29

امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں.روف حسن

56 / 100

پاکستان کے مشرقی محاذ پر تومعاملات فی الحال پرامن دکھائی دے رہے ہیں لیکن مغربی سرحد پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہونا بعیداز قیاس نہیں۔ افغان قیادت کے حالیہ دو انٹرویوز اور ایک تقریر میں استعمال کئے گئے سخت الفاظ سے پیدا ہونے والی صورتحال ان تلخ حالات کی جانب اشارہ کرتی ہے جن کا دونوں ممالک کو پرامن ہمسایوں کی طرح رہنے کے تناظر میں سامنا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے نتیجے میں اس کشیدگی میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

’’ڈرسپیگل‘‘ (Der Spiegel) کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افغان صدر اشرف غنی ٗ جن کو بہت سے لوگ امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں ، نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ یہ طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے اور ایک منظم طریقے سے ان کی بھرپور پشت پناہی کر تارہا ہے۔ طالبان کے لئے نہ صرف افرادی قوت بھرتی کی جاتی ہے بلکہ وہاں سے رسد اور مالی اعانت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔طالبان کے متعدد فیصلہ ساز اداروں کے نام بھی پاکستان کے شہروں کے ناموں پر رکھے گئے ہیں جہاں ان کے دفاتر ہیں۔ جریدے کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو افغان صدر نے کہاکہ ’’اب امن یا جنگ کے بارے میں حتمی فیصلے کا اختیار پاکستان کے پاس ہے‘‘۔

اسی جریدے کے ساتھ چند روز بعد گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کہاکہ افغان جمہوریہ اور طالبان دونوں پر بیرونی قوتیں اثرانداز رہی ہیں او ریہی وجہ ہے کہ افغانستان کو قیام امن کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ افغانستان میں ہونے والے منظم حملوں میں طالبان کو پاکستان کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے۔ سابق افغان صدر نے انگریز سرکار کے ذریعے دوطرفہ سلامتی کے معاہدے کے بارے میں واضح کیا کہ اس کے لئے بنیادی شرط ’’افغانستان میں مستقل قیام امن کا حصول، باہمی اعتماد سازی کی بحالی اور پاکستان کو اپنے آپ کو ایک اچھا ہمسایہ ‘‘ ثابت کرنا ہوگا۔ منفی بیانات کا سلسلہ یہاں نہیں رکا۔ افغان قومی سلامتی امور کے مشیر حمداللہ محب نے بھی انتہائی تلخ اور زہر آلود لہجے کے ساتھ الزام لگایا کہ پاکستان اپنی حدود کو وسعت دینے میں مصروف ہے۔ افغان مشیر کی جانب سے کی جانے والی انتہائی گھٹیا گفتگو پر حکومت پاکستان نے افغان حکومت سے بھرپور احتجاج کیا اور افغان قیادت پر واضح کر دیا کہ ان حالات کے بعد پاکستان افغان قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہیں کرے گا۔ اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ وہی افغان سلامتی کے مشیر ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل امریکہ سے بھی نکالا گیا تھا۔ایسا لگ رہا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اور امن کے قیام کے حصول کیلئے کام کرتے ہوئے پاکستان اس بات کو بھلا بیٹھا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کے ایک مخصوص گروہ کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس تلخی میں روز بروز شدت بھی آ رہی ہے اور اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ پاکستان کیلئے لازم ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کا انتہائی جامع اور مفصل جائزہ لیا جائے۔

ہمیں اس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ ہر محاذ پر ناکامی سے دوچار ہونے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ افغانوں کی نفسیات کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً تبصروں کے سامنے آنے سے قطع نظر میں ذاتی طور پرجانتا ہوں کہ پاکستان نے افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے ممکنہ امکانات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو تمام مسائل گفت وشنید کے ذریعے حل کرنے کے لئے مذاکرات پر آمادہ کیا جو کوئی آسان کام نہیں تھا۔ طالبان کو اس مرحلے پر مذاکرات کے لئے آمادہ کرنا ’جب وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مکمل فتح کے بہت قریب ہیں ‘ ایک انتہائی مشکل کام تھا۔ اس کے باوجود افغانستان کی پاکستان پر لفظی گولہ باری کسی صورت میں بھی کم نہیں ہوئی بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نئے حقائق کے آشکار ہونے کے ساتھ اس بات کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ طالبان افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاکے بعد بننے والی کسی بھی اتحادی حکومت میں ایک اہم فریق ہوں گے۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سب سے زیادہ طاقتور اتحادی ہوں گے جو کسی بھی حکومت کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ بات کابل میں موجود جمہوری مفاد پرستوں کے گروہ کے لئے قابل قبول نہیںہے۔ چنانچہ یہ مفاد پرست عناصر اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوں گے کہ افغانستان میں حکمرانی کی باگ ڈور طالبان کے ہاتھوں میں چلی جائے ۔ اس بات سے قطع نظرکہ ملک خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیاجائے۔

افغانستان میں مستقل قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کی کامیابی کا دارومدار افغان فریقین پر منحصر ہے۔ اگر ان فریقین کا طالبان کے ساتھ کسی معاہدہ پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر پورے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے امکانات مزید واضح ہو جائیں گے۔ اگرچہ تمام ممالک افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں لیکن اگر اس وقت افغانستان کو پرامن اور محفوظ ملک نہ بنایا گیا تو پھر بگڑتے حالات کی سب سے زیادہ قیمت بھی افغانوں کو ہی چکانا پڑے گی۔ پاکستان بھی ’’کولیٹر ل ڈیمج‘‘(Collateral Damage) کا شکارہوگا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ افغان مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کے لئے افغانستان کے اندر اور باہر موجود تمام فریقین مخلصانہ کوششیں کریں۔ ناخوشگوار رویوں اور دشنام ترازی سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں