے قومی سلامتی کے نائب مشیر دلیپ سنگھ نے انڈیا کو متنبہ کیا تھا کہ وہ روس سے تجارت کرنے سے باز رہے۔ ’امریکہ یہ نہیں چاہتا کہ انڈیا روس سے تیل، گیس اور وہ تمام اشیا جن پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان کی درآمدات میں اضافہ کرے۔ جو ممالک روس پر لگائی گئی پابندیوں سے بچ کر روس سے لین دین کی کوشش کریں گے انھیں اس کے مضمرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
انھوں نے یہ بات ان خبروں کے بعد کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ انڈیا روس سے سستے داموں پر تیل اور گیس خریدنے کا معاہدہ کرنے والا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھرم میں نہیں رہنا چاہیئے کہ روس اور چین کے تعلقات میں روس کی حیثیت ایک جونئیر پارٹنر کی ہو گی۔ ’چین موجودہ بحران میں روس کے مقابلے میں جتنا مضبوط ہو گا اتنا ہی انڈیا کے لیے یہ نقصان دہ ثابت ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ کسی کے گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ اگر چین دوبارہ انڈیا کی سرحدوں پر حملہ کرتا ہے تو روس اس کے دفاع کے لیے آئے گا۔‘
ان کے اس بیان پر انڈیا کے سفارتی حلقوں میں شدید رد علم ہوا ہے۔ اقوام متحدہ میں انڈیا کے سابق سفیر سید اکبرالدین نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ’امریکی مشیر نے جو زبان استعمال کی ہے وہ سفارتی نہیں بلکہ دھمکی کی زبان ہے۔‘
خارجی امور کے تجزیہ کار زور آور دولت سنگھ نے ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’امریکی اور یورپی اہلکار اپنے برانگیختہ کرنے والے بیانات سے اپنی حدیں پار کر گئے ہیں۔
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر دلیپ سنگھ کو روس کے خلاف پابندیوں کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہ امریکی صدر جو بائڈن کے مشیر کے طور پر پر دلی آئے تاکہ انڈیا کو روس سے کسی طرح کی سودے بازے سے روکا جا سکے۔ وہ انڈیا کو یوکرین پر روسی حملے کے سلسلے میں امریکہ کا ہمنوا بنانے کے مقصد سے آئے تھے۔ انڈیا نے اقوام متحدہ میں روس کے خلاف امریکہ اور یورپی ملکوں کی سبھی قراردادوں پر ابھی تک ووٹنگ میں غیر جانبدار موقف اختیار کیا ہے۔
انڈیا پر امریکہ اور یورپی ممالک شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کو وہ یوکرین کے بحران میں روس کے خلاف پوزیشن لے۔ گزشتہ دنوں جرمنی کے قومی سلامتی کے مشیر اسی مقصد سے دلی آئے تھے۔ برطانیہ کی وزیر خارجہ لیز ٹرس کے ساتھ ایک مذاکرے میں حصہ لیتے ہوئے انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ ’تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انڈیا فطری طور پر دوسری مارکیٹ تلاش کرے گا جہاں اسے سستے دام پر تیل مل سکے۔
انڈیا اپنی ضروریات کا بیشتر تیل مشرق وسطیٰ سے خریدتا ہے۔ روس سے وہ اپنی ضروریات کا صرف ایک فیصد تیل خریدتا ہے۔ ہم امریکہ سے تقر یبآ آٹھ فیصد تیل خریدتے ہیں، یورپی ممالک روس سے 15 فیصد سے زیادہ تیل خریدتے ہیں۔ تین مہینے بعد جب اس کا تجزیہ کیا جائے گا کہ روس سے کس نے کتنا تیل خریدا تو انڈیا یقیناً ٹاپ دس ملکوں میں نہیں ہو گا۔‘
جون 2020 میں لداخ میں سرحدوں پر چین سے خونریز جھڑپ کے بعد انڈیا رفتہ رفتہ امریکہ کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ اس نے امریکہ۔جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ ’کواڈ ‘ نام کے اتحاد کی شمولیت اختیار کی۔ وہ یہ امید کر رہا تھا کہ امریکہ انڈیا کے سرحدی تنازعے میں چین کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرے گا۔ لیکن رفتہ رفتہ انڈیا کا یہ بھرم ٹوٹنے لگا۔ گزشتہ ڈیڑھ برس میں روس نے کئی مرحلوں پر چین سے کشیدگی کم کرانے میں انڈیا کی مدد کی ہے۔ روس اس کا ایک قابلِ اعتبار اور مستقل اتحادی بنا رہا ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد انڈیا میں یہ سوچ گھر کر گئی ہے کہ انڈیا کو کسی ٹکراؤ کی صورت میں اپنا دفاع خود کرنا ہو گا اور کوئی اس کی مدد کو نہیں آئے گا۔
انڈیا کو پتہ ہے کہ اگر یورپی ممالک اپنی ضروریات کا 15 فیصد تیل روس سے خریدتے رہے اور ان پر پابندیوں کا کوئی اثر نہیں ہو گا تو پھر انڈیا بھی روس سے تیل اور ہتھیار وغیرہ خریدنے کا مجاز ہے۔ انڈیا نے جو پوزیشن اختیار کی ہے اس نے امریکہ کے لیے ایک پیچیدہ صورت پیدہ کر دی ہے۔ امریکہ کی براہ راست تنبیہ کے باوجود انڈیا اپنے موقف سے ہٹتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں