تذلیل انسانیت 109

انسانوں کو مرغا نہ بنائیں،تذلیل انسانیت نہ کریں

دنیا کا کوئی دستور، قانون یا رسم و رواج تذلیل انسانیت کی اجازت نہیں دیتا، دین متین میں تو اس کی اتنی سختی سے ممانعت ہے کہ کسی کو گھور کر دیکھنا بھی جائز نہیں چہ جائیکہ شہریوں کو سرعام مرغا بنا دیا جائے۔کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون کے تھانہ سول لائنز کے ایس ایچ او کا یہ فعل شاید سامنے نہ آتا اگر کوئی اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کرتا۔ بجا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک بھر میں لاک ڈائون ہے اور ایسا کرنا اشد ضروری بھی ہے کہ کورونا کا وبائی مرض انتہائی برق رفتاری سے پھیل رہا ہے لیکن اس لاک ڈائون کو موثر اور یقینی بنانے کا یہ کوئی اچھا طریقہ کار نہیں کہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عامۃ الناس کی توہین و تحقیر کی جائے، اب جبکہ ملک بھر میں لاک ڈائون ہے تو لازمی بات ہے کہ عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے رحم وکرم پر ہوں گے چنانچہ حکومت کو اس بات کا یقینی اہتمام کرنا ہو گا کہ لوگوں کو اداروں کی طرف سے معاونت ملے نہ کہ اہانت۔ عوام کو ان حالات میں بھی اپنی ضروریات زندگی کے لئے گھروں سے باہر تو نکلنا ہی پڑے گا کہ حکومتی اعلان کی پیروی میں انہوں نے اشیائے ضروریہ ذخیرہ نہیں کر رکھیں، اگر کی بھی ہیں تو سبھی نے نہیں۔ لہٰذا ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ انہیں بامر مجبوری گھر سے نکلنے پر کسی ایسے ایس ایچ او سے واسطہ پڑے، جسے ڈی آئی جی سائوتھ کراچی نےمعطل کر کے ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرنے بھیج دیا ہے۔ پنجاب پولیس کو خاص خیال رکھنا ہو گا جو اس فن میں خاصی منجھی ہوئی ہے۔ لاک ڈائون کے باعث بے چارے عوام روزگار اور وبا کے خوف کے دہرے مسائل سے دوچار ہیں، انہیں عزت و احترام دیا جائے ان کو حتی المقدور آسانیاں فراہم کی جائیں نہ کہ ان کو ذلیل کیا جائے۔ کراچی میں شہریوں کی توہین کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ ایسے کسی واقعہ کا اعادہ نہ ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں