70

انڈیا اور چین کیسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے اور تجارت بھی

انڈیا اور چین کیسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے اور تجارت بھی
انڈیا اور چین کے درمیان مشرقی علاقے لداخ میں سنہ 2020 میں ہونے والی کشمکش ابھی بھی موجود ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان فوج کمانڈروں کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے 16 دور ہو چکے ہیں۔
تاہم، اس دوران اچھی خبر یہی ہے کہ دونوں ممالک نے مزید مذاکرات سے انکار نہیں کیا ہے۔
17 جولائی کو دونوں ممالک کے درمیان فوجی کمانڈرز کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں تعطل ختم کرنے کا کوئی پائیدار حل تو نہیں ڈھونڈا جا سکا لیکن دونوں یہ بات یقینی ہے کہ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلے کو باہمی تعاون سے حل کیا جائے گا۔
لائن آف ایکچویل کنٹرول کے حوالے سے ابھی بھی کئی نکات پر تعطل ہے اور سرحدی تنازع ابھی بھی جاری ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی پھل پھول رہی ہے۔ اگر اعداد و شمار کو دیکھیں تو انڈیا اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات انتہائی بہتری کی سطح پر ہیں۔
چین سے درآمدات
انڈیا کی وزارتِ تجارت اور صنعت کے ڈیٹا سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات کے حوالے سے انڈیا کا چین پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
وزارت کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2021-22 کے درمیان 115 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی ہے، جو کہ گزشتہ برس 86 ارب ڈالر تھی۔
اس کے ساتھ ساتھ چین سے درآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سال انڈیا نے چین سے 94 ارب ڈالر کا سامان درآمد کیا ہے جو کہ گزشتہ برس 65.3 ارب ڈالر تھا۔
انڈیا کے میڈیا نے چین کی حکومت کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ سال 2022 کے پہلے نصف تک دونوں ممالک میں 67.08 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی۔
سیاستدان اور میڈیا کا ردِ عمل
نڈیا میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس نے وزیرِ اعظم نریندرا مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’جبکہ انڈیا اور چین کی مسلح فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، مودی دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھا رہے ہیں۔‘
کانگریس پارٹی نے اپنے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا کہ ’وزیرِ اعظم چین کو اپنی سرخ (غصے بھری) آنکھیں دکھانے کی باتیں کرتے ہیں، جس کا حقیقت میں مطلب ہے انڈیا اور چین کے درمیان 67.08 ارب ڈالر کی تجارت۔ جبکہ دوسری طرف چین سرحد پر دھمکاتا ہے۔‘
مودی کو نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مودی کا ’ انڈیا کا خود پر انحصار‘ کا نعرہ اب چین پر انحصار بن گیا ہے۔
انڈیا کے اکثر فرنٹ لائن اخبارات نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی خبر شائع کی ہے۔ کئی اخبارات نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ انڈیا تو چین سے درآمدات کو بڑھا رہا ہے لیکن انڈیا سے چین کو برآمد ہونے والی اشیا ابھی بھی نسبتاً کم ہیں۔
20 جولائی کو فائنانشیئل ڈیلی منٹ نے لکھا کہ خود پر انحصار کے نعروں کے باوجود انڈیا کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔
تجارتی خسارے کے مطلب ہے کہ انڈیا نے چین سے زیادہ چیزیں خریدی ہیں اور اسے کم بیچی ہیں۔
انڈیا کے سٹریٹیجک امور کے ماہر براہم چیلانی نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ دہلی کی کوئی سٹریٹیجک سوچ نہیں ہے۔
اپنی ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ مودی حکومت سنہ 2021 میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے درمیان تجارت میں 50 فیصد اضافے کا جواز کس طرح پیش کر سکتی ہیں، جس میں جنوری اور نومبر کے دوران 61.5 ارب ڈالر کا سرپلس (اضافہ) چین کے حق میں ہے، جو کہ اس مالی سال میں تقریباً انڈیا کے کل دفاعی اخراجات جتنا بنتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں